قومی پرچم اور ہماری ذمہ داری: مدثر ظفر

0
  • 47
    Shares

قومی پرچم اور ہماری ذمہ داری جب سے ہوش سنبھالا ہر جشن آزادی پر والد صاحب کا طریق دیکھا کہ 14 اگست والے دن علی الصبح صندوق سے دھلا ہوا سلیقے سے تہہ کیا ہوا قومی پرچم نکالتے اورچھت پر لہرا دیتے جو مغرب کے وقت اتارلیتے۔ دھونے کی ضرورت ہوتی تو دھلوالیتے اور پھر ایک سال کے لیے اسی طرح سلیقہ سے تہہ کر کے دوبارہ صندوق میں رکھ دیا جاتا قطع نظر اس کے کہ ان کی یہ بات کہاں تک درست ہے ایک بات ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ قومی پرچم پر رات نہیں پڑنی چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ قومی پرچم کی تکریم بچپن سے ہی میرے دل میں گھر کرگئی۔ ہمیں جھنڈیاں لگانے کی اجازت اس شرط پر دی جاتی کہ زمین پر کوئی جھنڈی نظر نہ آئے بصورت دیگر سزا ملے گی۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے گھر اور محلہ میں سال کی تیسری عید 14 اگست کو ہو تی تھی جس میں بچے بڑے بوڑھے سب شریک ہوتے، میرے اسکول لے جانے کے لیے ابا نے ایک جھنڈا علیحدہ سے لے رکھا تھا جو سال بعد مجھے ایک دن کے لیے ملتا تھا۔
بچپن کی اس تربیت کا اثر ہے کہ قومی پرچم کی حرمت دل میں راسخ ہےاور ہر بار 14 اگست پر جشن آزادی منانے کے لیے استعمال ہونے والے جھنڈے جھنڈیاں سڑک پر جابجا ندی نالوں کچرے کے ڈھیروں پر مٹی میں ملیا میٹ ہوتے دیکھ طبیعت سخت مکدر ہوجاتی ہے اور قومی پرچم کی اس بے حرمتی پر دل سخت تنگ ہوتا ہے۔

جھنڈے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود حضرت انسان، حتمی طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ جھنڈے کی ابتداء کب اور کہاں سے ہو ئی، جھنڈا ہمیشہ سے قوموں قبیلوں کے تشخص کی علامت رہا ہے۔ مذھبی رسومات کی ادائیگی ہو یا جنگ و جدل، کھیل کود کے میدانوں سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک جھنڈے کو اپنی شناخت کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مذھبی رسومات میں نیزجنگوں میں جھنڈے کا سر بلند رہنا ازحد ضروری ہوتا۔

ہر دور میں جھنڈے کا زمین پر گرنا نہایت بد شگون تصور کیا جاتاتھا۔ جنگوں میں جھنڈے کا سرنگوں ہونا شکست تسلیم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے تاریخ میں مذکور سیاسی و مذھبی جنگوں میں محض جھنڈے کو سربلند رکھنے کے رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر رسول دو عالم ﷺ کی زندگی میں سن ۸ ھجری میں جنگ موتہ کا وقوعہ پیش آیا جس کے لیئے سرکار دوعالم نے تین علم بردار مقرر فرمائے۔ ان میں سے ایک حضرت جعفر طیاربھی تھے جنہوں نے پرچم اسلام کی حفاظت کا وہ نمونہ دکھایا جو پوری دنیاکے لئے ایک مثال ہے۔ لڑائی کے دوران آپ کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو آپ نے جھنڈے کو اپنے بائیں ہاتھ میں تھام لیا،جب بایاں بھی کٹ گیا تو آپؓ نے جھنڈے کو کٹے ہاتھوں سے اپنے سینے سے لگا لیا مگر جھنڈے کو زمین پر گرنے نہ دیا اور اسی حالت میں آپؓ نے جام شہادت نوش کیا پرچم آپ کے سینے پر تھا۔ (سیرۃ النبویہ از ابن ھشام جلد ۴ صفحہ ۲۰)

جھنڈا کسی بھی ملک کسی بھی قوم یا تنظیم کے نظریے کا عکاس ہو تاہے اسی بناء پر ملک، ملک کی سیاسی و مذھبی جماعتیں، کھیلوں کی ٹیمیں اپنا جھنڈا تشکیل دیتی ہیں جو ان کی پہچان ہوتاہے۔ چناچہ قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی ھدایت پر امیرالدین قدوائی نے قومی پرچم کا ڈیزائن مرتب کیا تھا۔

پرچم خواہ کسی سائز کا ہو اس کا تناسب 2×3 کا ہوتا ہے۔ یعنی اگر پورے پھریرے کی لمبائی تین فٹ ہو تو چوڑائی دو فٹ ہوگی، قطع نظر اس کے ماہ اگست کی آمدکے ساتھ ہی بازاروں میں مختلف سائزاور رنگوں کے جھنڈے جابجا فروخت کے لئے دکانوں اور عارضی ٹھیلوں پر سجائے جاتے ہیں۔ کثیر زر کے خرچ سے تیار کئے گئے ان جھنڈوں میں نہ تو جھنڈے کے رنگ کا خیال رکھا جاتاہے اور نہ ہی ان کے سائز میں کوئی توازن ہوتا ہے۔ نیز چودہ اگست گزرنے کے ساتھ ہی ان جھنڈوں، جھنڈیوں کو گلیوں بازاروں میں جابجا پاؤں کے نیچے روندتے کوڑے کے ڈھیروں اور گٹروں میں گرا ہو ا دیکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے اپنے دائرہ کار میں معاشرے میں اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ جھنڈا ہمارے قومی تشخص کی علامت اور ہمارے قومی نظریے کا غماض ہے۔ اس کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔ چودہ اگست گزرنے پر انہیں سنبھال کر رکھ لینا چاہئے۔ یا کم از کم ایسے طور پر ان جھنڈیوں کوتلف کردینا چاہئے کہ قومی پرچم کی بے حرمتی نہ ہو۔

چونکہ بچوں میں چودہ اگست پر جشن آزادی منانے کے حوالے سے زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے جس پر وہ گھروں اور گلیوں کو جھنڈوں اور جھنڈیوں سے سجاتے ہیں اس لئے یہ والدین اور ان کے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ انہیں جھنڈے کی اہمیت سے روشناس کرائیں۔ اور جشن آزادی کے بعد قومی پرچم کو محفوظ کرنے کی تلقین کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: