شجر ممنوعہ کے تین پتے: سیمیں کرن کے افسانوں میں نسوانی لحن

0
  • 134
    Shares

سیمیں کرن وہ مصنفہ ہیں جن کے کردار بہت سوچتے ہیں ان کے افسانوں میں وجودی کرب جب نسائی بیانیہ بن کر نمودار ہوتا ہے تو کافکائیت کا کرب کونوں کھدروں میں چھپے کاکروچوں کی بجائے اندھیرے میں مستور عورت کی آواز بن جاتا ہے وہ عورت جو کہیں گھر باورچی خانے الماریوں ٹرنکوں تلے نیم تاریک کونوں میں اپنا وجود گم کر چکی ہے، میل شاؤنزم تلے دبی پڑی ہے لیکن پھر بھی سوچنا نہیں ترک کرتی۔

شجر ممنوعہ کے تین پتے سیمین کرن کا نیا افسانوی مجموعہ ہے جس کے زیادہ تر افسانے انسانی رشتوں کی گتھیوں میں الجھے ہوئے احساسات سے اخذ ہیں۔ اس کتاب کی بیشتر تحریروں میں ہمیں مرد اور عورت کے ازلی رشتے کی بحث نئے زاویوں سے دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان افسانوں میں عورت اپنی ہستی کی گرہیں کھولتی ہے تو جوابا مرد پر کئی سوالیہ نشان قائم کرتی ہے ان کہانیوں میں اپنے ہم نفس سے صدیوں کے گلے رقم ہیں۔ ان افسانوں کی عورت مرد کی ذات سے اس کے وجود یا مقام سے انکاری نہیں ہے مگر ساتھ ہی وہ اپنا وجود بھی تسلیم کروانا چاہتی ہے۔ وہ عزت محبت اور خود سپردگی کے بدلے ویسی ہی محبت عزت اور خود سپردگی کا مطالبہ کرتی ہے۔

“آج کے مرد کی تربیت ذہین عورت کے حساب سے کی ہی نہیں گئی “

سیمیں کرن کے یہ الفاظ ان کے افسانے مولوی صاحب کی ڈاک میں شامل ہیں یہ فقرہ ایک لحاظ سے ان کے افسانوں کے نسوانی لحن کی کامل نمائندگی کر رہا ہے۔ سیمیں کرن کے افسانوں کی عورت چاک پر ڈھلی مٹی نہیں جہاں مرد کوزہ گر بنے بلکہ ان افسانوں کی عورت اپنے ذہن سے سوچتی ہے وہ صدیوں کا سفر کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔ جہاں وہ ابھی تک اپنے تمام حقوق تو حاصل نہیں کر پائی مگر اسے احتجاج رقم کرنا آتا ہے۔ وہ بیوی بن کر بھی محبوبہ کے مقام سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔
(اختر اور ستارہ)

خواہ اس مطالبے کی سزا میں اسے بیوی کے مقام سے بھی ہاتھ کیوں نہ دھونا پڑیں۔ ان کرادروں کو یہ احساس ستاتا ہے کہ محبوبہ سے بیوی کے سفر میں عورت کے حصے میں فقط خسارا ہی آیا ہے اور مرد محب سے شوہر بن کر ایسی مرادنہ انانیت کا چولا پین لیتا ہے جہاں اسے عورت کے اندروں میں جھانکنے کی فرصت ہی نہیں۔ (متوجہ اور توجہ طلب)

وہ عورت جو مرد کے وجود کا گم گشتہ حصہ تھی ایک مکالمہ افسانے میں آراستہ خیمہ عروس میں اپنے گمشدہ ادھورے وجود سے تصورات میں شکوہ کناں ہے اپنے تماشا بننے اور مرد کے تماشائی ہونے پر آزردہ ہے۔

اس کی روح دریدہ و درماندہ ہے۔ وہ اپنے ہونے کا، کل کے آدھے ہونے کا تقاضا کرتی ہے مگر اسے مقصد کی بجائے ذریعہ بنا دیا گیا وہ سوال کرتی ہے کہ ایسا کیونکر ہوا کہ مرد اسی کے وجود سے جنم لے کر بھی حاکم بن گیا اور وہ محکوم، مرد عقل کل اور عورت عقل ناقص، مرد دماغ بن گیا اور عورت محض بدن یہ کیسے اور کیوں ہوا؟
وہ اپنے الفاظ سے اپنے ہم سفر کو احساس ودیعت کرنا چاہتی ہے اپنے اندرونی کرب سے روشناس کروانا چاہتی ہے مگر اس کا سارا فیمینزم مامتا کے سامنے قربان ہو جاتا ہے اور احتجاج کرنے والی عورت کے چھلکے سے فقط ایک مظلوم ماں کی گٹھلی ہی برآمد ہوتی ہے۔ (سہ رخی کی زوباریہ)

وہ برصغیر کی عورت کی عمومی آواز ہے جسے کبھی سنا ہی نہیں گیا تھا۔ اور یہ فرض کر لیا گیا کہ صدیوں سے عورت کی تربیت کے نام پر جو اس کی ذہن سازی کی گئی اس کلیہ کے مطابق اب تک وہ سوچنے کی اہل یا حقدار بھی نہیں رہی ہوگی۔ لیکن سیمیں کرن کے افسانوں میں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان افسانوں کی عورت نہ صرف سوچتی ہے بلکہ وہ سب کچھ سوچتی ہے جو روایتی مرد کو کبھی گوارہ نہیں ہوگا۔ وہ مولوی صاحب کو لاجواب کر دیتی ہے جہاں مذہب کو موم کی ناک سمجھ کر عورت کے فرائض اس کی وعیدوں کا تذکرہ تو بہت دہرایا جاتا ہے مگر اس کے حقوق کا زکر یا تو کیا نہیں جاتایا کیا بھی جائے تو معاشرے میں اس کاعملی مظاہرہ نظر نہیں آتا۔

روایتی مردوں نے مذہب ہو یا ثقافت، تہذیب و تمدن ہوں یارسوم و رواج ہر جگہ خود کو برتر رکھا اور جہاں مذہب میں عورت کو برتری یا بہتر حقوق حاصل تھے وہاں روایت کے نام پر مذہب کو پس پشت ڈالا اور جہاں ثقافت میں اسے کچھ سہولت تھی تو اس کے رد کے لیے مذہب کا سہارا لے لیا۔ ان افسانوں میں اس عورت کا کرب ہے جس نے اپنے من کی آسائش کو داؤ پر لگا کر تن کی آسانیاں حاصل کیں۔ (ہم زباں)

ان کے افسانے ہم زباں سے یہ اقتباس دیکھیے:

شوہر اس کا ایسا بُرا بھی نہ تھا۔ کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی تنگی نہ تھی۔ خدمت کو نوکروں کی ریل پیل تھی۔ غرض تن کو آسودہ کرنے کی ہر نعمت میسر تھی تو من کو کون پوچھتا ہے؟ اور پھرعورت کا من وہ تو بس ٓاسودہ کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے اس کے من اور ذہن کو تسلیم ہی کہاں کیا گیا ہے ؟ جو اس کی آسودگی کی پرواہ کی جائے سو مَن بھر بھی گیا تو کیا ہُوا ؟ اِک سمجھوتہ تھا جو اُس نے اپنے حالات سے کر لیا تھا اور اُس کے اردگرد بسنے والوں نے سمجھ لیا تھا کہ شفق خاموش طبع ہے یا پھر ہم سے ہی بات کرنا پسند نہیں کر تی۔ جو بھی ہے جیسا بھی ہے کے اصول پر اُس کی عادت سمجھ کر صبر کر لیا گیا تھا۔ ـ

جسے ذہنی عدم مطابقت کا رنج ہے اور محبت سے محرومی کے بعد فرائض کی ادائیگی اسے جنسی گھٹن کے ایسے مقام مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اس کی روح کنواری کی کنواری رہ جاتی ہے اور جسم محض مٹی کی ڈھیر بنا بستر کی سلوٹوں میں گرد بن کر سما جاتا ہے۔ طاہرہ سنو کا یہ اقتباس اس ارتقاء کا غماز ہے جب عورت جبر کے تمام مقامات سے گزر کر اپنی روح کا سوئچ اپنے ہاتھ میں تھام لیتی ہے اور مرد کی دسترس میں فقط جسم مٹی کا ڈھیر بنا آتا ہے۔

’’دیکھو میں ے تمام عمر اُس شخص کے ساتھ گزار دی جس کے ساتھ اک دن بھی میرا روح کا رِشتہ نہیں بنا، اور اُس کے بستر میں سو کر بھی میری روح کنواری اور پیاسی ہی رہی۔ اس کے وجود میں ضم ہو کر اُس کے وجود کو اپنے جسم کا حصہ بنا کر نئی زندگیوں کو جنم دے کر بھی مجھے ہر روز لگا کہ میں نے اپنے آپ کو کھو دیا، میرے دل میں کبھی آمادگی نے جنم نہیں لیا، لمسِ لطیف میرے لیے لمس کا جبر و جہنم بن گیا۔ زندگی خستہ و سوختہ ہوتی رہی۔ ایسے میں اِک دن اچانک پھر میرا ہاتھ اِسی سوئچ پہ جا پڑا۔ میں نے اسے آف کر دیا۔ ‘‘

رِدا یہ کہہ کر ہانپنے لگی۔

’’اور پھر زندگی مجھ پہ آسان ہو گئی۔ اب صرف میرا جسم ہوتا ہے، روح الگ کھڑی نظارہ دیکھتی ہے اور بدن ساری شکنیں جھاڑ کر پھر کھڑا ہو جاتا ہے بلکہ طاہرہ! اک بات کہوں، بعض اوقات تو یوں لگتا ہے کہ سوئچ اتنی سختی سے بند ہو جاتا ہے کہ میری کنواری روح بدن کو بھی ساتھ لے جاتی ہے اور اُس کے نیچے صرف خاک کا ڈھیر پڑا ہوتا ہے۔‘‘

لیکن اس عورت کے شعور کا ارتقاء یہاں رکتا نہیں بلکہ سیمیں کرن جلد ہی اس رائیگانی کا پردہ چاک کر کے اندر سے ایک سہیلی ایک ماں اور بیٹی کو ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ وہ مائیں جو عمر بھر خود کانٹوں بھری راہوں پر چلنے کے بعد بیٹی کو جوان ہوتا دیکھ کر اپنی رگوں سے جاں نکلتی محسوس کرتی ہے کہ مبادا بیٹی کو ایسی کسی پرخار وادی سے گزرنا پڑے۔

سیمیں بڑی خوب صورتی سے عورت کی نفسیاتی گرہیں ایک ایک کر کھولتی جاتی ہیں۔ سیمیں کرن کا اسلوب منفرد اور جداگانہ ہے۔

وہ اپنے کرادروں کی تحلیل نفسی کرتے ہوئے بھاری بھرکم حوالے نہیں دیتیں بلکہ ایک مکالمے کی فضا قائم کرتی ہیں یہ مکالمہ جسم سے روح کا، شعور کا لاشعور سے، اور محکوم کا حاکم سے ہے۔ اس مکالمے میں وہ اپنی سوچ اپنے محسوسات کو معاشرت روایت اور میل شاؤنزم کے بنائے کسی سانچے میں فٹ کرنے پر تیار نہیں اس طرح وہ سیمون دیبورا کی عورت پیدا نہیں ہوتی بنائی جاتی ہے کے خیال کا رد کرتی نظر آتی ہیں کیونکہ ان کے افسانوں کی عورت صدیوں سے اس چاک پر دھری ہے جہاں مرد کوزہ گر ہو کر بھی اسی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال نہیں پاتا اور وہ اپنے ادراک کی آگ میں جھلستی خود اپنے وجود کے کوزوں کو پختہ کرتی چلی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: