معاف کیجئے ۔۔۔ قائد اعظم : نجیب ایوبی

0
  • 15
    Shares

وشنا – شیوا -شکتی -گناپتی -سوریتھی -سمرتها – رام -لکشمن ،درگا کالی ، ہنومان – را ون -شریمتی ، بھگوان-
اور پھر ان کی چھتری تلے ڈھونڈنے چلے کانگریسی اور ان کے ہم جولی چند مسلمان زعما ایک خدا کی حاکمیت اور حکمرانی والا نظام -؟
پھر اب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود کہ دو قومی نظریہ کیا تھا ؟

رام “ہنومان” (جو بندروں کا سردار تھا) لنکا ڈھا دیتا ہے- غریب روان ما را گیا – رام کا بھائی لکشمن زخمی ہوا – ہنومان نتھیا گلی سے وہ بوٹی اٹھا لایا جس میں شفا تھی –
رام اور ہنومان دونوں ،پاکستان ہندوستان کی تقسیم کہو یا آزادی کے بعد سے ہی شفا والی بوٹی پاکستان میں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں – حالانکہ ان کے عقائد کے مطابق ہنومان نے اپنی غیبی طاقت کی مدد سے پورا پہاڑ اٹھا کر رام کے قدموں میں ڈال دیا تھا –

مذہب کے نام پر دھرم کی چھتری تلے یہ مذھب ایک ملغوبہ ہے جس میں دہریت، بت پرستی، شجر پرستی، حیوان پرستی اور خدا پرستی سب اس میں شامل ہیں۔
اس مذھب میں مندر میں جانے والا بھی ہندو ہے جس کے جانے سے مندر ناپاک ہوجائے وہ بھی ہندو ۔

وید کا سننے والا بھی ہندو ہے اور وہ بھی ہندو ہے جس کے متعلق حکم ہے کہ اگر وید سن لے تو اس کے کانوں میں پگلاہوا سیسہ ڈالاجائے
غرض ہندو مت ایک مذہب نہیں ہے بلکہ مختلف افکار و خیالات کا چربہ یعنی دو نمبر کاپی ہے
ہاریوں سے لیکر مغل حکمرانوں تک چار ہزار سالوں میں جتنے حکمران آئے اس قوم نے سب کے مذاہب کا عرق ہا ون دستے میں کوٹ کوٹ کر نکالا اور اپنا من پسند
برانڈ کشید کرلیا –

جن کی پرستش غیر آریا کرتے تھے، ہندو پنڈتوں نے اپنے دیوتاؤں میں شامل کرلیا۔اس کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادیت اور نسلی برتری کو کھو نے کے لئے تیار نہ تھے۔
چنانچہ انہوں نے ایک طرف ہر اس جماعت اور مذہب سے ٹکر لینے کی ٹھانی جس نے ان کی عظمت سے انکار کردیا اور دوسری طرف اور اپنی ذاتوں کی بندش کو سخت کرکے عقائد و رسوم کا جال ایسا پھیلا دیا، کہ لوگوں کے لئے اس میں سے نکلنا ناممکن ۔ انہوں نے ویدی عہد کی مذہبی کتابوں اور دیوتاؤں کو احترام کے دائرے میں محدود کردیا اور نئی کتابوں کی تصنیف اور نئے دیوتاؤں کی شمولیت سے مذہبی نظام قائم کیا گیا اور اس پر اس پر نئی کتابوں میں اس نظام کی بنیاد رکھی گئی۔

دھرم شاشتر اور پران میں کو سب سے اہمیت حاصل ہوئی۔ خرافات، ضمیات، عقائد اور رسوم کے لئے پران نے ان کو مواد فراہم کیا اور عملی زندگی کے مطالبات کو دھرم شاشتر نے پورا کیا۔ برھما، شیو اور وشنو کو تسلیم کرلیا گیا اور الوہیت کی ان تینوں شکلوں کو تری مورتیکے نام سے موسوم کیا گیا۔

برھما کو پہلے افضل مانا گیا اور سرسوتی کو جس کی سواری مور ہے اس کی بیوی بتایا گیا، نیز اسے علم اور دانائی کی دیوی بتایا گیا۔ پھر برھما کی عظمت کم کرکے اس کی پرستش روک دی گئی اور وشنو اور شیو کو اس پر فوقیت دے کر اس کی کمتری کا اعلان کردیا گیا۔

چڑھتے سورج کا پجاری مذھب کے ساتھ کانگریسی اور ابولکلام جیسے ہی فٹ ہوسکتے تھے – ہندو کی بیٹی اندرا مسلمان فیروز سے شادی کرسکتی تھی ، مگر فیروز کو یہ ثابت کرنا پڑا کہ وہ ذات کا گاندھی ہے- اس طرح مسلمان فیروز خان اپنے نام میں ذرا سی گند ڈال کر فیروز گاندھی بن جاتا ہے نہ دین ہاتھ سے گیا نہ ہی ” اندرا”-
عشق کا چکر بھی دب گیا ، نہرو کی بیٹی پر رسوائی کا ٹیکہ بھی نہیں
خود نہرو کیا تھا؟
آپ کیا سمجھتے ہیں؟ لارڈ مونٹ بیٹن کی بیوی کے ساتھ انفرادی ملاقاتوں میں صرف ملاقات ہوتی ہوگی؟ راتوں رات پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کا من پسند نقشہ بھی ترتیب دیا جاتا ہوگا-
جو بعد میں ثابت بھی ہوگیا – جونا گڑھ ریاست ، مشرقی پنجاب – جو اب بھارت میں ہے، جالندھر ،ہریانہ ،امرتسر یہ سب فارمولے کے تحت مسلمان اکثریت والے علاقے تھے – جس کو نہرو نے اپنی پرفیوم ،نائٹ ڈپلومیسی کی مدد سے ہندوستان میں شامل کروایا –

جس دھرم میں سب چلتا ھو ، جہاں پا پئیو ں کے پاپ دھونے کے لئے گنگا جل موجود ہو –
مگر عجیب بات ہے کہ اسی جل کا پانی میونسپل لائن سے گھر میں فلٹر لگا کر پیا جاتا ہو ؟ ہے نا عجیب بات –
کسی دل جلے نے اسی لئے کہہ دیا تھا
” رام تیری گنگا میلی ھوگئی ، پاپیوں کے پاپ دھوتے دھوتے”

گاندھی جی نے بھی مذھب کے نام پر خوب دکان چلائی – دھوتی پہن کر دنیا بھر میں قناعت پسندی کا درس دیا -ان کے نزدیک چونٹی کو مارنا بھی ناجائز – جس نے کسی بےزبان کو جان بوجھ کر مارا ،اس کا دھرم بھرشٹ (دین سے خارج)

شاید اسی خوف سے گاندھی عمر تمام زمین پر نظر گاڑھ کر چلتے رہے کہ کہیں کوئی چیونٹی پیروں تلے مسلی نہ جائے – اس کے لئے کنیا کنواریوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر احتیاط سے قدم اٹھا تے رہے -تقسیم کے موقع پر خیر سے تو چونٹیاں بچ گئیں مگر لاکھوں مسلمان بھارت کی سرزمین اپنے خون سے لال کر آئے – گاندھی کی دھوتی کا بھرم بھی رکھا تو مسلمان خون نے- (ورنہ گاندھی – باپو کا قاتل تو دھرم چاری تھا)

باپو کی نظر اکھنڈ ہندوستان پر نظر تھی – کیسے ممکن تھا کہ ان کی موجودگی میں ہندوستان کو کاٹ کر کچھ حصہ مسلمانوں کے حوالے کردیا جائے؟
اکھنڈ بھارت کے آئیڈیے سے اختلاف رکھنے والی سوچ کے افراد اور رہنماؤں نے مسلمانوں کا علیحدہ پلیٹ فارم مسلم لیگ کے نام سے تشکیل دیا
جس کی بنیاد علامہ اقبال دو قومی نظریے میں فراہم کرچکے تھے – کانگریس کی دوغلی پالیسی اور معاندانہ ،منافقانہ رویے کی بنیاد پر قائد اعظم محمّد علی جناح نے کانگریس سے لاتعلقی کا ا علان کردیا –

قائد اعظم محمّد علی جناح کی دلیرانہ قیادت میں برسوں سے جاری تحریک ایک فیصلہ کن موڑ پر آچکی تھی-
انگریز سے آزادی اور اس سے بھی بڑھ کر مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل علاقوں اور نوابی ریاستوں پر مشتمل علیحدہ مسلمان حکومت کا قیام – بنیادی سبب دو قومی نظریہ ہی تھا-
ورنہ سیکولر سوچ ابولکلام آزاد جو مدر پدر آزدی کی حد تک جاچکے تھے ، بہتر کون لا سکتا تھا – اس لئے اس بحث کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ پاکستان کس لئے وجود میں آیا تھا – اور یہاں کون سا نظام چلے گا؟

سیاسی داؤ بیچ چلتے رہے – کانگریس اور مسلم لیگ عبوری حکومت میں تھے بھی اور نہیں بھی تھے – مطلب یہ کہ انتقال اقتدار کے منصوبے پر عمل درآمد مستقل کھٹا ئی میں پڑا ہوا تھا-
جگہ جگہ تحریک عروج پر تھی

‘پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا الہ الا اللہ” کا نعرہ جہاں مسلمانوں کو ایک جگہ مجتمع کر رہا تھا تو دوسری جانب متعصب ہندو “رام – رامائن -ہنومان ” جیسوں کو اپنے سامنے پاتا – پورے ہندوستان میں خانہ جنگی کی کیفیت تھی- ہندو مسلم فسادات کا آغاز ہوچکا تھا – ہندوستانی فوج کی بغاوت کی سرگوشیاں چل پڑی تھیں۔

 ان حالات پر قابو پانے کے لیے اور انتقال اقتدار کا مرحلہ پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے برطانیہ کی حکومت نے لندن میں ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا۔ 3 دسمبر 1946ء کو اس کانفرنس کی کاروائی کا آغاز کردیا گیا۔ کانفرنس میں برطانوی وزیراعظم کلیمنٹ ایٹلی کابینہ مشن کے اراکین برطانوی ہند کے وائسرائے ، لارڈ ویول ، کانگریس کے نمائندے ، لیگ کے نمائندے اور سکھوں کے ایک نمائندے بلدیو سنگھ نے شرکت کی۔ برطانوی حکومت نے اپنی خواہش اور مؤقف کانگریس اور لیگ کے راہنماؤں پر واضح کرنے کی کوشش کی۔ نہرو اپنے روئیے میں معمولی سی لچک پیدا کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ وہ اب بھی ہندوستان کی تقسیم ایک ناقابل برداشت فعل ، گاؤماتا کی تقسیم سمجھتے تھے۔ قائداعظم نے پاکستان کے حق میں ناقابل انکار اور ناقابل تردید دلائل دیئے اور حقیقت یہ ہے کہ ان ہی دلائل نے انگریزوں کے ہوش ٹھکانے لگا دئیے.

دسمبر 1946ء کو برطانوی حکومت نےکابینہ مشن پلان کے طویل العمیاد منصوبے میں صوبوں کی گروپ بندی اور مجوزہ قانون ساز اسمبلی سے متعلق شق کی وضاحت کر دی گئی ۔ یہ وضاحت مسلم لیگ کی تشریح کے عین مطابق تھی یہی وجہ تھی کہ یہ بیان ایک طرف مسلم لیگ کے لیے ایک بہت بڑی نوید سے کم نہ تھا تو دوسری طرف یہ کانگریس کے لیے صور اسرافیل ثابت ہوا ۔ اس بیان سے نہرو اس نہر میں جاگرا جہاں سے نکلنا اس کے لیے ناممکن ثابت ہوا۔

20 فروری 1947ء کو برطانوی وزیراعظم نے ایک اہم اعلان جاری کر دیا۔ اس اعلان میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی کہ انگریز جون 1948ء تک ہندوستانی رہنماؤں کو اختیارات منتقل کر دے گی۔ اختیارات کی یہ منتقلی کن کو اور کیسے ہوگی؟اس کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہز میجسٹی گورنمنٹ اختیارات ہندوستان کے ذمہ دار اور نمائندہ افراد کو منتقل کردے گی اور انقتال اقتدار کا جو طریقہ سب سے زیادہ موزوں ہو اور ہندوستانیوں کے بہترین مفاد میں ہو ، کو اپنایا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی مسلم لیگ کے کیمپ میں مسرت کی ایک اور لہر دوڑ گئی جبکہ نہرو اور اس کے ساتھی اس موقع پر ہندوستان کا مقدر تبدیل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے تھے۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا- مسلمان اور ہندو اکثریتی علاقے تقسیم کا اصول قرار پا چکے تھے- اس حوالے اور ضابطے کے تحت جونا گڑھ ، پورا مشرقی، مغربی پنجاب، پورا بنگال، کلکتہ سمیت، مکمّل کشمیر(جموں و کشمیر ) پاکستان کے حصے میں آرہا تھا-

ہندوستانیوں کو اختیارات کی منتقلی سے متعلق وزیراعظم ایٹلی کے بیان کے بعد جب ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کا سورج غروب ہونے کو تھا ۔ ہندوستانی مسئلے کا منطقی حل قریب نظر آرہا تھا ۔ لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے بنا کر بھیجا گیا۔ وہ 22 مارچ 1947ء کو ہندوستان پہنچ گئے۔ 24 مارچ 1947ء کو آپ نے ہندوستان کے انتیسویں اور آخری گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ حلف اٹھانے کے فوراً بعد لارڈ ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کے تمام بااثر اور اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کے سلسلے کا آغاز کیا۔ قائداعظم نے وائسرئے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ سندھ ، بلوچستان ، صوبہ سرحد ، پنجاب ، بنگال اور آسام کے صوبوں پر مشتمل ایک آزاد اور خود مختار پاکستان چاہیتے ہیں۔

نہرو کے سینے پر مونگ دلنے کا عمل شروع ہونے کو تھا کہ نہرو کی نائٹ ڈپلومیسی اور لارڈ ماونٹ بیٹن کی منکوحہ کی خفیہ کا روائی رنگ لانے لگیں – نہرو اور لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی بیوی ایڈوینا ماﺅنٹ بیٹن کے درمیان پاگل پن کی حد تک معاشقہ تھا ( دونوں کی وفات کے بعد دونوں کے عشقیہ خطوط سیکس سکینڈل کی شکل میں سامنے آئے)-
اس خفیہ کاروائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریسی اور ہندو رہنماؤں نے حکومت برطانیہ کو کھلے الفاظ میں بتایا کہ ہندوستان کی تقسیم اسی صورت میں قبول کریں گے جس وقت بنگال اور پنجاب ( مشرقی ، مغربی) تقسیم ہوں گے – یہ بنیادی تقسیم کے فلسفے کی نفی تھا – کیوں کہ مذکورہ علاقوں میں مسلمان اکثریت میں تھے –

مگر جب تک بہت دیر ہوچکی تھی – ماونٹ بیٹن اپنا کام کرچکا تھا – کچھ نقشے اور فائلیں ایڈوینا ماﺅنٹ بیٹن کے ذریعے وائس رائے سے پہلے ہی منظور کروالی گئیں تھیں –
آل انڈیا نیشنل کانگریس نے بھی مذکورہ منصوبے کی منظوری کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی اس سیاسی ڈرامے کا اختتام ہوا جس کا آغاز برصغیر پاک و ہند میں انگریز کی آمد کے فورآً بعد ہوا تھا۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا۔ اور پندرہ اگست کو ہندوستان کی آزادی کا۔ یوں 14 اگست کو دنیا کے نقشے پر اس وقت کی سب سے بڑی مسلم ریاست پاکستان کے نام سے نمودار ہوئی۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے حصے کا کام کردیا – دنیا کے نقشے پر لاکھوں مسلمانوں کے خون کی سرخ روشنائی سے لکھا ” پاکستان” نمودار ہوگیا –
قائد اعظم آپ بہت عظیم ہیں
آپ نے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا
اپنے خاندان ، فیملی سے کنارہ کشی اس لئے کرلی کہ وہ نظریے اور دین سے متصادم نظر آئی
اپنی بہن کو لیکر ” پاکستان ” کی چوکھٹ پر سر ر کھ دیا
مگر قائد!
معاف کیجئے
ھم بڑے نکمے ثابت ہوۓ -اب تک رام ، لکشمن، شری شریمتی ، بھگوان اور دیوداس سے نجات نہ حاصل کر پائے
شری بے نظیر جس کے د ا دا سر شاہنواز بھٹو نے راتوں رات جونا گڑھ کا سودا کروایا ، اسی کو اپنا وزیر اعظم بنا کر آپ کا احسان چکانے کی کوشش کی –
پہلی کوشش آپ کی پیاری بہن مادر ملت فاطمہ جناح کو فیلڈ مارشل کے ہاتھوں ہروا کر کرچکے تھے –
معاف کیجئے قائد اعظم!
ھم تو کانگریسی حاشیہ برداروں اور پاکستان دشمن خدائی خدمت گاروں کو بھی نہیں سمجھ پارہے – صوبہ اٹھا کر جھولی میں ڈال دیا
معاف کیجئے ھم وہ نہیں جن کے لئے آپ نے آزادی کی جنگ لڑی –
وہ رام ، راما ، شام شیام بھگوان کو پوجا کر تے ہیں تو ہم بلوچ ، مہاجر ، پنجابی سندھی اور پٹھان کی پوجتے ہیں
ھما رے دیس کی فلمیں ڈبے میں بند ہیں – ان کی فلمیں ہمارے ملک سے اترنے کا نام نہیں لیتیں
معاف کیجئے قائد !
زمانہ بدل رہا ہے – تھوڑا سا ہلکا ہاتھ رکھواب ہم کو معاف کردو –
پاکستانی رام ، شیام ، کالی چرن ،شریمتی اور فاضل بھگوانوں سے شکتی دلوادو – ایک بار بس ایک بار – میرے اچھے قائد اعظم !!!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: