کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہئیے ۔۔۔۔ دوسری اور آخری قسط

0
  • 109
    Shares

ہم کچھ دن اپنے قیدیوں کو یاد کر کے روتے رہے، پھر بھٹو شملہ گئے اور قیدیوں کو چھڑا لائے۔ ایک معاملہ ٹھنڈا ہو۔ فی الحال جوش جہاد اور جذبہ شہادت گہری نیند سو گیا تھا۔ لیکن ہم بھلا نچلا کہاں بیٹھ سکتے تھے۔ سندھ میں اردو اور سندھی بولنے والوں نے سندھ کی سرکاری زبان کے مسئلے پر ایک دوسرے کو مارپیٹ کر کسی حد تک اپنے عسکری شوق کو تروتازہ رکھا۔
لیکن مجھے یوں لگا کہ یہ سارا تماشہ میرا کمبل چرانے کے لئے لگایا گیا تھا۔ اردو سندھی جھگڑا تو ختم ہوگیا لیکن کوٹہ سسٹم نافذ ہونے سے میرے جیسے لوگوں کے لئے نوکری کے دروازے تقریباً بند ہی ہوگئے اور میں قسمت آزمانے بحرین جا پہنچا۔

بحرین کوئی ایسا بہت زیادہ ترقی یافتہ شہر نہیں تھا۔ اپنا کراچی اس سے بہت بڑا اور جدید شہر تھا۔ لیکن یہاں کی فضا میں ایک طرح کی فراغت اور سکون تھا۔ روزگار کے بہت زیادہ مواقع نہیں تھے لیکن اتنا تھا کہ جو کچھ میں کراچی میں کما سکتا تھا اس سے تین گنا یہاں مل جاتا۔ بہرحال یہ، اس وقت کا موضوع نہیں ہے،

چچا کے گھر پہنچ کر نہا دھوکر اور کھانا کھا کر میں سویا تو شام ڈھلے آنکھ کھلی۔ دسمبر کی بالکل آخری تاریخیں تھیں۔ گھر سے باہر ملگجا سا اندھیرا تھا اور ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ میں گھر کے دروازے پر کھڑا آتے جاتے راہ گیروں کو دیکھ رہا تھا۔ ان میں ہندوستانی، پاکستانی، عرب، گورے، کالے سبھی تھے۔

اچانک میرے سامنے سے ایک ایسی چیز گذری کے میں بے تحاشا اس کے پیچھے ہولیا۔
یہ کوٹ پتلون میں ملبوس ایک سردار جی تھے۔ میں نے سکھ یا تو تصویروں میں دیکھے تھے یا ایک مرتبہ ایشین الیون اور پاکستان الیون کا ہاکی میچ جب کراچی میں ہوا تھا تو میدان میں اجیت پال سنگھ اور سرجیت سنگھ وغیرہ کو دور سے دیکھا تھا اور ان کے سر پر پگڑی نہیں تھی۔
یہ پہلی بار تھا کہ ایک زندہ سردار اتنے قریب سے دیکھنے مل رہا تھا۔ میں کچھ دور سردار جی کے پیچھے چلتا رہا۔ اس دوران میں نے دائیں بائیں کچھ نہ دیکھا۔ سڑک پر ایک موڑ آیا اور سردار جی اس طرف نکل لئے اور میں بھی وہیں سے پلٹ گیا کہ کہیں گھر کا راستہ نہ بھول جاؤں۔

یہ پہلا مستند ہندوستانی تھا جو میں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد دیکھا۔ بچپن میں جو ہندوستان گیا تھا اس وقت ان باتوں کا اتنا ہوش نہیں تھا، یہ البتہ ضرور یاد تھا کہ ہندو اچھے نہیں ہوتے،
بحرین میں نئے سال کی چھٹی تھی، اس کے اگلے دن جمعہ تھا اور اس کے اگلے دن شاید ہجری سال کی چھٹی تھی۔ تین دن میں گھر پر آرام کرتا، شام کو فلم دیکھتا یا چچا کے دوستوں سے ملتا رہا۔ چوتھے دن دفتر کھلے تو چچا نے یونائٹیڈ بنک بھیج دیا جہاں ان کے دوست، مشہور ڈرامہ نگار، انور مقصود کے بھائی عارف مقصود جو بنک کے نائب صدر تھے، نے دوچار باتیں کی اور کہا اوپر اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں جا کر مبین صاحب سے کام سمجھ لیں۔
پاکستان میں جس نوکری کے لئے کیا کیا نہ پاپڑ بیلے اور جو پھر بھی نہیں ملی۔ یہاں پانچ منٹ کے انٹرویو میں یہ مرحلہ طے ہوگیا۔ گوکہ یہ کوئی مستقل ملازمت نہیں تھی۔ بطور casual labour بھرتی ہوا تھا لیکن بہرحال تیسرے دن ہی ایک بڑی فکر دور ہوگئی تھی۔

یو بی ایل میں سارے ملازمین پاکستانی تھے یا ایک دو مقامی عرب۔ میرے کچھ ہندوستانی عزیز تھے جیسے ملاقات رہتی تھی لیکن پاکستانی، ہندوستانی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

بنک کی ملازمت میں تنخواہ کوئی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ ان دنوں بحرین میں لیبر قوانین اس قدر شدت سے نافذ نہیں تھے۔ آپ کہیں بھی کسی وقت بھی ملازمت کرسکتے تھے۔ مجھے بھی بحرین ہلٹن ہوٹل کے شعبہ حسابات میں کام مل گیا۔

یہاں پہلی بار میرا واسطہ ہندوستانیوں سے پڑا۔ لیکن صرف اتنے فرق کے ساتھ کہ ان میں سے اکثر گو انیز یا اینگلوانڈین، بمبئیا ٹائپ کی اردو بولتے تھے یا پھر انگریزی میں بات چیت ہوتی اور کوئی بات ایسی نہ تھی کہ کسی تفریق یا مغائرت کا احساس ہوتا،
کچھ دنوں بعد میری نائٹ ڈیوٹی لگی اور اس میں میرے ساتھ دو پاکستانیوں کے علاوہ ایک ہندوستانی مراٹھا بھی تھا اور یہی ہماری ٹیم کا انچارج بھی تھا۔
ہماری ہی عمر کا، چھوٹے سے قد کا انیل، ایک منہ پھٹ لیکن دلچسپ انسان تھا۔ اس سے کام کے علاوہ انگریزی گالیاں سیکھنے میں بڑی مدد ملی، جن کی وجہ سے گو انیز لڑکوں سے مکالمہ آسان ہوگیا جن کے ہر تیسرا لفظ ایک چہار حرفی لفظ ہوتا تھا۔
ہم رات بھر کام کرتے، ساتھ کھاتے پیتے، صبح ناشتہ کرتے اور پیدل ہی ٹہلتے ہوئے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوتے۔ کبھی بجائے ہوٹل کے ہم باہر ایک ملباری کے ہاں، پراٹھے، تلی ہوئی کلیجی، دہی اور چائے کا ناشتہ کرتے۔ ناشتے کا یہ عجیب وغریب مینو، میں نے اس کے بعد کہیں نہیں دیکھا۔
اب ہوٹل کے کیشئر، ویٹر، اکاؤنٹس میں کام کرنے والے، استقبالیہ کلرک وغیرہ سب دوست بن گئے جن کی اکثریت ہندوستانیوں کی تھی اور اس میں لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
شہر کی مختلف عمارتوں میں ہمیں فرنیچر سے آراستہ رہائش گاہیں ملی ہوئی تھیں، ہم فارغ وقت میں ایک دوسرے کے ہاں جاتے، گھاتے پیتے، تاش کھیلتے، اور شام کو اکٹھے فلم دیکھنے جاتے اور اس میں ہندوستانی، پاکستانی، بحرینی، ایرانی، گورے، لڑکے لڑکیاں سب شامل ہوتے۔
ہر ماہ کسی کے گھر پر پارٹی ہوتی جہاں رات بھر ہلا گلا اور ناچ گانا چلتا رہتا۔
یہ سب کچھ ہوتا اور کبھی ہندوستانی پاکستانی کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ کوئی مسئلہ ہوتا تو ہم سب ایک دوسرے کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے اور اس میں یہ بھی خیال نہ کرتے کہ ملازمت چلی جائے گی۔ اور نہ ہی کبھی یہ سوچتے کہ دوسرا انڈین ہے یا پاکستانی، ہندو ہے مسلم یا عیسائی۔
ڈھائی سال بعد مجھے سعودی عرب میں داہران میں رمادا ہوٹل میں ملازمت مل گئی۔ داہران اور بحرین ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔ یہاں بہت سے لڑکے وہی تھے جو ہلٹن میں ساتھ تھے۔
داہران آئے ہوئے دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ حج پر جانے کی سعادت ملی۔ اور میں کچھ دن پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ پہلے ایک پارسی دوست نے اپنا بٹوا خالی کرکے میری جیب میں سارے پیسے ڈال دیے کہ راستے میں ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسے شکریہ کے ساتھ منع کیا تو دوسرے دن ایک پنجابی ہندو دوست نے زبردستی پیسے دئیے کہ قربانی وغیرہ کے لئے ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ان ہندوؤں کے ساتھ اور ہندوستانیوں کے ساتھ، یعنی اپنے دشمنوں کے ساتھ میں نے پانچ سال کام کیا۔ یہاں بھی ہم ساتھ باہر گھومنے جاتے، ایک دوسرے کے کمروں میں بیٹھ کر گپ شپ کرتے، تاش کھیلتے۔ سمندر کنارے تفریح کرتے، کرکٹ کے میچ کھیلتے اور دفتر میں کوئی مسئلہ ہوتا تو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ فیس بک کی مہربانی سے ان میں سے کئی دوست اب بھی رابطے میں ہیں۔
ہاں کبھی کبھار جب ہندوستان پاکستان کے درمیان کرکٹ یا ہاکی میچ ہوتا تو کچھ جملے بازی اور ایک دوسرے کی کھینچا تانی ضرور کرتے لیکن دوستی کبھی دشمنی میں نہیں بدلتی۔

سن تراسی کے وسط میں قسمت مجھے دوبئی لے آئی جہاں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ یہاں دفتر میں میرے علاوہ کوئی پاکستانی نہیں تھا۔ وئیر ہاؤس میں البتہ تین پٹھان تھے۔
یہاں ایک ملباری اور ایک سردار سے میری گہری دوستی تھی۔ ہم تینوں ساتھ لنچ کے لئے جاتے۔ کچھ دنوں بعد میری رہائش بھی ملباری دوست، کنتھ کےقریب ہوگئی۔ اب ہم ساتھ دفتر آتے جاتے۔ ہماری یاری کو آج چونتیس سال ہوگئے ہیں۔ کنتھ سے میری دوستی کا عرصہ میری شادی سے بھی زیادہ کا ہے۔ کنتھ اب بحرین میں ہے لیکن ہم نہ صرف فیس بک بلکہ فون ہر بھی رابطے میں ہیں۔ آج سے چند سال پہلے جب میں بحرین گیا تو کنتھ کی بیٹی اپنے شکور ” اچا” کے پاس یوں منڈلا رہی تھی جیسے اس کا سگا چچا کئی سال بعد گھر آیا ہو،
اور دوبئی کی ملازمت میں ایسے ایسے دوست بنے کہ شاید ایک دو بچپن کے دوست چھوڑ کر کسی پاکستانی سے بھی ایسی دوستی نہ ہو۔
ویویک جوشی کا گھر دوبئی میں میرے گھر جے قریب ہی تھا۔ عید کے دن وہ ہمارے ہاں اور دیوالی کو ہم اس کے ہاں جاتے۔ ویویک کے ممی، ڈیڈی بمبئی سے آئے تو ہم نے گھر پر ان کی دعوت کی اور ہمارے بچوں کو یوں لگا کہ ہمارے کوئی بزرگ کراچی سے آئے ہیں، کچھ عرصہ بعد ہم شارجہ منتقل ہوگئے اور ویویک بھی وہیں قریب ہی آگیا۔
میرے پاس لائسنس نہیں تھا۔ ویویک اپنے گھر سے مخالف جانب میرے گھر سے مجھے دفتر کے لئے لینے آتا اور شام کو گھر چھوڑتا۔ کبھی کبھار میں اسے چائے کے لئے اپنے گھر روک لیتا۔
اور ایک رات جب میں ” سلپ ڈسک ” کی وجہ سے اپنی خوابگاہ کے فرش پر ایک کینچوے کی مانند لاچار پڑا ہوا تھا تو یہ ویویک ہی تھا جو رات گئے مختلف دوائیں لے کر میرے گھر پہنچا، کچھ دیر نہ بعد میرا بچپن کا دوست بالا بھی آگیا۔
اور یہ مدراسی گنیش شرما ہے، جس کی بیوی میرے بچوں کے اسکول میں استانی ہے اور جس کی سخت گیری مشہور ہے۔ یہ سب میری بچی کو جس کا آپریشن ہوا ہے اسے دیکھنے آئے ہوئے ہیں۔
جس دن ویویک دفتر نہیں آتا گنیش سے کہہ دیتا ہے، جس کا گھر زیادہ دور ہے لیکن گنیش میرے منع کرنے کے باوجود مجھے لینے اور ڈراپ کرنے آتا ہے۔
مجھے جب کبھی پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے، یہ ویویک اور گنیش ہی ہیں جو کوئی سوال کئے بغیر میری مدد کرتے ہیں۔ اور یہی معاملہ میرا ان کے ساتھ رہتا ہے۔
اور یہ نائر ہے، بالکل ویویک اور گنیش کی طرح۔ ہم رات کے تین بجے ابوظہبی سے آرہے ہیں جہاں کمپنی کا ایونٹ تھا۔ نائر دوبئی میں رہتا ہے جب کہ میرا گھر شارجہ میں ہے۔ دونوں نیند اور تھکن سے بے حال ہیں۔ دوبئی پہنچ کر میں نائر سے کہتا ہوں کہ وہ مجھے اتاردے، میں ٹیکسی لے کر گھر چلا جاؤں گا،۔ نائر مجھے سختی سے ڈانٹ دیتا ہے اور شارجہ مجھے گھر پر اتار کر ہی واپس جاتا ہے۔
اور میں نے چھوٹی کا قصہ تو آپ کو بتایا ہی ہوگا۔ جس نے میری بیٹیوں سے بڑھ کر میری خدمت کی۔ اس کا نام ماہیکا تھا اور میں اسے اپنی سب سے بڑی بیٹی کہتا تھا، کبھی موقع ملے تو میرا خاکہ ” چھوٹی ” ضرور پڑھیے گا۔
چونتیس سال سے میں ان ‘دشمنوں، کے درمیان گھرا ہوا ہوں۔ بہت ہی کم مواقع ہیں جب میں ان کے کسی کے کام آیا ہوں۔ زیادہ تر یہ ہی میرے کام آتے ہیں۔
یہ راجیو اروڑا ہے جس کی اور میری بیوی کے درمیان بہنوں جیسی دوستی ہے۔ راجیو کے بھی ماں باپ آئے تو ہم نے ان کی دعوت کی۔ ہم راجیو کے گھر آتے جاتے ہیں۔
یہ سنجیو ددلانی ہے جو کرکٹ کا بڑا شوقین ہے اور بہت اچھی کرکٹ کھیلتا بھی ہے اور کرکٹ کی زبردست معلومات رکھتا ہے۔ مجھ سے اکثر کرکٹ پر ہی بات کرتا ہے۔ ہندوستانی ٹیم کا شیدائی ہونے کے باوجود پاکستانی کھلاڑیوں کا قدردان ہے۔
اور ویویک، گنیش، سنجیو، میں، آلون، ایمپلی، ہم سب ساتھ کرکٹ کھیلتے ہیں۔
میری چھوٹی بیٹی کی شادی میں سب شامل ہیں اور ایک پاکستانی شادی میں شامل ہوکر بہت خوش ہیں۔
اور یہ ہمارا ہندو پڑوسی ہے جس کی بیوی میرے بیٹے کے دفتر میں کام کرتی ہے۔ آتے جاتے مجھے سلام کرتا ہے اور اپنے بزرگوں جیسی میری عزت کرتا ہے۔

لیکن یہ سب میرے دشمن ہیں۔ اس کم بخت نائر کو جب زیادہ ہی پیار آتا ہے تو اس ‘ لکیر’ کی بات کرتا ہےجو انگریز ہمارے درمیان ڈال گیا ہے۔
لیکن یہاں میں نے نائر کو دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ یہ لکیر انشاءاللہ قیامت تک قائم رہے گی۔

ہمیں بھی مان لینا چاہئیے کہ ہندوستان ہم سے بہت بڑا ہے، اسکی فوجی اور معاشی طاقت ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا میں اس کا رسوخ اور اہمیت اور توقیر ہم سے بہت زیادہ ہے۔ گوکہ ہم ” مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ‘ پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہمارے شاعر نے یہ نہیں بتایا کہ بے تیغ لڑنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
لیکن ہندوستان کو بھی مان لینا چاہئیے کہ پاکستان الحمدللّٰہ ایک حقیقت ہے اور اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ اس سچائی کو مان لے، اور یہ کہ یہ کوئی آسانی سے ہڑپ ہونے والا نوالہ نہیں ہے۔ ہم سے الجھے گا تو اپنا کچھ بھلا نہیں کرے گا۔
یہ جو سرحد کی دونوں طرف جنگی طیاروں کی قطاریں ہیں، یہ وہ اسپتال بن سکتے تھے جن سے ہمارے اور تمہارے بیماروں کو مسیحائی ملتی۔
یہ جو ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تمہاری اور ہماری چھاؤنیوں میں صف آرا ہیں یہ وہ اسکول ہیں جو شہر شہر گاؤں گاؤں علم پھیلا سکتے تھے۔
یہ جو تم ہندوستانیوں نے گولا بارود اور گولیاں ہم پاکستانیوں کے لئے ڈھیر کر رکھی ہیں ان سے تم غسل خانے اور بیت الخلا تعمیر کرکے اپنے لوگوں کو کھیتوں، ریلوے لائین اور سمندر کنارے حوائج ضرور یہ سے فارغ ہونے کی شرمندگی سے بچا سکتے تھے۔
اور ہم نے جو یہ گولہ بارود ذخیرہ کررکھا ہے یہ ہمارے دیہاتوں کو، جو اس اکیسویں صدی میں پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں، ان کی پیاس بجھا سکتے تھے۔ یہ گولیاں جو ہم دشمن کے سینے میں اتارنا چاہتے ہیں، ان کی قیمت میں تھر کے صحرا کو نخلستان میں بدلا جا سکتا ہے۔

اب ہم چھوٹے۔ نہیں رہے۔ دونوں ستر سال کے ہوگئے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم بڑے ہوجائیں۔
ہمارے خطے کے لوگ دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔ ہم دونوں سے زیادہ، محنتی، جفاکش اور ذہین قومیں شاید ہی کوئی ہوں۔ ہم بجائے ایک دوسرے کا مقابلے میں ٹانگیں اونچی کرنے کے، ایک دوسرے کے ساتھ قدم ملا کر چلیں۔ ایک دوسرے کا پنجہ مروڑتے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔
اور میں یقین سے کہتا ہوں جس دن یہ ہوجائے، یہ دنیا، ایک مختلف دنیا ہوجائے گی۔ ایک دوسری دنیا۔ امن وآشتی کی دنیا، محبت اور دوستی کی دنیا، تعمیر و ترقی کی دنیا۔ وہ دنیا جسے کوئی مسخر نہیں کرسکے گا، سوائے محبت کے۔
یہ وہ دنیا ہوگی جہاں غم اور آنسو نہیں ہوں گے، بدگمانی نہیں ہوگی، بس پیار ہی پیار ہوگا۔ امیدیں ہوں گی، سنہرے خواب ہوں گے اور ان کی تدبیریں ہوں گی۔
اب یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ دشمن کو دھول چٹانی ہے یا دل سے لگانا ہے۔

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: