ٹیکس گردیاں: ایک عبرت آمو ز داستان ۔۔۔ عماد بزدار

0
  • 43
    Shares

کہتے ہیں کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔ ہماری جب بد قسمتی آتی ہے تو ہم ٹیکس آفس کا رخ کرتے ہیں۔ شانِ نزول اس واقعہ کا کچھ یوں ہے کہ ہم سے سیلز ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت ایک حماقت یہ ہوگئی کہ جب ہم نے پیمنٹ چالان بھرا، تو اس چالان پر ڈیٹ غلط لکھ بیٹھا۔ گوشوارہ وقت پہ سیو کر اور ویریفائی بھی کر لیاا۔ اب جب سبمٹ کرنے کی بارے آئی تو جب ” فیڈ سی پی آر” میں جاتے ہیں تو وہاں کوئی سی پی آر نظر نہیں آتی۔

بالآخر ہم نے راست اقدام ا کا فیصلہ کیا اور پرال والوں کو کال کھڑکا دی کہ حضورِ والا ! ہمارا گوشوارہ تیار ہے پیمنٹ ہو کر آ چکی۔ سی پی آر ہمارے پاس موجود ہے لیکن گوشوارہ فائل کرتے وقت سی پی آر ایسے غآئب ہو جاتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ کہنے لگا ویٹ کریں، اپنا این ٹی این بتایئں۔ کچھ دیر انتظار کے بعد پوچھنے لگے کونسے مہینے کا گوشوارہ جمع کرانا ہے؟ میں نے کہا مارچ کا کہنے لگے ذرا چالان پر دیکھیں ٹیکس پیریڈ کونسا لکھا ہے؟ میں نے جب دیکھا تو اس پہ اپریل لکھا ہوا تھا۔ بتانے لگا یہی وجہ ہے کہ آپ کو پیمنٹ چالان نظر نہیں آ رہا۔

ہم نے پوچھا سرکار اس کا کوئی حل بھی ہے اے چارہ گر کہ نہیں؟ کہنے لگا متعلقہ آر ٹی او چلے جاؤ وہاں ڈیٹا پروسسنگ ڈیپارٹمنٹ کے نام ایک درخواست لکھ کر و وہی ڈیٹ تبدیل کر سکتے ہیں۔اب ہم درخواست بمع پیمنٹ چالان لیے۔ سوئے مقتل” چل پڑے۔ریسیپشن پر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کا پوچھا جواب ملا ایسا تو کوئی ڈٰیپارٹمنٹ نہیں ہے آپ نے پیمنٹ چالان میں تبدیلی کرانی ہے تو سیکنڈ فلور پر چلے جایئں وہاں آپ کا کام ہو جائے گا۔ہم وہاں پہنچے پوچھتے پچھاتے معلوم ہوا کسی مسٹر فیروز سے،ملنا ہوگا۔ مسٹر فیروز نے پوچھا کس لئے آنا ہوا ہم نے پوری تفصیل بتا دی۔ اس نے درخواست ہمارے ہاتھ سے لی اور پڑھنا شروع کر دیا ہم خوش ہوئے کہ بس ابھی درخواست پڑھ کر فوری ہمارے مسئلہ کو ترجیحی بنیاد پر حل کریں گے۔

فرمانے لگے میں تو انکم ٹیکس سے متعلق چالان تبدیل کرتا ہوں۔ یہ سیلز ٹیکس سے متعلق ہے آپ اس طرح کریں گراؤنڈ فلور پر چلے جایئں وہاں مسٹر توصیف ہونگے وہ آپ کا کام کر دیں گےِ فرسٹ فلور پر پہنچے سامنے والے سیٹ پہ بیٹھے ایک بندے سے پوچھا ہمیں توصیف صاحب سے ملنا ہے ؟ کہنے لگے ابھی سیٹ پر نہیں ہیں کچھ انتظار کریں۔
کچھ دیر انتظآر کے بعد پتہ چلا توصیف صاحب اپنی سیٹ پر براجمان ہو چکے۔ تو ہم ان کے پاس پہنچ گئے اور اپنا مدعا پیش کیا۔ غصے سے پوچھنے لگا آُپ کو میرا کس نے بتایا میں نے کہا فیروز صاحب ہیں انہوں نے بھیجا۔ کہنے لگے سیکنڈ فلور پر چلے جایئں۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا سر وہیں سے آ رہے ہیں کہنے لگے نہیں وہاں فیاض صاحب ہونگے ان کے پاس چلے جائیں۔

ایک بار پھر ہم نے کمر کس لی اور سیکنڈ فلور پر پہنچ گئے مختلف لوگوں سے پوچھتے پوچھتے متعلقہ آدمی کے پاس پہنچ گئے اس کو جیسے ہی مسئلہ بتایا کہنے لگے میں تو نہیں کرتا آپ اسی سیدھ میں آگے چلے جایئں جو سیکنڈ لاسٹ کمرہ آ ئے گا اس میں علی صاحب ہونگے یہ ان کا کام ہے۔

کمرے کے سامنے پہنچ گئے کھولنا چاہا دروازہ اندر سے بند۔اندر بیٹھے بندے کو کچھ دیر تک تو گونگوں کی طرح اشارے کرتے رہے باآلاخر کمالِ مہربانی سے موصوف نے دروازہ کھولا۔ اسے رقت آمیز لہجے میں اپنی داستان سنائی بے پروائی سے کہنے لگے میں تو نہیں کرتا آپ گراؤنڈ فلور چلے جایئں۔ میں نے کہا حضور گراؤنڈ فلور پہلے ہو کر آ چکا وہاں سے سیکنڈ فلور بھیجا گیا ہوں۔ کہنے لگا میں بتا رہا ہوں نا شہباز صاحب ہیں وہاں ان کے پاس جایئں اسی سے متعلقہ ہے۔ایک بار پھر نیچے کو دوڑ لگائی نیچے ریسیپشن پہ بیٹھے بندے سے ریکوئسٹ کی کہ حضور یہ صورتِ حال ہے اب مسٹر شہباز تک پہنچنا ہے۔ اس نے کال ملائی مسٹر شہباز سے بات کی میری بات کرانی چاہی تو اس نے کہا ضرورت نہیں میرے پاس بھیج دو۔ لوکیشن ہمیں ریسیپشنسٹ نے سمجھا دیا ہم وہاں پہنچے دو تین آدمی بیٹھے تھے کہنے لگے یہاں تو وہ نہیں ہوتے وہ تو سیکنڈ فلور پر ہوتے ہیں۔ تین کمرے بنے تھے ان سب میں گھس کر شہباز صاحب کا پوچھا ہر جگہ منہ کی کھانی پڑی۔

واپس ریسیپشنسٹ کے پاس آئے اور اپنی دکھ بھری داستان سنائی۔ اس نے کہا یہ سارے حرامی جان چھڑا رہے ہیں۔ آپ فرسٹ فلور پر جایئں میرا حوالہ دیں سیلز ٹیکس آڈٹ والے بیٹھے ہیں آپ کو گایئڈ کر دیں گے۔ فرسٹ فلور پہ گیا ان سے ڈسکس کیا انہوں نے کہا چیف کمشنر کے نام پر درخواست لکھیں اور نیچے گراؤنڈ فلور پر جمع کرا دیں۔ درخواست جمع کرا دی گئی۔

یہ 19 اپریل کی داستان ہے۔۔ 24 کی صبح دوبارہ گیا کہ پتہ کروں کیا بنا۔ ایک صاحب کا بتایا گیا کہ اس کے پاس ہے آپ کی درخواست۔ اچھے اخلاق کے تھے کہنے لگے ہم نے 21 تاریخ کو آپ کی درخواست کمشنر کو فارورڈ کر دی آپ ان کے سٹاف آفیسرز سے فرسٹ فلور پر جا کر پتہ کریں۔ اوپر گیا سٹاف کا پتہ کیا پہلے صاحب نے کہا ہمارے پاس تو کچھ نہیں آیا میڈم سعدیہ کونے پہ بیٹھی ہیں وہاں پتہ کریں۔ میڈم سعدیہ تک پہنچنے کے بعد اپنی کہانی سنائی اس نے ایک رجسٹر کھولا لکھائی ڈاکٹرز سے بھی خوبصورت تھی۔ حتمی اعلان یہ ہوا کہ 21 تاریخ کو گراؤںڈ فلور سے روانہ ہونے والا خط 24 تاریخ تک فرسٹ فلور تک نہیں پہنچ سکا۔ ہم پھر نیچے چیف کمشنر کے سٹاف کے پاس پہنچے۔ انہوں نے فرمایا امید ہے آج وہ درخواست پہنچ جائے گی۔ مزید آپ کو بتاؤں یہ پاکستان ہے روز آ کر یاد دہانی کرایئں ورنہ آپ کی اپلیکیشن اسی طرح پڑی رہے گی۔
اس بھائی کی نصیحت پلے سے باندھ لی ہر دوسرے دن جا کر پوچھتا کہ میری درخواست نے کتنا فاصلہ طے کیا۔ چیف کمشنر سے ہوتے ہوئے براستہ کمشنر ہماری درخواست نے ہماری انتھک جدو جہد کے بدولت ڈپٹی کمشنر سے ہوتے ہوئے متعلقہ یونٹ کا سفر کامیابی سے طے کیا۔

ہماری خوش فہمی اپنی عروج تک پہنچ چکی تھی ہمیں نہیں معلوم تھا کہ منیر نیازی کی طرح ہمیں اک اور دریا کا سامنا ہے۔ڈپٹی کمشنر کے سٹاف سے لیٹر نمبر لیکر ہم خوشی خوشی متعلقہ یونٹ تک پہنچے۔ اپنا تعارف کرایا لیٹر نمبر بتایا۔ یہ کہہ کر ہماری آس امیدوں پر پانی پھیرا گیا کہ آپ سے متعلقہ یونٹ یہ نہیں کوئی اور ہے یہ غلطی سے یہاں بھیجا گیا۔ بندے سے پوچھا کہ اب کیا بنے گا؟ فرمایا ہم واپس بھیج دیں گے یہ لیٹر جہاں سے آیا ہے وہ پھر متعلقہ یونٹ کو بھیج دیں گے۔ اب ہمارا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا معاملہ ہو گیا تھا۔ کچھ منت سماجت سے کام نکلوانے کی کوشش کی لیکن اگلا بندہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔

خیر مجبورا وہاں سے واپس ہوئے دروازہ کھول کر باہر نکلا اور سیڑھیاں اترنے لگا کہ لگا کوئی آواز دے کر بلا رہا ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو “وہی فرشتہ صفت انسان” کھڑا تھا اور کہنے لگا ذرا بات سنیں ہم خوشی خوشی پہنچ گئے۔ کہنے لگا آپ کی ریٹرن بھی لیٹ ہو رہی چکر بھی کاٹ کے تھک چکے ہونگے ہمارے دائرہ کار میں تو نہیں آتا پھر بھی اگر آپ “مطلوبہ ہدیہ۔۔۔۔۔ سکہ رائج الوقت” پیش کریں تو ہم آپ کی جان چھڑا یئں گے۔ ہم نے کہا بھائی صاحب یہ تو سیدھا سادہ قانونی کام ہے بس صرف تاریخ کی غلطی ہو گئی آپ کی مہربانی ہو گی ایسے ہی کر دیں۔ کہنے لگا نہیں بھائی یہ پاکستان ہے ہمیں آگے بھی دینا پڑتا ہے۔

ایک بار پھر وہاں سے نکلے باس کے پاس آکر معاملہ ڈسکس کیا ہدیہ پیش کرنے کی بھی اجازت لی۔ ایک جاننے والا بھی نکل آیا۔ اگلے دن اس جاننے والے کے پاس گیا اس نے کال تو کی لیکن ساتھ یہ بھی کہا نذرانہ تو پیش کرنا ہی پڑے گا۔ خیر دوبارہ وہاں پہنچا دوسرا بندہ بیٹھا تھا اسے رام کہانی دوبارہ بتایا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے میں کام کروا دونگا میرا ایک بیٹا ہے اس کی جاب لگوا دیں۔ میں نے کہا میں پتہ کرتا ہوں اگر ہمیں ضرورت ہوئی تو آپ کے بیٹے کی جاب لگوا دونگا۔ مجھ سے میرا کارڈ لیا بیٹے کا نمبر بھی لکھوایا ساتھ ساتھ کہنے لگا اپنے باس سے بھی بات کراؤ۔ باس کو میسج کر کے صورت حال سمجھا دی۔ بات بھی کرا دی۔ پھر میری درخواست لیکر اندر چلا گیا۔ کافی دیر انتظار کروانے کے بعد آ کر کہتا ہے ہمارا باس تو نہیں کر سکتا آ جایئں دوسرے یونٹ والے سے کرواتا ہوں۔ وہاں گیا اس نے کہا آپ نے اپلیکیشن کے ساتھ گوشوارہ اٹیچ نہیں کیا ہوا وہ لیکر آیئں پھر میں کر دیتا ہوں اور اپنے بگ باس کو فارورڈ بھی کر دونگا۔ بھاگ دوڑ کر گیا اور گوشوارہ لیکر آ گیا۔ اس نے جواب تیار کیا اور سائن کیا، اسسٹینٹ کو بلا کر کہا بگ باس سے سائن کروایئں۔ اسسٹینٹ نے امید طلب نظروں سے دیکھا ہم نے تبلیغی بھایئوں کے فرمان کے مطابق” نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے” آنکھیں جھکا لیں۔اسسٹینٹ نے بدلہ یوں چکا دیا کہ بگ باس سیٹ پر نہیں آپ کل آ جایئے گا۔

کہاں تک سنو گے کہاں تک سنایئں۔ اگلی صبح سیلز ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے ہمیں ایک بندے کی کال آئی کہ جلدی آ کر مجھ سے ملیں ہم فی الفور پہنچ گئے۔ پوچھنے لگے آپ کی ریٹرن سبمٹ نہیں ہوئی کیا وجہ ہے؟ اسے پوری کہانی گوش گزار کی، فرمانے لگے اب کہیں جانے کی ضرورت نہیں میں کروا دونگا آپ اس طرح کریں اپنی کمپنی کے لیٹر پیڈ پر بیانِ حلفی لکھ کر لایئں کہ آپ نے اس اماؤنٹ کا کوئی ٹیکس بینیفٹ نہیں لیا ساتھ ساتھ جن پارٹیز کا آپ نے ٹیکس کاٹا ہے ان سے بھی یہ بیانِ حلفی لکھوا کر لایئں۔
ہم نے انہیں بتانے کی کوشش کی کہ جس چالان کے لیئے آپ ہمیں بینیفٹ نہ لینے کی بیانِ حلفی لے رہے وہ ہمیں تو نظر ہی نہیں آ رہا اسی وجہ سے تو ہماری ریٹرن ابھی تک پینڈنگ ہے ایسے میں ہم یا دوسری پارٹیز کیسے بینیفٹ لے سکتے ہیں؟ کہنے لگے نہیں یہ تو آپ کو کرنا پڑے گا۔ چارو ناچار وہاں سے روانہ ہوئے۔ پرال والوں سے بھی رابطہ کیا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اس پیمنٹ چالان سے، جو کہ ہمیں آن لائن نظر نہیں آ رہا” کوئی اور بینیفٹ لے سکتا ہے؟ کہنے لگے ممکن ہی نہیں ہے۔ جب آپ کنفرم کریں گے تبھی اگلے اس چالان کو استعمال کر سکیں گے چونکہ آپ کو نظر ہی نہیں آ رہا تو اس کا بینیفٹ لینا کسی کے لیئے ممکن ہی نہیں۔

پارٹیز سے رابطہ کیا منتیں کیں باالآخر بیانِ حلفی بھی جمع کرائے۔ کہنے لگے اب آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں انتظار کریں۔ ہم تصورِ جاناں کیئے ہفتہ بیٹھے رہے پھر اسی بندے کے نمبر پر کال کی کہ ہمیں ابھی تک جواب نہیں آیا آپ ہمیں اس لیٹر کا کوئی ریفرینس نمبر دیں گے؟ فرمایا آ کر میرے اسسٹینٹ سے لے لیں۔ اگلے دن پھر پندار کا صنم کدہ ویراں کرتے ہوئے طوافِ کوئے ملامت کو چل پڑے۔ اششٹینٹ شاب نے بتایا ہم نے چیف کمشنر آفس کو بھیجا آپ فرسٹ فلور پر جایئں۔ اب جتنی گالیاں یاد تھیں سب اسے سنایئں (دل ہی دل میں) اور چیف کمشنر آفس پہنچ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آپ نے بیانِ حلفی جمع نہیں کرایا اس لیئے وہ لیٹر ہم نے آگے فارورڈ ہی نہیں کی۔ ہم لاکھ کہتے رہے لیکن وہ نہیں مانے دوبارہ بھاگ کر فرسٹ فلور پر اششٹینٹ شاب کے پاس گئے کہ بھائی صاحب یہ کیا کر دیا؟ آپ نے بیانِ حلفی ہی جمع نہیں کرایا کہنے لگا نہیں ہم نے تو بھیج دیا اس نے فائل کھول کر کنفرم کیا۔ خیر وہاں سے دوبارہ ہم گراؤنڈ فلور چیف کمشنر آفس آفس پہنچ گئے۔ اس بندے نے میرے جمع کرائے سارے ڈاکیومنٹ کھولے۔ وہاں ان کو بیانِ حلفی دکھایا تو کہنے لگے لیٹر پیڈ پر نہیں , بیانِ حلفی سٹیمپ پیپر پہ ہو۔ چپ کر کے وہاں سے نکلے۔ اگلے دن نیا بیانِ حلفی جمع کرایا۔

19 اپریل کو جمع کرائی گئی درخواست کے جواب میں 5 جون کو ہمیں ایف بی آر کی طرف سے ایک محبت نامہ موصول ہوا کہ اب آپ کو پیمنٹ چالان گوشوارہ جمع کرانے کے لیئے دستیاب ہو گا اب آپ گوشوارہ فائل کر سکتے ہیںِ

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: