ماں مانے صرف ڈیٹول کا دھلا —- ابن فاضل

1

یادش بخیر جب ہم بچے تھے ہمارے بزرگ اللہ سے ڈرتے تھے اور ہم ان سے۔ پھر وقت بدلا اور معاملاتِ حیات میں جدت آگئی۔ آجکل کے بزرگوں کو جراثیموں کا خوف ہے اور بچوں کو مداخلت اور وائی فائی بند ہونے کا۔ وائی فائی ڈھٹائی پر مجبور کرتا ہے جبکہ جراثیموں کا خوف دھلائی پر۔ دھلائی آجکل ڈیٹول سے ہوتی، ہماری بات بے بات ہوا کرتی تھیں. سیانے کہتے ہیں معالج اور وکیل اگر ڈرائیں گے نہیں تو ان کا نان نفقہ کیسے چلے۔ یہی سبق ڈیٹول اور دیگر جراثیم کش صابن بیچنے والوں نے سیکھ لیا ہے۔ اتنا ڈراتے ہیں کہ بندہ سمجھتا ہے اس جہاں میں جتنا غم ہے فقط جراثیموں کی وجہ سے ہی ہے۔ اورمداوا صرف ان کا صابن۔ ان کی باتوں سے تو لگتا یہ جو وطنِ عزیز کی جمہوریت ہر وقت شدید خطرہ میں رہتی ہے اس کی وجہ بھی یہی جراثیم ہیں۔ بچوں پر خصوصی دستِ شفقت ہے۔ انہیں اشتہاروں میں لیتےہیں۔ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے چھوٹے سے چھوٹے بچے پر فلماتے ہیں۔ بلکہ کچھ بچوں پر تو دنیا میں آنے سے پہلے ہی اشتہاربنا چکے ہیں۔ کارٹونوں کی مدد سے ان کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ سہانے مستقبل کا واحد راستہ انکے صابن کا استعمال ہے۔ بڑے ہو کر طاقتور خوش شکل اور امیر ہونا چاہتے ہو تو ہمارا صابن استعمال کرو۔ سبق اچھے سے یاد نہیں ہوتا تو ہمارا صابن استعمال کرو۔بھنڈی ٹینڈے کھائے نہیں جاتے،ہمارا صابن استعمال کرو وغیرہ۔ بچے اب دوکانوں پر چاکلیٹ اور بسکٹ اور کھلونوں کی بجائے سیف گارڈ کی ضد کرتے ہیں۔پھر اس بات پر فخرکرتے ہیں کہ چاکلیٹ کی قربانی دیکر انہوں نے نہ صرف اپنا مستقبل تاریک ہونے سے بچا لیا ہے بلکہ ان کے اس فیصلے سے ملک و قوم کو لاحق کوئی بہت بڑا خطرہ ٹل گیا ہے۔

[animate animation=”flash”] آجکل کے بزرگوں کو جراثیموں کا خوف ہے اور بچوں کو مداخلت اور وائی فائی بند ہونے کا۔ وائی فائی ڈھٹائی پر مجبور کرتا ہے جبکہ جراثیموں کا خوف دھلائی پر۔
[/animate]

جراثیم ایسے بہت چھوٹے جانداروں کو کہتے ہیں جوانسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ ان کی چار بڑی قسمیں ہیں۔ بیکٹیریا، وائرس، فنجائی اور پروٹوزووا۔ان میں سے بیکٹریا اور وائرس ہیں جن سے ہم انسانوں کا زیادہ تر واسطہ پڑتا ہے۔ اور ہمارے ہدف کا ہدف چونکہ بیکٹیریا ہیں اس لیے ہمارا بھی ہدف یہی رہیں گے۔ اور ویسے بھی آج تک بنی نوع انسان وائرس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکی اگرچہ ان کے بال نہیں ہوتے۔ محتاط اور تازہ ترین تحقیق کے مطابق دنیا میں ایک لاکھ بیس ہزار اقسام کے بیکٹریا پائے جاتے ہیں۔ ایک عام امریکی گھر میں دس ہزار اقسام کے بیکٹریا ہوتے ہیں۔امریکیوں کو نکال کر۔ (امریکی اس لیے کہ اس سلسلے میں پاکستانی گھروں کے اعداد وشمار دستیاب نہیں۔ گمان ہے کہ پاکستانی گھروں میں بھی ان کی اقسام کی تعداد قریب یہی رہی ہوگی۔ سو اگلی بار جب آپ گھر میں اکیلے ہوں تو ڈرنے کی ضرورت نہیں،آپ اکیلے ہرگز نہیں)۔

ابن فاضل

حیرتناک طور پرایک صحت مند انسانی جسم میں ہر وقت تقریباً سو اقسام کے بیکٹیریا موجود رہتے ہیں۔ ان سو اقسام کی کل تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اگر آپ ان سے زندگی میں ایک بار اپنے اوپر رہنے کا کرایہ بحساب بیس پیسے فی بیکٹریا لیں تو آپ کے پاس بل گیٹس سے زیادہ دولت ہوگی۔ میرا مطلب ہے تین سو سے چار سو کھرب بیکٹیریا۔ ان میں سے زیادہ تر آنتوں اور باقی جلد منہ،ناف اور دیگر اعضا میں ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کے اثاثوں کی طرح بیکٹیریا کو بھی موافق ماحول مل جائے تو یہ بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ اور ہمارے روز مرہ میں سب سے زیادہ موافق ماحول گیلا تولیہ اور برتن خشک کرنے والا کپڑا، فرش صاف کرنے والا کپڑا اور پسینے سے بھیگے کپڑے ہیں۔ اندازہ کریں کہ کس قدر حکمت تھی کہ آقا کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے تب کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ تولیہ سے خشک کرنے سے منع فرما دیا تھا۔

ضروری نہیں کہ سب بیکٹیریا ہمارے دشمن ہی ہوں۔ پولیس والوں اور سرکاری افسران کی طرح ان میں بھی کچھ اچھے “لوگ” ہوتے ہیں۔ جو ہمارے کام آتے ہیں۔ مثال کے طور پر دودھ سے دہی اور پنیر بنانے پھلوں سے سرکہ،گوبر سے بائیو گیس بنانے، کچرے سے کھاد بنانے اور سب سے اہم انسانوں اور جانوروں کو خوراک ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سوچیں اگر بیکٹیریا نہ ہوتے تو دنیا میں دہی نہ ہوتا صرف دھوکہ دہی ہوتی تو یہ دنیا کتنی پھیکی ہوتی۔ اور” بابر پہلوان دودھ دہی والے” کر بورڈ پر صرف “بابر پہلوان دودھ والے” لکھا کتنا عجیب لگتا۔ یاد رہے کہ دہی کائنات میں گلوگوز اور شہد کے بعد سب سے زود ہضم غذا ہے۔ اسی طرح جدید سائنس میں ان کا بہت کردار ہے۔ کچ دھاتوں سے دھاتیں حاصل کرنے عمل (bacterial leaching) ہو یا پٹرولیم سے لتھڑے سمندروں کی صفائی، مہلک ترین امراض کا علاج ہو یا مصنوعی پٹرول کی تیاری ہر جگہ آپکو بیکٹیریا انسانی خدمت پر معمور نظر آئیں گے۔ یہاں ہم نے آٹا خمیر کرنے کرنے والے جرثوموں ییسٹ(yeasts) کا ذکر جان بوجھ کر نہیں کیا کیونکہ وہ بیکٹیریا نہیں بلکہ فنجائی ہے۔
اب رہا سوال دشمنی پر آمادہ اس چھوٹے سے بڑے دشمن سے کیسے بچا جائے۔ جس کا شاید بچپن سے نعرہ ہے

کیڑا ہوں میں چھوٹا سا کام کروں گا بڑے بڑے

بیکٹیریا کو ختم کرنے کا سب سے زبردست طریقہ ہے۔ گرمائش۔ ستر ڈگری سینٹی گریڈ تک کم و بیش تمام بیکٹیریا تلف ہو جاتے ہیں۔ چین اور مشرقی ایشیائی ملکوں میں گرم پانی اور مشروبات پینے کے پس پردہ غالباً یہی منطق ہے۔ اسی طرح اچھے ریستورانوں میں پلیٹیں وغیرہ اسی وجہ سے ہمیشہ گرم دی جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ انسانی جلد اتنا درجہ حرارت برداشت نہیں کر پاتی اس لئے اس کیلیے صابن سے دھلائی بہترین ہے۔اور بالیقین عام صابن پندرہ سے بیس سیکنڈز تک اچھی طرح مل کر دھونے سے ننانوے فیصد جراثیم سے نجات دے دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عام صابن ننانوے فیصد جراثیموں سے نجات دے دیتا ہے تو پھر جراثیم کش صابنوں کی کیا ضرورت ہے۔ تو اس بات کے تجزیہ کیلیے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے ان دونوں میں فرق کیا ہے۔جراثیم کش صابن عام صابن ہی ہوتے ہیں صرف ان میں انتہائی قلیل مقدار میں جراثیم کش زہر ملائے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر دستیاب صابنوں میں مندرجہ ذیل کیمیکل بطور زہر ملائے گئے ہوتے ہیں۔

1:  کلوروزائیلینول (ڈیٹول اور ڈیٹول سوپ )
2:  میتھائل آئسوتھائیازولینون (لائف بوائے ہینڈ واش)
3:  زنک پائیریتھیون (سیف گارڈ )
4:  کولائیڈل سلور (لائف بوائے صابن کا کا دعویٰ ہے کہ وہ ایکٹو سلور استعمال کرتے ہیں ان سے رابطہ کرنے پر بھی تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کولائیڈل سلور ہے یا نہیں۔)
5:  ٹرکلوکاربان (سیف گارڈ صابن زنک پائیریتھون سے پہلے)
6:  ٹرکلوسان (پامولیو انٹی بیکٹیریل سوپ اور لوشن)

فرق صرف یہ ہے کہ عام صابن زیادہ ترجراثیموں کو صرف بہا کر آپکو ان سے پاک کرتا جبکہ جراثیم کش صابن زیادہ تر کو مار کر یہ کام کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہمیں حاصل ہونے والی صفائی برابر ہے۔ ان کو بنانے والی کمپنیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ نہ صرف بہت جلد جراثیم ختم کر دیتے ہیں بلکہ ان کو بعد میں بڑھنے سے بھی لمبے عرصے تک روکے رکھتے ہیں۔ جب کہ کسی بھی لیب ٹیسٹ یا تجربے سے تاحال اس دعویٰ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ہاں البتہ یہ ضرور مصدقہ ہے کہ ان کیمائی مادوں کے لمبے عرصہ تک استعمال سے مختلف قسم کی الرجی اور دوسری بیماریاں لگ رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ جراثیموں کی قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی بنا پر امریکی اداے FDA یعنی Food and drug) (administration .کے مطابق “ابھی تک کوئی شواہد نہیں ملے کہ اینٹی بیکٹیریل صابن بیماریوں کی روک تھام میں عام صابن کی نسبت بہتر ہیں۔ بلکہ الٹا ان کے لمبے عرصے تک استعمال سے مجموعی طور پر نقصان ہونے کے متعلق سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں کمپنیوں اور استعمال کنندگان سے باربار ثبوت مہیا کرنے کی درخواست کے باوجود ثبوت نہ ملنے پر فی الحال ٹرکلوکابان اور ٹرکلوسان سے بنے صابن بنانے اور فروخت پر پابندی لگائی جاتی ہے۔”

اور اپنے شہریوں کو انہوں نے یہ پیغام دیا ہے
Consumers, Keep Washing with Plain Soap and Water
سو عزیز ہموطنو! ماں بالکل نہ مانگے ڈیٹول کا دھلا

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اسلام علیکم
    انتہائ عمدہ تحریر- آج کل لوگ مشکل اور پیچیدہ الفاظ
    کے استعمال کو اپنی قابلیت کا ذریعہ اور دوسروں
    کےلیےعلم کا باعث سمجھتے ھیں

    مگر آپ کی تحریر سادہ اور علم کی بے بہا دولت لیے ھوے ھوتی ھے- بہت پر اثر تحریر ھے آپ کے نئے کالم کا انتظار رھے گا۔ اللہ آپ کو کامیاب فرمائے اور اپنی حفاظت میں رکھے- آمین

Leave A Reply

%d bloggers like this: