کیوں دیر گئے گھر آئے ہو: غفران عباسی

0
  • 38
    Shares

ایک عمر ہوتی  ہے جب انسان کو رات گئے گھر آنا اچھا لگتا ہے جو کہ باقی گھر والوں کو سخت نا پسند ہوتا ہے ۔ مشرقی روایات کے منافی اس عمل کو ہماری زبان میں آوارہ گردی کہتے ہیں۔ گو کہ ہم نے بھی اس گنگا میں ہاتھ دھوئے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم اس گنگا میں نہاتے آئے ہیں ایسے میں متعدد دفعہ درگت بھی بنی لیکن جناب عرض یہ ہے کہ ہماری دم بلکل بھی ٹیرھی نہیں  ہے لہذا اپنی طبیعت کو تبدیل کرنے میں ہی عافیت جانی ۔

کیا ہےنا ہم جسمانی طور پر پہلوان واقع ہوئے ہیں اسی وجہ سے تواضع سے بچنے کے لیے وقت پر آمد کو یقینی بنایا ۔ یہاں چند سفارشات ان لوگوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں جو رات کو دیر سے گھر آتے ہیں اسی حوالے سے پہلا اور سنہری اصول یہ ہے کہ دھیمے دھیمے قدموں کا استعمال کریئے تاکہ آپ خود اپنے قدموں کی چاپ سنائی نہ دے ۔ ایسے جوتے پہننے سے گریز کریں جو کسی بھی قسم کی آواز کو وجود بخشیں۔ دروازے پر پہنچچتے ہی کچھ دیر رکییں اور رکے ہوئے سانس کو دوبارہ بحال کریں تاہم یاد رہے سانس لیتے ہوئے آپ کی دل کی دھڑکن معمول کے مطابق دھڑکے، دھڑکن کا معمول سے تیز ہو جانا مستقبل قریب میں ہونے والی کٹ کا اندیشہ بھی ہو سکتا ہے۔ برقی گھنٹی کے استعمال سے بلکل اجتناب کیجیئے گا ایسے عمل سے بڑوں کی نیند میں خلل پڑھ سکتا ہے جو کہ آپ کے سکون میں خلل ڈالنے کے لئے کافی ہے ۔ ایسے میں مواصلاتی نظام کی مدد سےگھر میں موجود اپنے سے چھوٹوں کو عرضی بھیجئے۔

ایک بات ذہن نشین کر لیں آپ کا لہجہ عاجزانہ اور انکسارنہ ہونا چاہیے اس کے پیشِ نظر گھر میں چھوٹوں سے دوستی رکھیئے نیز چھوٹے موٹے تحائف دیتے رہا کریں۔ دروازہ کھل جائے تو ٹھنڈی آہ بھرتے داخل ہوں وگرنہ ہلکی سی دستک دیں۔ داخل ہوتے ہی سوالات کا جواب نہ دیں بحث سے اجتناب کرتے ہوئے خاموشی سے دو چار تھپڑ کھا کر اپنے کمرے میں تشریف لے جائیں ۔ حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے اگر کھانا مل جائےتو شکر ادا کریں وگرنہ خاموشی سے بستر پر چلے جائیں ایسے میں بھوکے رات گزارنے سے بہتر آتے ہوئے باہر سے کھانا کھا کر گھر آہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: