جی ٹی روڈ یاترا : بے رنگ بے بو بے ذائقہ ۔۔۔ چوہدری بابر عباس

0
  • 101
    Shares

1993 میں نواز شریف اقتدار سے علیحدہ کر دیئے جانے کے بعد پرائم منسٹر ہاوس سے چوہدری شجاعت کے گھر منتقل ہو چکے تھے۔ اگلے روز 19 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی اجلاس جسکی صدارت میاں صاحب کی نااہلی کے بعد سنئیر نائب صدر عبدالستار لالیکا نے کی۔ یقینا اس معزولی کے اسباب آج کی نااہلی سے مختلف تھے، اس اجلاس میں نواز شریف کو متفقہ طور پر پارٹی کا صدر منتخب کر لیا گیا۔

اسکے فورا بعد نواز شریف لاہور جانا چاہتے تھے۔ کچھ قریبی وفادار ساتھیوں کے مشورے پر حالات کے پیش نظر وہ یہ سفر بزریعہ ہوائ جہاز کرنا چاہتے تھے۔ جس پر اس وقت بقول شیخ رشید احمد، نے ایک احتجاجی لہجے میں میاں صاحب سے کہا کہ آپ ان لوگوں کے مشورے لینا چھوڑ دیں جنہوں آپ کو یہاں تک پہنچایا۔ اور اپنی معروف لال حویلی میں ایک عوامی خطاب کی پیشکش کی اور رائے دی کہ اسکے بعد عوام سے جگہ جگہ خطاب کرتے ہوئے بذریعہ ٹرین لاہور جائیں۔

ٹیسٹ کیس کے طور پر لال حویلی میں میاں نواز شریف کے خطاب پر عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا جس سے میاں صاحب کا حوصلہ بلند ہوا۔ اور وہ مزید چوہدری شجاعت اور جنرل مجید ملک مرحوم کی تائید کے ساتھ ٹرین مارچ پر آمادہ ہو گئے۔

نواز شریف جب اس مارچ کے آغاز کے لئے ریلوے سٹیشن جانے کے لئے فیض آباد پہنچے تو لوگوں کا ایک جم غفیر موجود پایا اور ریلوے سٹیشن تک یہ ہی پر ہجوم سماں رہا۔ اور لاہور تک یہ ایک کامیاب ٹرین مارچ کہلائی۔ اور میاں صاحب کی طرف سے عدالتی جنگ کے ساتھ ساتھ عوامی طاقت کا مظاہرہ بھی جاری رہا۔ عدالت میں میاں صاحب کے وکیل خالد انور نے بہترین مقدمہ لڑا اور اور اس کیس کو سننے والے بینچ میں شامل اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور میاں صاحب کے بیچ پائ جانے والی کشیدگی کے باوجود اس بینچ نے میاں صاحب کے حق میں فیصلہ دیا اور مسلم لیگ نون کی حکومت بحال کر دی گئ۔ یہ خوشخبری ملنے کے وقت بھی میاں صاحب چوہدری شجاعت حسین کے گھر پر ہی موجود تھے، جس پر میاں صاحب دیر تک شکرانے کے نفل ادا کرتے رہے بلکہ بعد ازاں شاہ فیصل مسجد بھی نوافل ادا کرنے تشریف لے گئے۔

مگر یہ بیل منڈے نہ چڑھ سکی۔ اور میاں صاحب کےاقتدار کا حدود اربعہ ان دنوں گویا، “حکومت شاہ عالم دلی تا پالم” کے مصداق فیض آباد تک ہی محدود جانا جانے لگا۔ نتیجتا حریص اقتدار اور عدوان حریص کو کوچہ اقتدار سے ایک ہی سواری پر نکلنا پڑا۔

برعکس اور غیر مطلوب نتائج یقینا اپنے پیچھے ایک بہترین تجربہ چھوڑتے ہیں۔ زکاوت اور بیدار مغزی مگر شرط ہے۔ واقعہ کسی نصب العین یا قومی سیاست و قیادت کا ہو تو بغیر نظریہ کے سانحات کا موجب ہے۔ جس کے قوموں کی تقدیر پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

28 جولائ 2017 کا دن ایک بار پھر یہ ثابت نہ کر سکا کہ ماضی سے کچھ سیکھا گیا ہے اور زمانی و عمرانی تغیر کے ابدی اصول نے لغت میں کوئی جگہ پائی ہے۔
پرانی مشق الا سیاق و سباق میں کچھ تبدیلی ___پانامہ پیرز کا کرسی لیوا جن جو تھیلے سے باہر نکلا تو سڑک پر لا رلایا__!

اعادة روایت ہونے کے باوجود اس بار کچھ” اخلاقی پہلووں ” میں ماضی کے بر عکس ضرور ترقی محسوس ہوئی ہے

اس بار کسی اور پس منظر کے ساتھ نا اہل ہونے کے بعد کسی لالیکا نے نہیں بلکہ خود میاں صاحب نے ہر اجلاس کی صدارت کی ہے اور نتیجتا ڈاکٹر یاسمین راشد کو میاں صاحب کے لئے پارٹی صدارت سے بھی رخصتی کے لئے عدالت جانا پڑا۔ ایک عبوری وزیراعظم کا ایک نااہل وزیراعظم کو بغل گیر ہو کر رخصت کرنا بھی ایک عوام کے امین مقدس ایون کے سربراہ کے عہدے کی تعظیم کی عمدہ مثال رہی۔ پانامہ پیپرز پر آپکو پوری سہولت کے ساتھ مناسب سے زیادہ وقت فراہم کیا گیا۔ عدالت کے دو اور تین کی نسبت سے آنے والے فیصلے پر پہلے شادیانے بجائے گئے اور آپکی دیانت کی یہ ایک فتح گردانی گئ، اور پھر اسی عدالت پر سازش کا حصہ بننے الزام اور طعن تشنیع سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا۔ اور حکومتی اعلی اداروں کو بے توقیر کرنے کی ایک اعلی مثال قائم کی گئ۔ جس نے اپنے اولین فیصلے کے بعد بھی مزید دو ماہ آپکو فراہم کئے ___ مگر آپ اپنی بے گناہی ثابت نہ کر سکے۔ مزید براں عبوری وزیراعظم صاحب کو کرسی پے بیٹھتے ہی باسٹھ تریسٹھ میں ابہام بھی نظر آنے لگے۔

عباسی صاحب کو اتنی جلدی نہیں کرنی چاہیئے۔ اپ کے قائد بھی خاصی عجلت میں 58 ٹو بی کے پیچھے گئے تھے۔
جیسی اعلی آئینی اور اخلاقی مثالیں قائم کی گئ ہیں۔

جب یہ عدالت ماضی میں نہ صرف آپکی حکومت بحال کرتی ہے بلکہ اس بار بھی آپ کا اپنا دانشور اور تجربہ کار کیمپ اسکے دوتین کی نسبت والے اولین فیصلے کو آپکی کامیابی سمجھتا ہے تو پھر اسی عدالت کے فیصلے پر جس میں کوئ سجاد علی شاہ بھی موجود نہیں تھا۔

آپ ملک کے اداروں اور عوام سے کونسا انتقام لینے ایک بے بو بے رنگ اور بے ذائقہ گرینڈ ٹرنک روڈ یاترا پر چل پڑے ہیں اور آدھے پنجاب کی آبادی کے کاروبار زندگی کو آپ نے چار دن تک بلا کسی ادنی جواز مفلوج کئے رکھا ہے۔

جس شہر نے ماضی میں آپکو ٹرین مارچ کے لئے حوصلہ دیا وہی راولپنڈی شہر ترانوے کے فیض آباد والا منظر پیش نہ کر سکا۔ دو لاکھ مجمع کے جمع کرنے کے دعووں کی کلی کمیٹی چوک میں کھل گئ۔ بلکہ کیا عجب گردش ہے ایام کی کہ اسی شہر سے ٹرین مارچ کے آغاز کا سہولت کار آج آپ پر مدعی ہے۔ جہلم تک آپکی سواری کسی عوامی جتھے کا سامنا کرنے سے تو قاصر رہی البتہ اپنے پیچھے ایک معصوم کی بلی چڑھاتے ہوئے اپنی صولت گری کے سرخ نشان ضرور چھوڑ گئی۔ جسے آپ شرمناک انداز میں اپنی جمہوریت میں ملفوف استبدایت کا پہلا شہید قرار دے رہے ہیں۔ اس سے آگے آپکا محلہ ہے اور اس روڈ پر واقع شہروں میں کل پندرہ میں سے گجرات شہر کے علاوہ آپ کے چودہ ارکان اسمبلی کے حلقے ہیں، کے باوجود بھی آپکو آپ کے شایان شان مجمع میسر نہ آسکا اور آپکے کنٹینر سے آبدیدہ آواز ہی سنائ دی کہ مجھے کیوں نکالا گیا ؟ جس پر قوم بھلا کیوں سر دھنے گی __!

لاہور آپ کا پایہء تخت ہے یقینا ہزاروں کی تعداد میں فوج ظفر موج بھی من چاہی تعداد تک بڑھائ جا سکتی ہے، جسکا کوئ البتہ آئینی جواز نہیں ہے۔ تاہم ہوم گراونڈ لاہور کا آپکو کچھ فائدہ ضرور ہوا۔ یہ سفری مہم آپکے لئے کس حد اور کس لحاظ سے کتنی بار آور ثابت ہو سکتی ہے، اس حوالے سے کچھ تو آپ اپنی دور اندیشی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ اپنی تقریروں میں کر چکے ہیں۔ “ان پانچ نےمجھے نا اہل کر دیا”__وہ محض پانچ فرد نہیں ہیں میاں صاحب۔ میرے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے نا اہل کر دیا ___نہیں میاں صاحب بات اتنی بھی سادہ نہیں 28 ریفرنس بھی نیب میں موجود ہیں۔ اسمبلی فلور پر کذب بیانی کو بھی آپ جھٹلا نہیں سکتے۔ عوام نے یہ ناول بڑی تفصیل اور توجہ سے سال بھر پڑا ہے اور گاڈ فادر سے تشبیہ کھاتے اس ناول کو اب آپ اپنی مرضی کا بھولا بھالا سا اختتامیہ دینے کی کو شش نہیں کر سکتے۔ بہت نرمی برتی گئی ہے آپ کے ساتھ۔

اس بار نہ جانے کس ہمدرد نے آپکو اس دہکتے سورج کے سوا نیزے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہو سکتا ہے اس سفر سے آپ کو آپ کے دامن پر ایک معصوم کے خون کے داغ اور مرحب کے خطاب کے علا وہ کچھ حاصل ہوا ہو جو اس کچھ مخصوص chanting کے علاوہ والیم دس کے کھولنے کا مطالبہ کرنے والی جاہل اور احمق عوام کو سمجھ نہ آیا ہو۔
میاں صاحب آپکا قد کیوں نہ بڑھتا اگر اس بار بھی آپ شاہ فیصل مسجد جاتے اور صبر اور استعانت کے لئے رب سے ملتجی ہوتے، آپ اس فیصلہ کو دل سے قبول کرتے اور احترام دیتے اور قبولیت کا یہ ہی پیغام اپنے وٹر کو دیتے، آپ بے گناہ ہیں تو اتنا اضمحال و اضطراب کیوں ؟ثابت قدم رہتے نہ کہ عدلیہ اور دوسرے ملکی اداروں کو یوں چوک چوراہوں پر بے توقیر کرتے، نہ ہی غیر ملکی میڈیا بلخصوص بھارت اور خلیجی ممالک جن کے لئے پاکستان سے زیادہ آپ محبوب ہیں آور آپکو پاکستان سے زیادہ آپکے شراکت دار اور محسنین عزیز ہیں، کو ملکی اداروں کو یوں بے توقیر کرنے کی اجازت دیتے۔ گویا آپ کے لئے پاکستان اور اسکا قومی وقار آپ کے اقتدار میں ہونے سے ہی مشروط ہے۔ اور نہ ہی کسی نا معلوم سازش کا لایعنی راگ الاپتے، جبکہ آپ جانتے ہیں کہ ترانوے میں غلام اسحاق خان کےساتھ نہ چل سکنے پر عوام سے رجوع کرنے کی رائے سے کیسے ایک تیر سے تین شکار گرائے گئے آپکو اور صدر کو گھر جانا پڑا اور محدود سی بی بی کو ئ نظیر قائم نہ کر سکیں۔ اگرچہ جنرل وحید کاکڑ آپکے لئے موجودہ عدالت سے کم حلیم اور ممدو معاون ثابت نہ ہوئے تھے۔
آپ پر عوام آج تک کی سیاست سے پہلے اپنی سادہ لوحی کے مرہون اعتماد کرتے آئے ہیں، مگر کیوں ہر بار آپ سے نبھا نہ ہوا ؟بہترین لیڈر کو صرف سیاسی داو پیچ سے ہی نہیں بلکہ وقت اور قوم کی نفسیات سے بھی آشنا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ نوے کی نہیں بلکہ آج کے اعدادو شمار کے مطابق دو سو ستاسٹھ فیصد شرح خواندگی میں اضافے کی حامل قوم ہے اور نوے میں پیدا ہونے والی یہ نسل آج جوان ہو چکی ہے اور یہ خواندگی کے اعدادو شمار اسی نسل کے ہیں، جسکا نقصان سیاسی طور پر آپ دو باری دار جماعتوں کو ہی ہوا ہے جس میں آپ میاں صاحب اس وقت زیادہ حصہ وصول کر رہے ہیں۔

ضرورت تو متنوع سیاسی قائدانہ بصیرت کی تھی، مگر اتفاقی اور حادثاتی واقعات کب دوام کی ضمانت دیتے ہیں۔

اس بار تو نہ صرف عدالت نے آپکو پورا موقع فراہم کیا بلکہ آپکی طرف سے بہت کچھ برداشت بھی کیا اور آپ کے ساتھ انتہائ نرمی برتی بلکہ المعروف “انہوں ” نے بھی آپکو اس بار پورا موقع دیا البتہ آپکے “ان ” کے لئے فراہم کردہ مواقع رنگ نہ لاسکے۔ اور نہ ہی وہ خفیہ بیرونی ہاتھ اس بار اپنے شارٹ کٹ والے پتے کسی غیر آئینی حکومت کو پھینکنے میں کامیاب ہو پا رہے ہیں۔

ان چار سالوں کی حکومتی کارکردگی اور آج کی آپ کو درپیش صورت حال کے پیش نظر آپ اور آپکی سیاست کہاں کھڑی ہے یقینا آپ جان چکے ہوں گے۔ ورنہ آج کا یہ نواز شریف جو دو لاکھ کا مجمع اکھٹا کرنے کے دعوے دار حنیفوں، طلالوں، دانیالوں، کبھی مرحب اور کبھی قائد جمہوریت کے خطاب دینے والے فصلی ہمدردوں کے جھرمٹ میں گھرا ہوا ہے، اکتوبر 2007 والے لندن ٹو اسلام آباد انقلاب فرانس و ایران کا پیامبر بناکر پیش والے وفاداروں میں گھرے ہوئے نواز شریف سے پوچھ سکتا ہے کہ اگر شہزادہ مقرن کا طیارہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر اس کا منتظر نہ ہوتا تو ائیر پورٹ کے باہر کتنے لیگی لیڈر اور کارکن اس نواز شریف کے استقبال کے لئے موجود تھے؟

مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: