کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہئے ۔۔ شکور پٹھان

0

الف بے تے۔۔ہم چھوٹے سے تھے

جی ہاں ہم جھوٹے سے تھے اور ایسے ہی مہمل اور بے تکے بول گایا کرتے تھے۔

فلاں نے بویا چنا
اس میں سے نکلے محمد علی جناح
محمد علی جناح نے کھایا پان
اس میں سے نکلا پاکستان

اسی قبیل کا ایک گیت تھا جس کے بول مجھے یاد نہیں، ہاں یہ یاد ہے کہ اس کے آخر میں پاکستان کی ٹانگ اونچی اور ہندوستان کی نیچی ہوجاتی تھی۔
اور تب سے اس بات پر ایمان ہے کہ ہندوستان ہمارا دشمن اور ہندو بزدل قوم ہے اور ہم مسلمان ان سے برتر ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

اور پھر یوں ہوا کہ کچھ پہلوان پاکستان آئے، ان میں ایک ہندوستانی نژاد پہلوان بھی تھا جو شاید کینیا سے آیا تھا اور اسے ہمارے اکرم پہلوان نے پچھاڑ دیا۔ ہمارے سارے پہلوانوں نے سارے غیرملکی پہلوانوں کو دھول چٹادی اور مجھے یقین کامل ہوگیا کہ پاکستانیوں کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ نہ صرف پہلوان بلکہ ہر پاکستانی عالم میں بے مثال ہے اور ہمارا کوئی جوڑ نہیں، کم ازکم ہندوستان اور ہندو تو ہم سے مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔

ویسے اس سے زیادہ ان باتوں کا ہوش نہیں تھا لیکن کہیں دماغ کے کسی کونے کھدرے میں یہ بات ضرور رہتی تھے کے کیماڑی کے پاس جو سمندر ہے اس کی دوسری طرف جو رہتے ہیں وہ کچھ اچھے لوگ نہیں ہوتے۔

تیسری جماعت کے ششماہی امتحان ختم ہوئے تھے اور نتیجہ کچھ اتنا قابل فخر نہیں تھا کہ امی نے بتایا کہ ہم چھوٹے ماموں کی شادی میں ہندوستان جارہے ہیں۔ اور کچھ دنوں بعد ہم ” ایس ایس دوارکا” میں سوار دودن اور دورات کے سفر کے بعد بمبئی کی بندرگاہ جا اترے۔

بمبئی اور کراچی میں کچھ ایسا بہت زیادہ فرق تو سمجھ نہیں آیا۔ وہاں سے امی ابا کے آبائی قصبے اورن جانے میں بہت وقت تھا۔ ماموں نے ایک چھابڑی والی سے کیلے لے کر دیے اور یہ کیلے بہت ہی اچھے تھے، ایسے کیلے کراچی میں نہیں کھائے تھے۔۔ بمبئ پہنچنے کے بعد یہ پہلی خوشگوار چیز ہوئی تھی۔
بمبئی سے ایک اور لانچ میں سوار ہوکر ہم اورن کی جانب روانہ ہوئے، پھر اورن کی بندرگاہ یا لانچ اڈہ (جسے وہاں کی زبان میں ” دھکا’ کہتے ہیں ) سے تانگے پر سوار ہوکر شام کے دھندلکے میں نانا کے گھر پہنچے جہاں ساری خالائیں، ماموں اور ان کے بچے جمع تھے۔

یہ سب وہ تھے جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا لیکن چند ہی لمحے بعد میں اپنے خالہ زاد بھائیوں کے درمیان بیٹھا انہیں اپنے پہلوانوں کی فتوحات کے بارے میں بتارہا تھا۔ کچھ دن پہلے اکرم پہلوان یہاں سےکوئی کشتی جیت کر گیا تھا۔ میں نے ریڈیو پر سنی ہوئی کمینٹری کے کچھ حصے اور اخبار میں دیکھی تصویروں کی مدد سے بتانا چاہا کہ اسلم نے بیرن وان ہیگزی کو فلائنگ کِک کیسے لگائی۔ یہ دکھانے کے لئے اچھل کر برآمدے کی دیوار پر دونوں لاتیں مارنے کی کوشش کی۔ اسلم تو شاید فلائنگ کِک مار کر مقابل کو لیکر دوسری جانب گر گیا ہوگا جہاں نیچے فوم کے گدے وغیرہ ہوتے ہوں گے۔

میرے سامنے کی دیوار تو نہ ہلی البتہ میں دھڑام سے نیچے آرہا اور کمر اور کولہوں میں زبردست چوٹ لگی۔

کچھ دیر بعد میں انہی کزنز کے ساتھ باہر نکلا۔ قریب سے ایک ہم عمر لونڈے نے آواز دی۔ میرے کسی خالہ زاد نے اسے پکارا ” آجا پانڈو۔ ہمارے ساتھ چل’

” ہیں ؟ تم نے اسے گالی کیوں دی؟۔۔میں نے پوچھا۔
” گالی تو نہیں دی۔ ہم گالی نہیں دیتے”
” پھر اس سے کیا کہا تھا؟ ”
” ارے، وہ تو اس کا نام ہے، پانڈو راؤ”
” یہ کیسا نام ہے”
” بھئی وہ ہندو ہے۔ ان کے نام ایسے ہی ہوتی ہیں "

” ہندو ہے؟ میں نے تقریباً” چلا کر کہا اور پانڈو کی طرف لپکا۔ اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اس کی ٹانگوں کے پیچھے اپنی ٹانگ اڑا کر زوردار دھکا دیا۔ پانڈو نیچے آرہا۔ُ
” ہندوؤں سے نہیں بات کرنی چاہئیے۔ ” میں نے فتوی سنایا۔

پانڈو اور میرے خالہ زاد میری شکل دیکھ رہے تھے۔ ان کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میری بات کا کیا مطلب ہے۔

مجھے لیکن اپنی بات کا پورا یقین تھا، بچپن سے ,یعنی پچھلے دو تین سال سے جو گیت، گانے، نظمیں سنیں تھیں ان کا مطلب قریب قریب یہی نکلتا تھا۔

ہم چھ مہینے وہاں رہے۔ اس کے بعد چند ایک اسی طرح کے قصے ہوئے لیکن باقی دن خیر خیریت سے گزر گئے۔ بس میری امی مجھ سے نالاں تھیں کہ ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی میری شکایت لئے چلا آتا۔ میرے خالہ زاد اور ماموں زاد بہن بھائی بھی میرا زیادہ ساتھ نہ دیتے۔ وہ پہلے دن سے میرے کارنامے دیکھتے آئے تھے اور بہت زیادہ میری وکالت نہیں کرسکتے تھے کہ میرا کیس اکثر معاملوں میں بڑا کمزور ہوتا اور تمام کھرے میری ہی جانب نکلتے تھے۔

ہریالی میں ڈھکے اورن سے واپس آئے تو ابا ہمیں کیماڑی سے سیدھا کورنگی لے گئے جہاں انہوں نے کرائے پر کوارٹر لے رکھا تھا۔ تمام راستہ عجیب اجاڑ اور سنسان تھا۔ دور دور تک چٹیل میدان کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ انیس سو باسٹھ تھا اور کورنگی نئی نئی بسی تھی۔

کورنگی آکر تیسری جماعت میں دوبارہ داخلہ لیا۔

یہاں ہمارے پڑوسی، راج مستری، مالی، ما شکی، ریلوے مستری وغیرہ تھے اور کچھ بوڑھے تھے جو کچھ نہیں کرتے تھے اور گلی کے نکڑ پر بیٹھے حقہ پیتے تھے۔ کبھی کبھار وہ نکڑ والی دکان سے جنگ اخبار اٹھا لاتے اور مجھ سے کہتے کہ خبریں پڑھ کر سناؤں۔

میں شروع ہوجاتا،۔۔۔۔۔ لی مارکیٹ میں تانگے کی ٹکر سے بچہ زخمی، دو بچوں کی ماں آشنا کے ساتھ فرار، سرعام۔۔۔۔۔

ارے یہ سب چھوڑ یہ بتا ایوب کا کیا بیان ہے۔ نہرو کیا کہتا ہے؟

پھر میں انہیں پہلے صفحے کی سرخیاں پڑھ کر سناتا۔

انہیں اخبار سناتے سناتے مجھے اخبار پڑھنے کی عادت ہوگئی۔ اب میں روز نکڑ والی دکان پر جا کر اخبار پڑھتا۔

اب روزانہ خبریں چھتیں کہ ” رن آف کچھ” میں پاکستانی اور بھارتی فوجوں میں جھڑپیں ہورہی ہیں، مجھے سر پر آہنی خود پہنے، ہاتھوں میں بندوقیں لئے فوجیوں کی تصویریں بہت اچھی لگتیں۔

ہمارے فوجی جوان رن کچھ کے ہر معرکے میں بھارتیوں کو پچھاڑ دیتے، عبرتناک شکست دیتے، دھول چٹا دیتے۔ اور اخبار یہ سب کچھ نہ بھی لکھتا تو ہمیں یقین تھا کہ ہماری فوج نے ضرور دشمن کی ایسی تیسی کردی ہوگی۔

ایک آدھ سال بعد ایوب خان اور فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی انتخاب کی وجہ سے ہم بھارت کو بھول کر اپنی ہائے، ہائے اور زندہ باد میں لگ گئے۔ الیکشن ہوگئے، ایوب جیت گیا،لیکن بے وقوف کراچی والوں نے مان کر نہ دیا۔

میری اپنی آنکھوں نے گوہر ایوب کے جشن فتح کے جلوس پر کورنگی والوں کی سنگباری اور جوابا” جشن منانے والوں کے ٹرکوں سے فائرنگ ہوتے دیکھی۔ کچھ دن شہر میں کر فیو رہا۔ کراچی اور خاص کر کورنگی لانڈھی، لالوکھیت، ناظم آباد، گولیمار اور برنس روڈ والے ایوب سے خار کھاتے۔

اور پھر خبریں آنے لگیں کہ مقبوضہ کشمیر میں حضرت بل کی درگاہ سے موئے مبارک چوری ہوگیا، کشمیری مسلمانوں اور ہندوستانی پولیس کے درمیان خوب لڑائی ہوتی، جگہ جگہ بلوے ہونے لگے۔

اور لگے ہاتھوں ہمارے مجاہدین اور فوجی بھی آزاد کشمیر کی طرف سے کاروائیاں کرنے لگے اور ہماری فتوحات اور کامیابیوں کی خبریں آنے لگیں۔
لیکن یہ قصہ شاید کم ہی لوگوں کو یاد ہو،

اد ہے تو صرف اتنا کہ چھ ستمبر کو غاصب ہندوستانی فوجوں نے لاہور پر تین طرف سے حملہ کردیا۔ گھمسان کے معرکے ہوئے، اور ہماری جری افواج نے نہ صرف حملہ ناکام بنا دیا، بلکہ پلٹ کر چھمب، جوڑیاں، موناباؤ اور کھیم کرن پر قبضہ کرلیا،۔ ہماری فضائیہ نے ہندوستان کی فضائی طاقت کی کمر توڑ دی اور ہلواڑہ، آدم نگر، پٹھان کوٹ اور جام نگر کے ہوائی اڈوں پر نیچی پروازیں کرکے ” ٹھیک ٹھیک ‘نشانے لگائے۔

جنگ کی ابتدا میں صدر ایوب کی تقریر نے میرے اندر کے مرد مجاہد کو جوان و توانا کردیا۔ پھر ریڈیو پر خبریں سن سن کر جذبہ شوق شہادت ابل ابل کر باہر آتا رہا۔
صدر ایوب، اب مجاہد اعظم تھا،۔، حجام، گوشت والوں اور حلوائی کی دکان پر جہاں پہلے گوجرانوالہ کے پہلوانوں کی تصویریں نظر آتی تھیں، پسر فلاں، پٹھا فلاں۔ اب وہاں صدر ایوب کے پوسٹر نظر آتےجن میں وہ گھوڑے پر سوار اگلے مورچوں میں کھڑے دشمن کو للکار رہے ہوتے۔

ہمیں گوہر ایوب، علی کوثر بھول گئے، کورنگی، لالوکھیت والے اب صدر ایوب کے گن گاتے، فاطمہ جناح کو بھی اب کوئی یاد نہ کرتا۔

اور اب پوری قوم کا یقین، ایمان میں بدل گیا کہ روئے زمین پر ہماری مسلح افواج کے مقابلے میں کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کہ ہمارا دشمن انتہائی بزدل اور مکار ہے۔
اسی فتح وسرشاری کے عالم میں دو تین سال بیت گئے۔ ایوب خان نے عشرہ ترقی منانے کا ڈول ڈالا، اور ادھر بھٹو اور دوسرے لیڈروں نے اس کے خلاف تحریک شروع کی اور ایوب خان کا راج سنگھاسن ڈولنے لگا۔ قصہ مختصر فلم کی کہانی میں کئی موڑ آنے کے بعد جس میں ایوب کی رخصتی، یحی خان کی آمد پر سعادت، الیکشن میں نجیب اور بھٹو کا جیتنا، پھر چھ نکات پر ہمارا لڑناجھگڑنا اور اس کے نتیجے میں ہندوستان سے ایک اور جنگ کے ہونے پر اس کہانی کا اختتام ہونا۔

اکہتر کی جنگ لگی تو ہم بے فکر تھے کہ ہماری بہادر افواج پھر دشمن کو ذلیل وخوار کر دینگی۔ شروع دنوں میں خبروں میں یہی کچھ سنائی دیا لیکن جلد ہی خبریں سنانے والوں کی آواز کچھ کمزور ہوتی چلی گئی۔

اب خبروں میں بتایا جاتا کہ جیسور اور کومیلا کے محاذ پر گھمسان کی لڑائی ہورہی ہے اور ہماری افواج ” متبادل” مورچے بنا رہی ہیں۔ لیکن یہ نہیں پتہ چلتا تھا کہ یہ مورچے آگے کی جانب بن رہے ہیں یا پیچھے کی طرف۔

لیکن ہمیں فتح کا کامل یقین تھا۔ اور یہ بھی یقین تھا کہ امریکہ کا ساتواں بحری بیڑہ بھی چل پڑا ہے جو یہاں پہنچتے ہی ہمارے ساتھ مل کر ہندوستان کا بیڑہ غرق کردے گا،
یہ سب کچھ تو نہ ہوا البتہ یہ ہوا کہ پلٹن میدان میں ان ہندو فوجوں کے سکھ جرنیل جگجیت سنگھ اروڑا کے سامنے ہمارے شیر بہادر ” ٹائیگر” نیازی نے اپنی کمر سے پیٹی اتار کر پستول سمیت اس بزدل فوج کے کماندار کے قدموں میں ڈھیر کردی۔ اور یہ سردار جی ہماری نوے ہزار بہادر، جری فوج کو ہانک کر ہندوستان لے گیا اور خاردار تاروں کی باڑھ کے پیچھے قید کردیا۔

لیکن ہم نے کب کسی سے ہار مانی ہے، ہمارے پاس ثبوت تھا کہ یہ بنگالیوں کی غداری تھی جن کی مکتی باہنی نے ہند ؤں سے مل کر سازش کی تھی ورنہ تو ہم۔۔۔۔

اور ایک بار پھر قصہ مختصر۔۔۔بنگالی ہم سے الگ ہوگئے، ہم نے بھٹو صاحب کو پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر اور پھر وزیراعظم بنایا۔

اور پھر وزیر اعظم بھٹو نے سندھ میں کوئٹہ سسٹم نافذ کیا۔ میں نے بی کام پاس کیا اور ایک بنک میں اُفسری کی درخواست دی۔

دو ہزار امیدواروں کے درمیان تحریری امتحان کے زریعے مقابلہ ہوا۔ یہاں کامیابی کے بعد انٹرویو ہوا اور انیس امیدواروں کو ‘ شارٹ لسٹ’ کیا گیا۔ یہاں بھی نام کامیاب امیدواروں میں آیا۔ اب بنک کے نائب صدر کے درجے کے دو افسروں نے فائنل انٹرویو کیا اور کہا کہ گھر جائیں آپ کو نتیجے سے آگاہ کردیا جائے گا۔

بہت دن گذر گئے، بنک کی جانب سے کوئی خبر نہیں ملی، آخر ایک دن میں بنک کے ہیڈکوارٹر جا پہنچا اور ‘ پرسنل ڈیپارٹمنٹ” کے انچارج سے اپنی درخواست کے بارے میں پوچھا۔ بتایا گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ بس ٹھیک نہیں ہے تو وہ یہ ہے کہ آپ کا ڈومیسائل کراچی کا ہے، اگر اندرون سندھ یعنی ٹھٹھہ یا لاڑکانہ وغیرہ کا ڈومیسائل بنوا لائیں تو ملازمت آپ کی ہے۔

خیر بھیا۔ یہ سب کچھ تو نہ ہوسکا۔ البتہ یہ ہوا کہ میرے چچا نے مجھے بحرین بلا لیا اور یہاں سے ایک نئی کہانی شروع ہوئی۔

اور یہ وہی کہانی ہے جو میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں۔ بس اگلی قسط کا انتظار کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: