یومِ آزادی: ایک زاویہ فکر ۔۔۔ ذوالقرنین سرور

0
  • 80
    Shares

آزادی کا تصور ہی کتنا خوش کن اور دل کے تاروں کو چھونے والا ہے کہ اس لفظ کے آتے ہی چہروں کا رنگ کھل اٹھتا ہے۔ یہ بے سبب رنگ ایک مسکراہٹ میں ڈھلتا ہے تو دنیا کیسی اجلی اجلی محسوس ہوتی  ہے۔ اگست کا مہینہ ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ آزادی و نجات کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں اسلاف کی کاوشوں اور قربانیوں کے سبب، ایک الگ ریاست کا جو قیام وجود میں آیا۔ آج پورے ملک کو اس کی خوشی مناتے دیکھا جا سکتا ہے۔ گو کہ تجدید اچھی چیز ہے پھر بھی میں ان طویل کاوشوں اور قربانیوں کا یہاں تذکرہ نہیں کروں گا جوکہ اس ملک کی بنیاد ٹھہری ہیں۔ اور نہ ہی قیام پاکستان کے فوراً بعد کے مسائل کا اختصاریہ بیان کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔ قیام پاکستان کو ستر برس ہوئے اور ان ستر برسوں کی داستاں ہمارے سامنے  ہے۔ اس کتاب کا ورق ورق خون سے بھرا ہوا ہے۔ ملک کے قیام سے لیکر اب تک عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے جو مسائل تھے مگر ان کے حل کے لیے وہ سنجیدہ کاوشیں نہیں کی گئیں جو پہلے دن سے کی جانی چاہیے تھیں۔ آج بھی مائیں بیٹوں کو گھر سے باہر نکالتے ہوئے ڈرتی ہیں۔ آج بھی بھرے بازار میں بیٹیوں کے سر سے چادریں کھینچی جاتی ہیں۔ آج بھی طاقت کا قانون چلتا ہے۔کمزور کو سڑک پر کاٹ دیا جاتا ہے۔ آج بھی مفلس کا بچہ بھوکا سوتا ہے۔ امیر وغریب جیسے ناشائستہ الفاظ نہ صرف یہ کہ ہماری گفتگو میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ درحقیقت معاشرتی طور پر ہم ان دو گروہوں کے الگ الگ وجود کو ذہنی اور عملی طور پر قبول کر چکے ہیں۔

ہمارا آج کا نوجوان جس اچھی زندگی کا متلاشی ہے۔ اس میں معاشرہ شامل نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہماری اچھی زندگی کی تعریف بہت شرمناک حد تک گر چکی ہے۔ اب یہ معاشرہ ہمارا گھر نہیں رہا ہے۔ دوسرے کی خوشی ہماری خوشی نہیں رہی ہے۔ دوسرے کا غم ہمارا غم نہیں رہا ہے۔ وہ جو انسان کا انسان سے تعلق تھا وہ اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ اب کوئی ایک بات، یا دو چار ملاقاتیں اس تعلق کو کھڑا کر کےچلانا تو دور کی بات بنا سہارے کے بٹھا بھی نہیں سکتی ہیں۔

عزیزان وطن! میں یہاں قنوطیت اور یاسیت کی باتیں کرنا نہیں چاہتا۔ میں آپ کو ستر برس کے ان الجھے مسائل کی فہرست گنوانے نہیں آیا جو آج بھی کسی سلجھاؤ کی امید لیے دانشوروں کے دفتروں میں کہیں دب گئی ہے۔ اور نہ ہی میں معاشرے کے کسی ایک پہلو یا گروہ پر کوئی بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ اپنے گردو پیش پر نگاہ ڈالیں تو آپ کو بہت کم کام ایسے ملیں گے جن کو معاشرتی سطح پر سراہا جا سکے۔ اور بہت ہی قلیل مقدار میں ایسے لوگ ملیں گے جو کہ معاشرتی و سماجی سطح پر پیروی کیے جانےاور سراہے جانے کے حق دار ہوں گے۔

خوشیو ں کے ان لمحات میں آپ لوگوں سے صرف یہی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ان خوشیوں کے دائرہ کو بڑھا دیجیے۔ معاشرے کا وہ فرد بنیے کہ آپ کی مثال دی جا سکے نہ کہ لوگ آپ کو مثال دیں ۔ اپنے افکار کا اپنی توجہ کا دائرہ کار صرف چند افراد تک محدود مت کیجیے۔ اس معاشرے کا ہر فرد آپ کی توجہ کا طالب ہے۔ اور اس ملک کو گھر سمجھ کر تمام لسانی و علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر مملکت کے فروغ و ترقی کی کوشش کریں۔ مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑ رہا ہے کہ سیاسی تعصبات سے بھی بالاتر ہونے کی ضرورت ہے۔

آئیے! ہم سب اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ یوم آزادی کے تصور کو ان چند لمحوں تک محدود نہیں کرتے۔ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کاموں کی بنیاد رکھیں گے جو معاشرتی سطح پر سراہے جا سکیں۔ ہم خوشیاں بانٹیں گے۔ کسی رنگ میں، کسی روپ میں۔ہم محبت کو عام کریں گے۔ ہم مسکراہٹ کو عام کریں گے۔ ہم کدورتوں سے دور رہیں گے۔ ہم سے اب نفرتوں کا پرچار نہ ہوگا۔ ہماری باتیں محض وقت گزاری نہ ہوں گی۔ ہمارے خواب دن کے اجالے میں بھی قائم رہیں گے۔ ہم دنیا پر ثابت کریں گے کہ ہم انبوہ نہیں ہیں۔ ہمارے خیالات و نظریات کسی گردباد سے اڑائے نہیں جا سکتے۔ ان کی بنیاد ان پختہ سلوں پر ہے جن کی آبیاری قربانیوں کے خون سے کی گئی ہے۔ ان کو وقتی مفادات کے پانی سے ڈبویا نہیں جا سکتا۔

اللہ پاک پاکستان کو یوں ہی قائم و دائم رکھے۔ اور ہم سب کو اس ملک کا ایک کارآمد اور محبت کرنے والا فرد بنائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: