کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان ہے؟ ببرک کارمل

0
  • 13
    Shares

ہم لوگ بابا قوم قائداعظم محمد علی جناح کو ہر چودہ اگست, چھ ستمبر گیارہ ستمبر اور پچیس دسمبر کو یاد کرتے ہیں بلکہ پہلے کی طرح پھر سے کراچی کے شہریوں سمیت بہت سے پاکستانی لوگوں نے ویک اینڈ پر قائد اعظم کے مزار پر جانا شروع کردیا ہے۔ جس کے پاس قائد اعظم کی تصویر والا نوٹ ہے وہ بھی تیس روپے کا ٹکٹ لے کر کر بابا قوم کے مزار کے اندر داخل ہو سکتا ہے اس روز ہم بھی گئے اور تمام وقت مزار کے ارد گرد گھوم پھر کرگزار دیا۔ ویسے اکثر ہی بابائے قوم کے مزار پہ گئے لیکن چورہ اگست کو ایک میلہ سا لگتا ہے جس میں ملک کے اعلی قائدین آتے ہیں ان قائدین میں مقامی ایم، پی اے، ایم،این کے ساتھ وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان گورنر اور وزیر اعلی اپنی اپنی باری میں گلدستہ اور پھول نچھاور کرکے واپس اپنے کرسی پہ براجمان ہو جاتے ہیں۔

اس روز ہم مزار قائد پہ تھے کہ اچانک سیکورٹی سخت ہوگئی۔ ابھی ہم نے جوتوں کے ٹوکن لے کر اوپر مزار کی طرف جا ہی رہے تھےکہ ہمیں پیچھے جانے کا حکم ملا اور ساتھ میں سینکڑوں اور لوگ بھی تھے اور ان کو بھی ایک کونے میں دھکیل دیا گیا تو ہم وقت گزاری کے لئے بابائے قوم کا میوزیم دیکھنے چل دیئے قائداعظم محمد علی جناح کے میوزیم میں داخل ہونے کی فیس پچاس روپے ہے مطوبہ فیس دے کر ہم اندر داخل ہوگئے جہاں پہ قائداعظم کے استعمال کی تمام سامان شیشے میں بند رکھے ہوئےتھے جس بھی بابائے قوم کی کار بھی کھڑی ہوئی تھی ساتھ ہی ایک کونے میں مختصر سا نوٹ لگا ہوا تھا کہ یہاں فوٹو کھینچنے پہ پابندی ہے۔ اس میوزیم میں جگہ جگہ قائد اعظم کی تاریخ ترتیب دی ہوئی تھی جس کے ساتھ ساتھ ہم بھی تاریخ کے جھروکوں سے ماضی میں جھانکنے لگے۔

قائد اعظم 25 دسمبر1987 کو کراچی میں پیدا ہوئے آپ کانام محمد علی رکھا گیا بچپن اور لڑکپن میں قائد اعظم کو کرکٹ اور اسنوکر میں بہت دلچسپی تھی۔ کراچی میں مکمل کرتے ہی قائداعظم اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے انگلینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے داخلہ لیا۔ عظیم قانون دان کی ڈگری لی۔ جس کے بعد پاکستان واپس لوٹ آئے اور کراچی کی بجائے بمبئی کو اپنا مسکن بنا لیا اور وہاں پر قانون کی پریکٹس شروع کر دی اور ایک روز قائد اعظم برصغیر کے بااثر وکلاء میں سے ایک نامور وکیل قرار پائے۔ 1910ء میں آپ بمبئی سے اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ آپ نے اپنی سیاست کے لئے کانگریس کو چنا اور 1913 میں میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور1920 میں کانگریس سے استعفیٰ دے دیا اور1929 میں قائد اعظم نے اپنے چودہ نکات پیش کیے۔ 1930 میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔ 1939 میں آخر کار انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ دے دی 1940 میں قرارداد لاہور منظور کی گئی جسے قرارداد پاکستان بھی کہا گیا قائد اعظم نے فرمایا کہ “پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا مسلمان ہوا تھا۔” یہ تاریخ پڑھنےکے بعد ہم بلوچستان آئے اور پاکستان کے بارے میں کچھ معلومات اکھٹےکرنے کی کوشش کی۔

 آج بھی کچھ بلوچستان کےجھریاں شدہ چہرے اس جدوجہد کے گواہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت کے لوگ انتہائی متحد محب وطن اور پرجوش ہوتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد وقت کم تھا اور مقابلہ سخت تھا ابھی انگریز اور ہندو کے دیے ہوئے زخم تازہ تھے کہ اللہ کو ہمارا ایک اور امتحان لینا مقصود ہوا اور 11 ستمبر 1948 کو قائد اعظم خالق حقیقی سے جا ملے- قائد اعظم کی رحلت سے اس قوم کو بھاری نقصان پہنچا۔

14 اگست 1947 کو ایک عظیم جدوجہد کے بعد یہ ملک وجود میں آیا۔ تحریک پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا وطن ہو جہاں مسلمان رہ کہ آزادانہ طور پر بھرپور زندگی گزار سکیں جہاں لوگ اعلی اخلاق و کردار کے ساتھ اپنے حقوق و فرائض کو بہترین طریقے سے ادائیگی کر کے زندگی بسر کر سکیں۔

ایک اور ماضی گزیدہ نے اپنی بات میں قائد اعظم کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ” مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں؟ مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے پہلے ہی وضاحت کیساتھ بیان کردیا تھا۔ “الحمدللہ قرآن پاک ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اورقیامت تک موجود رہے گا۔ آج ترقی یافتہ پاکستان کا نعرہ لگانے والے قائد کے پاکستان اور انکے راہنما اصولوں کو بھول گئے۔ جنہوں نے مسلمانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور دین اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے الگ خودمختار ریاست قائم کرنے کے لئے انتھک جدوجہد کی تھی۔ اور ہمیں آزاد ریاست دے گئے۔ اس مملکت خداداد پاکستان میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے یہ وہ ملک ہے جسے اللہ نے دنیا کے بہترین معدنی وسائل سے نوازا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس کے پاس بہترین چار موسم موجود ہیں یہ وہ ملک ہے جس کے پاس دنیا کے بہترین تازہ پھل موجود ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں کی مٹی انتہائی زرخیز ہے جو سونا اگلتی ہے۔ آخر کمی کس بات کی ہے؟ بس دہشت گردی کے خاتمے کی، قوم کا مال لوٹ کے فرار ہونے والوں کو پکڑنے کی، رشوت کے بازار کو ختم کرنے کی، بابائے قوم کے فرمان زاد راہ بنا لینے کی۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ ان شاء اللہ اور پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔ پاکستان پائندہ باد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: