جس بستے کو کندھوں پہ لیے پھرتے ہیں طفلاں: قدسیہ جبیں

0
  • 176
    Shares

امریکی ادیب ہنری سلاسر اپنی کہانی کےچونکا دینے والے انجام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی ایک کہانی The examination day بڑی مقبول ہوئی جو بظاہر ایک خوفناک خیالی دنیا (dystopian world) کی کہانی سمجھی جاتی ہے۔

کہانی ایک بارہ سالہ بچے کی سالگرہ کے دن سے متعلق ہے جو وہ اپنے مختصر خاندان کے ساتھ گزارنے جا رہا ہے۔ کھانے کی میز پر والدین بچے کے کسی امتحان کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں مگر اپنی پریشانی بیٹے پر ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ سرکار کی جانب سے ہر بارہ سالہ بچے کو اس امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ بالآخر باپ اپنے بچے کو سرکاری عمارت کے مختلف ڈیسکوں سے رسمی کاروائی نمٹا کر کمرہ امتحان کے دروازے تک چھوڑ کر، تسلی اور حوصلے کے الفاظ کے ساتھ رخصت ہوتا ہے –

گھر کے دیوان خانے میں دونوں میاں بیوی سرکاری فون کال کے شدت سے منتظر ہیں جو انہیں امتحان کے نتیجے سے آگاہ کرے گی۔ گھنٹی بجنے پر باپ لپک کر ریسیور اٹھاتا ہے اور ماں کا پورا وجود کان بن جاتا ہے۔ دوسری جانب سے آنے والی آواز بتاتی ہے کہ “آپ کے بچے نے ذہانت کی مقرر کردہ سرکاری حد عبور کر لی ہے اب آپ بتا دیجئے آپ تدفین ذاتی طور پر کرنا چاہیں گے یا سرکاری طور پر۔ سرکار کے زیر انتظام تدفین کی فیس مبلغ —–روپے ہو گی”

اس کہانی کو پڑھتے ہوئے یکدم ذہن پاکستانی معاشرے کی تعلیمی زبوں حالی کی طرف منتقل ہو جاتا ہےگویا ہمارے تعلیمی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے مصنف نے ایک علامتی افسانہ لکھ ڈالا ہو۔

ہمارے ہاں کے تعلیمی نظام کا عملی نتیجہ بچے کی ذہنی صلاحیتوں کی موت کے سوا اور کیا ہے؟ جس کے لیے ہم والدین “مناسب اور بھاری فیسیں” حسب استطاعت بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مجموعی طور پر ابتدا سے لے کر انتہا تک تعلیمی میدان کا ہر مرحلہ و شعبہ ہی غیر معیاری اور ناقص طریقہ تدریس کا شکار ہے مگر سب سے ابتر صورت حال ابتدائی تعلیم کی ہے جس پر بعد ازاں تعلیمی عمارت کے پورے ڈھانچے نے انحصار کرنا ہے۔

اخلاقیات اور کردار سازی کو ایک طرف لپیٹ کر رکھ دیجیے، پہلے چند سال جو بنیادی تعلیمی مہارتوں کے لیے مختص ہوا کرتے ہیں جیسے اردو اور انگریزی کی حرف شناسی اور حروف کی مختلف تحریری اشکال، لفظ سازی اور جملہ سازی۔ اور پھر بتدریج جملوں کو باہم مربوط کرنا، جو بالآخرمسلسل مشق سے خیالات کو کاغذ پر منتقل کرنے کی مہارت کو آسان بنا دیتا ہے۔

اسی طرح ریاضی سے متعلق بنیادی مہارتیں۔ ۔ ۔
ہندسوں کی پہچان اور ان کے نام و ترتیب، بتدریج بڑے ہندسے، چھوٹی اور بڑی رقموں کو ٹھیک ٹھیک پڑھنا اور لکھنا، جمع، تفریق کرنا وغیرہ جیسی مہارتیں جو بھانت بھانت کی چیزیں بچے کے ذہن میں انڈیلنے کی دوڑ کی نذر ہو کر نظر انداز ہو رہی ہیں۔

چنانچہ اگر آپ اپنے ارد گرد مختلف نوع کے تعلیمی اداروں کے اوسط درجے کے بچوں کا تعلیمی جائزہ لیجئے تو بہت خوفناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ آپ کو ایک بڑی تعداد ان بچوں کی ملے گی جو جملے تو جملے لفظ تک ٹھیک نہیں لکھ پاتے۔ “ہے اور ہیں” کا بنیادی فرق کالج تک کے بچوں کو سمجھ میں نہیں آتا۔ رواں عبارت پڑھنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور چھوٹے سے بحر کے سادہ شعر پڑھنا تو بالکل بس سے باہر ہے۔ ضرب کا ایک چھوٹا سا سوال پورا پہاڑا پڑھ کر حل کرنا پڑتا ہے۔ ایک روز ہم نے چھٹی کلاس کی ایک بچی کو “ت” سے دس لفظ بنانے کے لیے کہا اس کے لیے یہ سوال بالکل نیا اور انوکھا تھا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں زبانی لکھتے ہوئے ایسے بچے کس مشکل صورتحال سے گزرتے ہوں گے۔

ابتدائی تعلیم میں سکولوں کی توجہ کا رخ مہارتوں پر توجہ کی بجائے ڈرائنگ، جنرل نالج، سائنس اور سوشل سٹڈیز وغیرہ جیسے غیر ضروری مضامین پڑھانے پر صرف ہو جاتا ہے بچہ ابھی زبان میں اتنی مہارت ہی نہیں رکھتا کہ ان مضامین میں دی گئی معلومات کی زبان کو سمجھ لینے کے بعد اپنا مدعا بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہو نتیجتا اسے ہر چیز کو یاد کر کے نمبر لینے ہیں۔

معاملہ یہ ہے کہ بہت سے گریجویٹ طلبہ کو ہم نے” صحیح” کو ہمیشہ “صیح”، “السلام علیکم” کو “اسلام و علیکم” وغیرہ لکھتے دیکھا۔ یہ حال کثیرالاستعمال الفاظ کا ہے۔ نسبتا کم استعمال میں آنے والے الفاظ کے تلفظ اور املا کو اس صورت حال پر خود قیاس کر لیجیے۔

تحریری اور زبانی آموختہ میں طلبہ شدید بد اعتمادی کا شکار رہتے ہیں۔ سادہ درخواست، خط اور مضمون کو کتنے طلبہ یاد کیے بغیر لکھ سکتے ہیں؟؟؟

یاد پڑتا ہے یونیورسٹی دور میں فیس واوچر تک بعض لوگ خود بھرتے ہوئے گھبراتے تھے کہیں غلط نہ ہو جائے۔ اسی طرح کسی کام کے لیے سادہ اردو میں درخواست لکھنا اکثر اساتذہ و طلبہ کے لیے دوبھر ہو جاتا ہے۔ اور وہ کسی سے لکھوا کر کام چلاتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں وہ طلبہ یقینا خوش قسمت ہوتے ہیں۔ جنہیں کسی مرحلے پر کوئی مخلص استاد، نسبتا بہتر تعلیمی سرپرست یا علم دوست گھریلو ماحول میسر آجائے اور ان کی دلچسپی کا رخ کتاب دوستی کی طرف مڑ جائے۔ مگر سوال ان بد قسمت بچوں کا ہے۔ جن کے والدین فیسوں کے بدلے اپنے بچوں کی صلاحیتوں کی تدفین کرتے کرتے چور ہو چکے ہیں۔ مگر انہیں نہ سرکار کی جانب سے کھودی گئی لا تعداد قبریں دکھائی دیتی ہیں اور نہ ڈگریوں کی صورت میں اپنے ہی بچوں کے ہاتھوں میں تھمے کفن۔

کیا آپ کو نظر آ رہے ہیں؟!!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: