کیا نواز شریف جمہوریت پسند ہے ۔۔۔ اسد رضا

0

کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔۔۔

ہمارے لبرل طبقے اور دانشواران کو یکایک نواز شریف کی شکل میں جمہوریت اور سول بالادستی کا ایک مسیحا مل گیا ہے تو اس کی وجوہات بڑی حد تک واضح ہیں۔ لبرل دانشواروں کا یہ گروہ پاکستان کے مسائل کا سب سے بڑا سبب ملڑی اسٹبلشمنٹ کے کردار اور جمہوری حکومتوں کے عدم تسلسل کو سمجھتا ہے اور یہ اس بات میں بڑی حد تک حق بجانب ہے۔ ملک میں سویلین بالادستی ایک ایسا خواب ہے جو ہر باشعور انسان دیکھتا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ ان لبرل دانشوروں کی ایک بڑی اکثریت ماضی میں نواز شریف کی مخالف رہی ہے اور اس کی وجوہات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، نواز شریف کا ماضی ایک غیر جمہوری شخص کا ما ضی رہا ہے ۔ فوج کے ساتھ ساز باز کر منتخب حکومتوں کو توڑنا، عدالتوں اور نیب کے زریعے مخالفین کو کچلنا اور آئین میں موجود غیر جمہوری شقوں کے خاتمے سے انکار وغیرہ نواز شریف کے سیاہ کارنامے ہیں۔  اب یہ نواز شریف ایک دم سے ہیرو کیسے بن گیا؟ اس کی وجہ بڑی سادہ سی ہے کہ لبرل دانشوران اور اسٹبلشمنٹ مخالف پڑھا لکھا طبقہ ملک میں جمہوریت کی پروان چاہتا ہے اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ سکور سٹیل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے نواز شریف کی شکل میں ایک امید نظر آتی ہے۔ کیونکہ نواز شریف اس وقت ملک کا سب سے مقبول لیڈر ہے۔ ڈیڑھ کروڑ ووٹ اور بھرپور عوامی حمایت رکھنے والا نواز شریف ہی  ایسا کر سکتا ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بناء پر یہ طبقہ نواز شریف کو بانس پر چڑھانے کے لئے تیار ہے ۔

اب آتے ہیں اصل سوال کی جانب کہ کیا نواز شریف واقعی ایسا کر پائے گا یا اس سے پہلے کہ کیا واقعی نواز شریف ایسا کرنا چاہتا ہے؟ نواز شریف کی موجودہ تقاریر میں سویلین بالادستی اور ووٹ کی توقیر کے الفاظ بڑے خوش نما لگ رہے ہیں۔ پچھلی حکومتوں کو چھوڑ کر ہم اگر نواز شریف کے پچھلے چار سالہ دور اقتدار کا جائزہ لیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نواز شریف نے جمہوریت اور سول بالا دستی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ نواز شریف نے سب سے پہلے اسٹبلشمنٹ کے دباو میں آ کر آئینی ترمیم کے زریعے فوجی عدالتوں کو جواز بخشا، نواز شریف نے ہی سندھ میں رینجرز کی طرف سے سویلین ادروں پر چھاپوں کے خلاف اپنی آواز بند رکھی، نواز شریف نے بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی جبری گمشدگیوں پر ایک لفظ تک نہ کہا، نواز شریف نے سندھ حکومت کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی کاروائیوں پر چپ سادھ لی، نواز شریف نے فوجی بجٹ میں اضافے کی روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس میں خاطر خواہ ترقی کی، نواز شریف نے اسٹبلشمنٹ کے دباو میں آ کر دھرنا سازش کے کرداروں کو بے نقاب کرنے والے اپنے قریبی دوست اور وفادار مشاہد اللہ کو حکومت سے فارغ کیا،  نوازشریف نے ڈان لیکس پر ملڑی اسٹبلشمنٹ کے دباو  پر اپنے رفیقوں کو قربان کیا اور صرف اتنا سٹینڈ لیا کہ اس کے خاندان کے افراد کو بخش دیا جائے۔ واقعات کا ایک تسلسل ہے  میں نے صرف چند واقعات پیش کئے ہیں تا کہ نواز شریف کا اینٹی اسٹبلشمنٹ چہرہ بے نقاب ہو جائے۔ نواز شریف کا جمہوری چہرہ تو پہلے ہی بے نقاب ہے، ہر ادارے میں اپنے من پسند نا اہل لوگوں کو لگانا، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو نوازنا، بیوروکریسی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا، پارٹی کو اپنی خاندانی پارٹی بنا دینا اور اس جیسے درجنوں اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ نواز شریف کتنا بڑا جمہوریت پسند ہے۔

اب آپ غور کریں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کیوں نواز شریف کے ساتھ نہیں کھڑی۔ یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ بیوروکریسی  کیوں پوری طرح نواز شریف کی حمایت کیوں نہیں کر رہی۔ زرا اس کو بھی سمجھیں کہ آج بھی نواز شریف اپنی تقریروں میں کھل کر فوجی اسٹبلشمنٹ کا زکر کیوں نہیں کرتا۔ بات بڑی واضح ہے کہ نواز شریف کسی جمہوریت یا سویلین بالا دستی کی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ وہ اپنی ذاتی لڑائی لڑ رہا ہے ۔ وہ خود کو سیاست میں زندہ رکھنے اور نیب کے ٹرائل سے بچنے کے کسی این آر او  کا منتظر ہے۔ بیورو کریسی یہ بات جانتی ہے کہ نواز شریف نے کسی بھی لمحے صلح کر لینی ہے اور ان کے افسران عدالتی پیشیاں بھگتتے رہیں گے۔ یہی وجہ  کہ پیپلز پارٹی نے اس معاملے میں خود کو ایک فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ ایک اور بات نواز شریف کی کابینہ اور جماعت میں موجود درجنوں وہ افراد جو مشرف کے دور میں اس کے ساتھی تھے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ اب سویلین بالا دستی کی جدوجہد کر رہے ہیں؟۔ ہر گز نہیں بلکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ جلد ہی کوئی صلح کی صورت نکل آئے گی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اب تک پرواز کر چکے ہوتے۔

سو میرے پیارے لبرل دوستو! اب غلط گھوڑے پر قیمت لگا رہے ہیں۔ میری بھی آپ سب کی طرح خواہش ہے  پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل قائم رہے اور سویلین بالا دستہ کا بول بالا ہو مگر نواز شریف جیسے اسٹبلشمنٹ کے پروردہ اور کامل غیر جمہوری شخص سے ایسی توقع رکھنا مجھے تو حماقت کے سوا کچھ نہیں لگتا۔ اس لئے اپنی تو اتنی سی گزارش ہے کہ موجودہ صورتحال کو انجوائے ضرور کریں مگر کوئی امید نہ رکھیں

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: