قومی زبان، اردو زبان اور قومی ترانے کے مباحث: داود ظفر ندیم

0
  • 94
    Shares

یہ بات ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ پاکستان کا قومی ترانہ اردو زبان میں ہے اصل اعتراض یہ ہے کہ یہ ترانہ پاکستان کی اکثریت کے لئے جذباتی اور تاریخی وابستگی کا سامان نہیں رکھتا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم سکول میں تھے جب شہکی نے میں بھی پاکستان ہوں تم بھی پاکستان گایا تھا، ہم لڑکوں کو تب قومی ترانے کے ان مباحث کا علم نہیں تھا مگر ہمارے دوستوں کے گروپ نے جا کر ہیڈ ماسٹر کو درخواست دی کہ ہم صبح اسمبلی میں قومی ترانے کی جگہ یہ نغمہ پڑھنا چاہتے ہیں بری مشکل سے اجازت اور جب یہ نغمہ اسمبلی میں پڑھا گیا تو بچوں کا جوش و خروش ہی مختلف تھا۔ پاکستان کے تمام خطوں کے لوگوں —صوبے اس لئے استعمال نہیں کیا گیا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو پاکستان کے صوبے نہیں قرار دیا گیا— نے اردو زبان کو ایک رابطے کی زبان کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ مگر یہ لوگ قومی ترانے میں موجود ایک ہی لفظ کو باآسانی شناخت کر سکتے ہیں یہ لفظ کا ہے، باقی فارسی تراکیب اردو میں ضرور استعمال ہوتی ہے مگر پاکستان میں لوگوں کی اکثریت ان ترکیب سے ناواقف ہے، لوگ سادگی سے پوچھتے ہیں یہ کشور کون تھی جس کو حسین قرار دے کر شاد باد کہا گیا، چلیں ہم آپ کے نزدیک کم علم ہی سہی۔

سوچے سمجھنے والے کہتے ہیں کہ اردو ایک زرخیز زبان ہے جس میں دوسری زبانوں کو سمونے کی بڑی گنجائش ہے، ویسے کسی بھی زندہ زبان نے اپنے دروازے بند نہیں کئے ہوتے۔

موجودہ پاکستان میں شامل علاقوں کے لوگوں کی اکثریت میں اردو بولنے والوں کی ایک محدود تعداد کے علاوہ پڑھے لکھے لوگوں کی ایک محدود تعداد ہی اردو کو علمی اور ادبی طور پر سمجھ سکتی ہے وگرنہ میاں محمد بخش، وارث شاہ، خواجہ فرید، سچل سرمست، عبدالطیف بھٹائی، مست توکلی، رحمان بابا اور خوش حال خاں خٹک کو پڑھنے والے لوگ حیران ہو جاتے ہیں کہ پاکستانی ادب کو پڑھتے ہوئے ان علاقوں کے ادیبوں کا نام نہیں آتا بلکہ محصفی، انشا خاں انشا، جرات، داغ جیسے اساتذہ کے ناموں کو پتہ چلتا ہے جن کو پاکستانی لوگوں کی اکثریت جانتی ہی نہیں۔

جب ہم اردو کو رابطے کی زبان بنانے کی حمایت کرتے ہیں جو ہم اس کی حمایت کرتے ہیں کہ ایک آسان اور سلیس اردو نصاب کا حصہ ہو جس کو عام پاکستان اپنے روزمرہ کے معمولات کے لئے لکھ پڑھ سکے۔

انگریز نے دو بنیادوں پر اردو کو فارسی پر فوقیت دی، ایک تو یہ وجہ تھی کہ پورے وسطی ایشیا میں فارسی رائج تھی اور اس خطے کے لوگ خصوصا مسلمان فارسی کے ذریعے باہم جڑے ہوئے تھے۔ اگرچہ رسم الخط بعض علاقوں میں بدل چکا تھا مگر بولنے والے ایک دوسرے سے بات کر سکتے تھے۔ انگریز نے برصغیر کے مسلمانوں کو اس وسیع البناید زبان سے کاٹ کر الگ تھلگ کردیا، تاہم انیسویں صدی کے آغاز تک پڑھے لکھے لوگ فارسی استعمال کرتے رہے تھے، اردو کے دونوں بڑے شاعروں غالب اور اقبال نے اردو کی نسبت فارسی کو اپنے مافی الضمیر کے بیان کے لئے زیادہ موثر پایا۔

اردو زبان اب داغ اور محصفی کے چاہنے والوں کی زبان نہ رہے بلکہ شیخ ایاز، غنی خاں اور احمد راہی جیسے لوگ  بھی اپنے الفاظ اس اردو میں شامل کر سکیں۔ بلکہ آئندہ اردو کا نام بدل کر پاکستانی بھی رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد بنگالی کا مقدمہ ہی یہ تھا کہ جیسے بھارت میں وہاں کی آبادی کی اکثریت کی زبان ہندی زبان کو قومی زبان بنایا گیا ہے ایسے ہی پاکستان میں یہاں کے لوگوں کی اکثریت کی زبان کو اپنایا جائے۔ دوسری طرف آغا خاں جیسے مدبر لوگوں کی یہ رائے تھی کہ اگر پاکستان مسلم قومیت کے نام پر بنا ہے تو یہاں عربی زبان کو قومی زبان بنایا جائے کہ یہ مسلمانوں کے لئے کوئی اجنبی زبان نہیں اور اردو یا ہندی کی ضرورت متحدہ برصغیر میں تھی جہاں غیر مسلم ہم وطنوں سے ابلاغ کے لئے اردو یا ہندی کی ضرورت تھی عربی زبان اس نئے ملک کو مشرق وسطی سے جوڑ سکتی ہے اور جیسے بھارت نے برطانیہ کے جانشین کی حیثیث سے علاقے کی تمام ایسی ریاستوں پر دعوی کیا جن کا برطانیہ سے معاہدہ تھا، ہم بھی مسلم قومیت اور برطانوی جانشین کی حیثیث سے علاقے کے ان تمام علاقوں پر دعوی کر سکتے تھے جو برطانوی عمل داری میں تھے اور مسلمان تھے۔

خیر بات کسی اور طرف نکل جائے گی اور اب غیر معتلقہ بھی ہوچکی۔ اس لئے اردو پر ہی مرکوز رہتے ہیں۔ موجودہ پاکستان وادی سندھ کے علاقے کا تسلسل ہے جس کا اپنا ایک پس منظر ہے ہندوستان نے قومی ترانہ بنگالی زبان سے لیا ہے کہ یہ ان کے تاریخی اور ثقافتی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم لوگ مغربی دھن تیار کرکے نامانوس فارسی تراکیب پر مشتمل ترانے کو فخر سے اپنا بیٹھے اور ہمارے دانشور اس سے اردو کی وسعت ثابت کرنے پر تلے ہیں حالانکہ ترانے کا مقصد کسی زبان کی وسعت کو ظاہر کرنا نہیں ہوتا بلکہ قوم کے مزاج کو ظاہر کرنا ہوتا ہے یہ کسی بھی زبان مثلا بنگالی، پشتو، سندھی یا پنجابی سے لیا جا سکتا تھا۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم لوگ پاکستان کی تمام زبانوں کو قومی زبان بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور اردو زبان کو گنگا جمنا کی بجائے دریائے سندھ کے اطراف سے جوڑنا چاہتے ہیں ہم مانتے ہیں کہ زبان دوسری زبانوں سے لفظ لیتی ہے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ موجودہ اردو کا ارتقا پاکستانی زبانوں کے ساتھ ہو، پاکستانی زبانوں کے بڑے ناموں کو آسان اردو مین ترجمہ کیا جائے جس کے ساتھ ان زبانوں کے الفاظ بھی اردو زبان کا حصہ بنیں۔

اردو زبان اب داغ اور محصفی کے چاہنے والوں کی زبان نہ رہے بلکہ شیخ ایاز، غنی خاں اور احمد راہی جیسے لوگ اور ان کے بعد میں آنے والے بھی اپنے الفاظ اس اردو میں شامل کر سکیں۔ بلکہ آئندہ اردو کا نام بدل کر پاکستانی بھی رکھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: