داستان گو — قسط نمبر 12 — ادریس آزاد

0
  • 106
    Shares

دو سوبیالیس سیّاروں پر مشتمل عظیم کاسموپولیٹن سوسائٹی جس کا نام سڈرہ کمیونٹی تھا۔ انسان کے اخلاقی ارتقأ کی کئی صدیاں دیکھ چکی تھی۔ زندگی سے لبریز سیّاروں کا یہ گلدستہ عظمتِ انسانی کی ایسی مثال تھا جس کا ثانی پوری کائنات میں موجود نہیں تھا۔ دوسوبیالیس میں سے صرف چھتیس سیّارے ایسے تھے جنہیں قدرے سخت تربیت گاہ کہا جا سکتا تھا۔ انہی سیّاروں کا نام جحمان تھا۔ جبکہ باقی تمام سیّاروں پر سُکھ ہی سُکھ تھا۔ ان باقی سیّاروں میں سے اسّی عدد سیّارےجن پر بنادم نسل کے انسان آباد تھے گویا جنت کی مثال تھے۔ اور باقی سیّاروں میں سے ایک سو اٹھارہ سیّارے سڈرہ کمیونٹی کا نظام چلانے کے لیے وقف تھے۔ بعثان، پائرہ، جبرالٹ وغیرہ ایسے ہی سیّارے تھے۔ ان ایک سو اٹھارہ سیّاروں کو کچھ ایسی خصوصیت حاصل نہ تھی کہ انہیں بنادم سیّاروں سے افضل سمجھا جاتا۔ بنادم نسل کے انسان بوقتِ ضرورت یا فقط دیکھنے کی خواہش کے تحت ان میں سے کسی سیّارے پر جاسکتے تھے، جیسا کہ خود پروفیسرولسن کی ٹیم کو جبرالٹ پر اتارا گیا تھا۔ شارق اور ماریہ کو سیّارہ بعثان پر پیدا کیا گیا تھا اور ابتدائی تربیت کے لیے سیّارہ اُلیون پر رکھا گیا تھا جہاں سقراط اور رومی جیسے لوگ موجود تھے۔ دانش اور ایلس پائرہ پر مقیم تھے۔ الغرض ہیومن ورژن ون نسل کے انسان جنہیں سڈرہ کمیونٹی میں بنادم کہا جاتا تھا ہرطرح سے آزاد تھے اور ہرسیّارے پر رہ سکتے تھے۔ لیکن نظام ہی کچھ ایسا تھا کہ بنادم نسل کے انسان اُنہی اسّی سیّاروں پر رہنا ہی پسند کرتے۔ یہ سیّارے جنہیں صرف اور صرف بنادم کے لیے الگ کردیا گیا تھا، دراصل شربری جیسے سیّارے تھے، جہاں فقط سہولیات ہی سہولیات تھیں۔ ان میں سے ضرور ہرسیّارے کی الگ الگ درجہ بندی اور مختلف مقامات تھے لیکن ایک بات اِن اسّی کے اسّی سیّاروں میں مشترک تھی کہ یہاں انسان سہولت سے رہتے اور ہمیشہ خوش رہتے۔

دراصل پوری کمیونٹی کا نظام ایک ایسے فلسفہ کے تحت رواں دواں تھا جس کی بنیاد میں تہہ درتہہ حصولِ عظمت کے بے شمار راستے رکھے گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انسان پے درپے عظمت کی منازل طے کرتے اور نت نئے مشاغل کی وجہ سے نہ صرف نت نئی مہارتوں کے مالک بن جاتے بلکہ اُن کا جذبۂ مسابقت انہی ہر نئی صدی کے ساتھ نئے نئے مقامات سے نوازتا چلا جاتا۔ حصولِ عظمت کے یہ مواقع صرف بنادم نسل کے انسانوں کے لیے ہی نہیں تھے بلکہ مقسور نسل کے انسان عظمت پاتے تو پارمش بن جاتے اور پارمش چاہتے تو خود کو بنادم نسل کے انسانوں میں تبدیل کرکےہیومین ورژن ون اور ٹُو کا حسین امتزاج بن جاتے۔ پارمش سے بنادم بننے کے دو طریقے سڈرہ کمیونٹی میں رائج تھے۔ ہیومین ورژن ون بن کر بنادم بننا یا ہیومین ورژن ٹُو رہتے ہوئے بنادم بننا۔

مثلاً کوئی پارمش اگر بنادم بننا چاہتا تو وہ یا تو ماضی میں سفرکرتا، وہاں قیام کرتا اور پھر وہاں مرجاتا۔ یا پھر وہ جحمان کے سیّاروں پر خدمت کی غرض سے چلا جاتا اور وہاں جن جن سیّاروں پر موت کو عام لوگوں کی نظر میں ایک اٹل حقیقت کے طور پرباقی رہنے دیا گیا تھا، اُن سیّاروں پر خدمت کرتے کرتے مرجاتا۔ ایک بار کوئی پارمش حقیقی موت کا ذائقہ چکھ لیتا تو دوبارہ بیدار ہونے پر اُسے بنادم سمجھا جاتا۔ اسی طرح اگر کوئی بنادم پارمش بننا چاہتا تواسے مختلف تربیتی مراحل سے گزارنے کے بعد پارمشوں والے کام اور عہدے سونپ دیے جاتے اور انہیں پارمش ہی سمجھا جاتا۔ ایک کھرب انسانوں کی کمیونٹی جو دوسوبیالیس سیّاروں پر آباد تھی اتنی سہولت سے اپنے شب و روز میں مصروف تھی تو یہ فقط اُس اخلاقی ارتقأ کا نتیجہ تھا جو ماضی بعید کے انسانوں نے بہت بڑی بڑی قربانیوں کے بعد گویا خودبخود ہی اختیار کرلیا تھا۔

سڈرہ کمیونٹی کا نظام چلانے والے ایک سو اٹھارہ سیّاروں میں سے ایک سیّارے کا نام  ’’لائیسیم‘‘ تھا۔ یہ بھی الیون کی طرح علم و ہنر کا مرکز تھا لیکن یہاں رہنے والے سڈرہ کمیونٹی کے پرانے باشندے تھے۔ جبکہ اُلیون پر تو ایسے انسانوں کو عارضی طور پربسایا جاتا جو سڈرہ کمیونٹی میں نئے ہوتے۔ جیسے شارق اور ماریہ کو وہاں بھیجا گیا تھا۔ زیادہ تر وہی لوگ جنہیں سیّارہ ولسما کے صدرمقام یعنی بعثان پر جگایا جاتا، انہی کو ہی اُلیون بھیج دیا جاتا۔ سقراط یا رومی جیسے صاحبان علم وحکمت اگر وہاں موجود تھے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ سب سڈرہ کمیونٹی میں ابھی نئے تھے۔ سقراط کو بیدار ہوئے کُل تین صدیاں ہی تو ہوئی تھیں۔ لیکن سیّارہ لائیسیم پر ایسے ایسے اہل ِ علم بھی موجود تھے جنہیں کائنات کی باریکیوں پر غور کرتے ہوئے ہزار ہزار سال سے بھی زیادہ ہوچکے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ سیّارہ لائیسیم علم و حکمت کا ایسا مرکز تھا جہاں نہایت باریک فلسفیانہ نکات سے لے کر گہری اور پیچیدہ سائنس یا ریاضی کی بہت اعلیٰ اقسام کا علم ہمہ وقت کسی دریا کی طرح بہتا رہتا تھا اور اس لائیسیم کو گویا پوری سڈرہ کمیونٹی کے تعلیمی نظام کے مرکز کی سی حیثیت حاصل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سیّارہ اُلیون پر بھی لائیسیم کا تذکرہ رہتا اور وہاں ک علماء اور دانشور نہایت حسرت سے لائیسیم آنے اور یہاں رہنے کی باتیں کرتےتھے۔ دراصل سیّارہ لائیسیم کی زندگی اختیار کرنا ایک بڑا رتبہ حاصل کر لینے کے برابر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب تک کوئی عالم فاضل اور فلسفی شخص اپنی علمی قابلیت اور اعلیٰ پائے کی ذہانت یا ایسی ہی کسی منفرد صلاحیت کا مظاہرہ نہ کرپاتا، سیّارہ لائیسیم پر رہنے کے لیے کوالیفائی نہ کرپاتا۔ یہ علمائے ریاضی کا گھر تھا۔ یہاں ٹائم اور سپیس پر تحقیق اپنی انتہاؤں کو چھُو رہی تھی۔ یہاں ہمہ وقت سائنسی ایجادات کے لیے نئے نئے آئیڈیاز کا گویا ایک طوفان سا اُمڈتارہتا جو دیگر کئی سیّاروں تک پہنچتے پہنچتے نہ صرف عملی شکل اختیار کرلیتے بلکہ بہت کچھ تبدیل ہوکر مزید بہتر اور کچھ سے کچھ بنتے چلے جاتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

وسیع و عریض، اونچے ٹیلے پر سبزہ کسی قالین کی طرح بچھا تھا۔ ٹیلے کے وسط میں لکڑی کی عمارت تھی جس کے چاروں طرف ایک برامدہ سا گھوم گیا تھا۔ ٹیلے کی دوسری طرف جھیل تھی۔ جھیل کے پانی پر بہت سی مرغابیاں تیرتی پھر رہی تھیں۔ ایک کنارے پر بے شمار نیل کنٹھ یوں اکڑ اکڑ کر گھوم رہے تھے گویا جھیل ان کی ذاتی ملکیت تھی۔ جھیل کے پانی پر ایک لکڑی کا آزاد تختہ تیررہاتھا۔ یہ تختہ بہت بڑا تھا۔ اتنا بڑا کہ تختے پر پوری ایک بارہ دری سی بنادی گئی تھی۔ دراصل اسے تختہ کہنا مناسب ہی نہیں تھا۔ اِسے تو لکڑی کی ایک تیرتی ہوئی عمارت کہاجانا چاہیے تھا۔ کسی اجنبی نوع کے خوش رنگ پرندے جو بارہ دری کے فرش پر پھڑپھڑارہے تھے دراصل تیرنے ہی نہیں بلکہ گہری ڈُبکی لگانے کے بھی ماہرتھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد لمبی چونچ والا کوئی ایک خوشرنگ پرندہ جھیل کے پانی میں کود کر غائب ہوجاتا اور پھر کافی دیر کے بعد کسی اور طرف سے کلکاریاں بھرتا ہوا نکلتا۔ بارہ دری میں بھاری بھرکم لیکن نہایت نفیس قالین بچھا تھا جس پرہلکے گلابی رنگ کی چار مسہریاں آمنے سامنے دھری تھیں۔ ان پر ملائم تکیے سجے تھے۔ درمیان میں ایک بڑے مرجانی رنگت کی میز پر ناؤنوش کا سارا سامان دھرا تھا۔ قدرے فاصلے پر بارہ دری کے ایک دَر میں ایک اکیلی لڑکی کھڑی، دُور آفاق میں کہیں کھوئی ہوئی تھی۔

معاً فضا میں کسی پرندے کی پھڑپھڑاہٹ سنائی دی۔ اگلے لمحے ایک مقسور لڑکا جھیل کے پانیوں پر پرواز کرتادکھائی دیا۔ وہ سرتاپا سفید تھا۔ بارہ دری میں کھڑی لڑکی نے چونک کر مقسور لڑکے کی طرف دیکھا لیکن اپنی جگہ سے نہ ہِلی۔ کچھ ہی دیر بعد لڑکا آہستہ آہستہ اپنے پر سمیٹتاہوا تیرتی ہوئی باردہ دری میں آن اُترا۔

’’مدرجون! میں آپ کے لیے ایک خوشخبری لایا ہوں‘۔

لڑکی اب گھوم کر نوجوان کے سامنے آچکی تھی۔ اس کے چہرے پر یکایک بےپناہ مسرت نمودار ہوئی۔

’’ کک، کیا؟ واقعی؟ مائی گاڈ! کتنا شدت سے انتظار تھا مجھے اِس لمحے کا‘‘

یہ جون تھی۔ جون آف آرک۔ وہ گزشتہ دوسوسال سے سیّارہ شربری پر آرام اور سہولت کی زندگی گزار رہی تھی۔ طویل آرام اور آسائش نے بالآخر جون کو کچھ کرنے پر اُکسایا اور اُس نے شربری کی انتظامیہ کے سامنے اپنی خواہش کا اظہارکیا۔ وہ مدر بننا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ مدر کا فریضہ عام طور پر پارمش نسل کی عورتیں ہی سرانجام دیتی تھیں لیکن اگر کبھی کوئی بنادم نسل کی عورت مدر بننا چاہتی تو اُس کی خدمات کو خوشدلی کے ساتھ قبول کیا جاتا تھا۔ آج جون کی آرزو کا جواب آیا تھا۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھی اور مقسور نوجوان کے ہاتھوں سے، لپٹا ہوا سرکاری پیغام اُچک لیا۔ یہ شاہی فرمان کی شکل کا مکتوب تھا، جیسے پرانے زمانے کے بادشاہ ایک دوسرے کو لکھا کرتے تھے۔ جون نے تیزی سے خط کی عبارت پڑھنا شروع کر دی۔ یہ ایک اجازت نامہ تھا۔ اب وہ مدر بن سکتی تھی۔ اس کی تیرتی ہوئی باردہ دری میں اُترنے والے مقسور نے اُسے پکار ہی مدر کہہ کر تھا۔ وہ ایک لمحے کے لیے حیران تو ہوئی تھی لیکن پھر فوراً سمجھ گئی

جون آف آرک فی الاصل پندرھوریں صدی عیسوی کی ایک شہید تھی۔ وہ صرف اُنیس سال کی عمر میں شہید کردی گئی تھی۔ جون آف آرک کو 30 مئی 1431 کے روز لکڑیوں کے ایک بہت بڑے ڈھیر پر باندھ کرزندہ جلادیا گیا تھا۔ اُنیس سالہ جون آف آرک غریب اور مفلوک الحال والدین کی ایسی دلیر بیٹی تھی جس نے اتنی چھوٹی سی عمر میں اپنے وقت کے مستبد انگریز حکمرانوں کے خلاف صدائے حریّت بلند کی تھی۔ انگریزوں کے عیسائی پادریوں نے جون آف آرک پر عجیب و غریب الزامات عائد کرکے اُسے زندہ جلانے کا حکم جاری کردیاتھا۔ انیس سالہ معصوم اور فرانسیسی حسن سے مالامال دلیر لڑکی ہزاروں تماشائیوں کی موجودگی میں اپنے وقت کے نمرود کی آگ میں جل کر کوئلہ بن گئی۔

سڈرہ کمیونٹی میں جون بہت پرانی تھی۔ اسے بیدار ہوئے چارسوسال سے زیادہ ہوچکے تھے۔ شروع کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد وہ کئی بارونق سیّاروں پر مختلف طرز کی خوشحال زندگیوں سے لطف اندوز ہوتی ہوئی بالآخر شربری پر آپہنچی۔ شربری مکمل طور پر آزاد اور بے پرواہ لوگوں کا سیّارہ تھا۔ اب وہ گزشتہ دوسوسال سے یہیں مقیم تھی۔

پروں والے مقسور لڑکے نے جون کو خوش دیکھا تو مسکرانے لگا۔ جون نے خوشی کی شدت میں اُسے اپنے ساتھ شراب پینے کی دعوت دی۔ وہ اور بھی خوش ہوگیا۔ وہ دونوں آمنے سامنے رکھی آرام دہ مسہریوں پر بیٹھ گئے۔ جون نے شیشے کے دو جاموں میں سُرخ شراب اُنڈیلی اور ایک جام مقسور لڑکے کی طرف بڑھاتے ہوئے سوال کیا،

’’تمہارا نام کیا ہے خوبصورت لڑکے؟‘‘

’’میں آسمیز ہوں‘‘

لڑکا بدستور مسکرا رہاتھا۔ اس کی گھنی سیاہ پلکوں تلے نہایت خوبصورت بڑی بڑی آنکھیں اتنی روشن تھیں کہ جون کو لڑکے پر رشک آنے لگا۔ اس نے نہایت خوشدلی سے ہنستے ہوئے کہا،

’’ارے واہ! یہ تو بہت خوبصورت نام ہے۔ اچھا بتاؤ! تمہیں کبھی کوئی لڑکی پسند آئی؟ یا صرف ہواؤں میں ہی اُڑتے رہتے ہو؟‘‘

’’ہاہاہاہا!‘‘

لڑکا جواب دینے کی بجائے قہقہہ مار کر ہنس دیا۔ جون کو قدرے حیرت ہوئی۔ لیکن وہ مُسکراتی ہوئی نظروں سے لڑکے کی طرف دیکھتی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ لڑکا ضرورمکمل جواب دے گا۔ کچھ دیر بعد مقسور لڑکے نے کہنا شروع کیا،

’’میں ایک کوڈ کے طور پر لکھا گیا تھا۔ سب سے پہلے مجھے کمپیوٹر کے تھری ڈی گرافکس کے ماہرین نے ڈیزائن کیا۔ پھر سیّارہ لائیسیم کی ایک یونیورسٹی میں چند طلبہ نے میرا کوڈ لکھا۔ میرا ڈی این اے پہلے سے کہیں موجود نہیں تھا۔ میرا ڈی این اے شروع سے ہی صرف ایک کوڈ تھا۔ مالیکیولوں کی ایک مخصوص ممکنہ ساخت کو کسی ریاضی کی مساوات کے طور پر لکھ دیا گیا تو میں بن گیا۔ یہ میری پوری شخصیت کا احاطہ کرتا ہوا کوڈتھا۔ پھر سڈرہ کے بیالوجی کے ماہرین نے میرا ڈی این اے ترتیب دیا۔ تب مجھے ایک زندہ خلیے میں ڈال کر پیدائش کے عمل سے گزارا گیا۔ آج سےکئی سال پہلے جب ابھی میں ابتدائی تعلیم حاصل کررہاتھا مجھے اِن تمام تفصیلات کا پتہ چلا تو مجھے شدید دُکھ ہوا۔ مجھے لگا کہ میری زندگی فقط کسی ایک طالب علم کی اسائمنٹ کا نتیجہ ہے۔ میں ایک سٹوڈینٹ کی اسائنمنٹ ہوں۔ تب میرے جذبات ضرورت سے زیادہ شدید ہونے لگے اور کمیونٹی نے مجھے سیّارہ ’’آلیفانس‘‘ بھیج دیا۔ کیا آپ نے کبھی سیّارہ آلیفان کا نام سنا ہے؟‘‘

’’نہیں! یہ کونسا سیّارہ ہے؟‘‘

’’یہ محبت کا سیّارہ ہے‘‘

آسمیز نے مُسکراتےہوئے جواب دیا۔ وہ جانتا تھا کہ ایسے کسی سیّارے کا ذکر سن کر جون ضرور حیران ہوگی۔ آسمیز نے کچھ دیر توقف کیا اور پھر کہنے لگا،

’’یہ نوجوانوں کا سیّارہ ہے، کم عمر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خاص طور پر مقسور نسل کے انسان۔ یہاں جو لڑکے اور لڑکیاں بھیجے جاتے ہیں وہ بنیادی طور پر وہی ہوتے ہیں جیسا کہ میں تھا۔ میرے جذبات زیادہ تھے۔ میں بنادم نسل کا انسان بھی نہیں ہوں کہ مجھے صبر کی تربیت کے لیے جحمان کے سیّاروں پر بھیجا جاتا۔ میں تو بے قصور اور معصوم بچہ تھا جو کسی وجہ سے اپنے کوڈ سے کچھ بڑھ کر جذباتی یعنی اموشنل نکل آیا۔ اب مجھے بھی ایک طرح سے صبر کی تربیت درکار تھی۔ میری جذبات کو اعتدال پرلانے کا ایک ہی حل تھا کہ مجھے آلیفان بھیج دیا جاتا جہاں بے شمار حسین لڑکیاں میرا انتظار کر رہی تھیں۔ میں نے ایک سے ایک لڑکی پسند کی اپنے لیے اور وہاں سات سال مقیم رہا جس کے بعد پھر مجھے دوبارہ واپس کام پر بلا لیا گیا‘‘

جون نے یہ باتیں پہلی بار سنی تھیں، اس لیے وہ زیادہ حیران ہورہی تھی۔ آج اُس کے علم میں آیا تھا کہ ایسا بھی کوئی سیّارہ ہے جہاں لڑکے اور لڑکیوں کو فقط محبت کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتاہے۔ وہ دل ہی دل میں خوش بھی ہورہی تھی۔ گزشتہ چار سوسال میں ایک دن بھی ایسا نہ آیا تھا جب سڈرہ کمیونٹی کی کسی بات پر اس کا دل میلا یا خفا ہوا ہوتا۔ آج بھی آلیفان سیارے کا ذکر سن کر وہ بے پناہ متاثرہورہی تھی۔ اس نے کسی خیال کے تحت ایک اور سوال کیا،

’’صرف سات سال؟ سات سال ہی کیوں؟ اور اگر کوئی وہاں زیادہ لمباعرصہ رہنا چاہے تو؟‘‘

’’نہیں! وہاں حقیقی پچیس سال کی عمر کے نوجوانوں سے زیادہ عمر کسی کی نہیں۔ حقیقی پچیس سال کا ہوجانے پر سب کو وہاں سے بلالیا جاتاہے۔ وہ واحد سیّارہ ہے جہاں کوئی سڈریَن لمبی عمر والا نہیں ہے‘‘

یہ بات اور بھی چونکا دینے والی تھی۔ اب دونوں نے اپنے اپنے گلاس ختم کرلیے۔ جون دوبارہ شراب ڈالنے لگی تو مقسور لڑکے آسمیز نے نہایت خلوص سے اس کا ہاتھ روک لیا،

’’ارے مدر! بس کیجیے! آپ کے والی شراب پی لی تومیں ہواؤں میں جھولتا پھرونگا۔ مجھے ابھی جانا ہے۔ ابھی مجھے آپ کے مدر بن جانے کی اطلاع آپ کے والدین تک بھی پہچانی ہے اور پھر واپس ہیڈ آفس رپورٹ بھی کرنی ہے‘‘

جون نے مسکراتے ہوئے ہاتھ روک لیا اس نے اپنے جام میں بھی مزید شراب نہ ڈالی۔ معاً نہایت خوشگوار ہوا کا ایک جھونکا آیا اور تیرتی ہوئی بارہ دری جھولنے لگی۔ جھیل کے پانی پر لہریں سی پیدا ہوئیں اور پانی کی سطح پر تیرتے پرندے بھی اپنی اپنی جگہ جھولنے لگے۔ اسی اثنأمیں آسمیز اُٹھ کر کھڑا ہوگیا۔

’’اب میں چلتاہوں مدر!‘‘

جون بھی اُٹھ کھڑی ہوئی،

’’لیکن یہ تو بتاتے جاؤ کہ اب مجھے کیا کرنا ہوگا؟ مطلب اِس منظوری کے بعد اب مجھے کہاں جاناہے؟ کس سے ملناہے؟ مجھے کون سی ذمہ داری سونپی جائے گی‘‘

آسمیز نے جون کی بات سُنی تو کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر جواب دیا،

’’اسی پیغام میں سب کچھ لکھاہے۔ آپ نے ابھی مکمل خط پڑھا بھی تو نہیں‘‘

جون نے چونک کراپنے ہاتھ میں تھمے، لپٹے ہوئے ریشمی خط کی طرف دیکھا اور مُسکرانے لگی،

’’اچھا ٹھیک ہے! تم جاؤ!‘‘

کچھ ہی دیر بعد مقسور لڑکا واپس جھیل کی سطح پر اُڑرہاتھا۔ جون اُسے واپس جاتاہوا دیکھ رہی تھی۔ ہوا ابھی تک چل رہی تھی اور جھیل کی سطح پر ابھی تک لہریں پیدا ہورہی تھی۔ تیرتی ہوئی باردہ دری ابھی تک جھول رہی تھی اور دور جھیل کی سطح پر تیرتی مرغابیاں ابھی تک پانی کی موجوں کا جھولا جھول رہی تھیں۔ مقسور لڑکے کے نظروں سے اوجھل ہوجانے تک جون، اپنی جگہ کھڑی اُسے دیکھتی رہی۔ اور پھرجب وہ دُور فضاؤں میں کھوگیا تو وہ واپس لوٹی اور گلابی مسہری پر رکھے ملائم تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ اب وہ سرکاری پیغام پڑھ رہی تھی۔

*******

’’جی ہاں! دانش نے رضامندی اور تجسس کا اظہار کیا ہے‘‘

یہ آئیسوان کے نمائندے ’’جائیسلون‘‘ کی آواز تھی، جسے آئیسوان اپنے دماغ میں سن رہا تھا۔ آئیسوان اِس وقت اپنے دفتر میں بیٹھا چند پرانے رجسٹروں پر جھکا ہوا تھا۔ جبکہ اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس کے خیالات میں ایک منظر چل رہا تھا۔ وہ اپنے نمائندے ’’جائیسلون‘‘ کے ساتھ بات کررہاتھا۔ یہ لوگ بظاہر کسی عمارت کے ٹیرس پر کھڑے تھے۔ جبکہ فی الحقیقت جائیسلون سیّارہ پائرہ پر موجود تھا اور آئیسوان ولسما کے ہیڈآفس یعنی اپنے دفتر میں تھا۔ آئیسوان نے اپنے نمائندے کی بات سنی تو پہلے کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگیا۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے اُس نے سوال کیا،

’’دانش کو لمبی تربیت کی ضرورت ہوگی۔ میریخواہش ہے کہ پروفیسرولسن اور اُن کی ٹیم کے سیّارہ زمین تک پہنچنے سے پہلے پہلے یہ لڑکا تیار ہوجائے۔ کسی شخص کو ماضی میں بھیجنے کا سب سے آسان طریقہ مجھے یہی نظر آتاہے کہ اُسے داستان گو کے طور پر روانہ کردیا جائے۔ یہ عام ٹائم ٹریولر کا کام ہی نہیں ہے۔ کوئی شخص بھی ڈاکٹر ہارون کی تمام تر یاداشت کو چند دن میں ریکارڈ نہیں کرسکتا۔ جب تک کوئی واپس 2011 عیسوی میں جاکر وہاں مستقل قیام نہیں کرے گا، ڈاکٹرہارون کی یاداشت کا واپس لانا ممکن نہیں ہے‘‘۔

آئیسوان کے نمائندے جائیسلون نے قدرے حیرت سے اپنے آئیسوان کی طرف دیکھا۔ جائیسلون دراصل وہی داستان گوتھا جوسیّارہ پائرہ کے ایک قہوہ خانے میں دانش سے ملا تھا اور اس نے باتوں باتوں میں دانش سے پوچھا تھا کہ اگر اسے ماضی میں واپس جانے کا موقع ملے تو کیا وہ جانا چاہے گا یا نہیں؟ جائیسلون اب خود داستان گو تھا یہی وجہ تھی کہ آئیسوان نے اُسے غیر محسوس طریقے پر دانش کے دل کا حال جاننے کی ذمہ داری سونپ کر سیّارہ پائرہ پر بھیجا تھا۔ وہ خود ایک ترقی یافتہ پارمش تھا اور سینکڑوں سال دیگر اداروں میں کام کرنے کے بعد بالآخر وہ داستان گو بن گیا تھا۔ وہ خود ایک پرانا اور تجربہ کار پارمش تھا اسی لیے تو وہ آئیسوان کے دماغ کے ساتھ خیالات کے ذریعے رابطہ کرنے کا فن جانتا تھا۔ یہ فن جاننے والے لوگ پوری سڈرہ کمیونٹی میں فقط وہی پارمش ہوا کرتے تھے جو سینکڑوں سالوں سے سرکاری خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

آئیسوان نے اسے بظاہر تو ایک جاسوس بنا کر دانش کے پاس بھیجا تھا لیکن یہ جاسوسی کسی زور زبردستی کے لیے نہ کی گئی تھی۔ یہ فقط دانش کے دل کا حال جاننے کی ایک باسلیقہ کوشش تھی۔ ایک اور بات جس کی وجہ سے آئیسوان اپنے اِس عمل کو جائز سمجھتا تھا وہ یہ تھی کہ خود جائیسلون ایک طویل عرصہ سے حقیقی انسانی ماضی میں جانے کا تمنّائی اور شوقین تھا۔ اس نے اپنے اس شوق کا اظہار دانش کے سامنے بھی کیا تھا، جب دانش نے اُس سے سوال کیا کہ

’’لیکن تم نے مجھ سے یہ کیوں پوچھا کہ اگر مجھے ماضی میں جانے کا موقع ملے تو میں واپس جاؤنگا یا نہیں؟‘‘

تو اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے جائیسلون نے دانش سے کہا تھا،

’’اسی لیے پوچھا نا! میں جب بھی اس پارمش داستان گو کو دیکھتاہوں میرا جی چاہتاہے کہ میں بھی ماضی میں جاؤں۔ کسی صدی کے کسی دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں اور پھر واپس آکر وہاں کی کہانیاں سناؤں‘‘۔

جائیسلون پارمش تھا اور داستان گو تھا لیکن ابھی تک اسے حقیقی انسانی ماضی میں جانے کا ایک بھی موقع نہ ملا تھا۔ وہ پارمش تھا اور بہت پرانا پارمش تھا اس لیے وہ ہمیشہ سڈرہ کمیونٹی کی ابتدائی صدیوں کی کہانیاں ہی سنایا کرتا تھا۔ لیکن اسے بے پناہ شوق تھا کہ وہ بائیسویں صدی سے پہلے کی صدیوں کا سفر کرے۔ وہ جانتا تھا کہ جب تک داستان گوئی کا عظیم ادارہ اُسے ٹائم ٹریول کے لیے منتخب نہیں کریگا وہ نہیں جاسکتا۔ آئیسوان نے جب اُسے پائرہ پر جاکر دانش کے دل کا حال معلوم کرنے کے لیے کہا تو وہ بہت خوش ہوا۔ یہ ایک طرح سے اس کی اپنی خواہش تھی جس کی تکمیل کے شوق میں وہ دانش سے ملا اور حسرت سے اُسے دیکھتا رہا کیونکہ آئیسوان نے اُسے دانش کے بارے میں بتادیا تھا۔ آئیسوان نے اُسے بتادیا تھا کہ دانش کو اکیسویں صدی میں بھیجنے کی درخواست کیے جانے پر غور ہورہاہے۔

آئیسوان نے آنکھیں کھول دیں۔ اب وہ ذہنی طور پر بھی اپنے آفس میں ہی موجود تھا۔ اس نے اپنے سامنے رکھے رجسٹروں کو بند کیا اور قدرے تیزی سے اُٹھ کر ایک اور الماری کھولی اور اُس میں سے مزید پرانے رجسٹر نکالنے لگا۔ ساتھ کے ساتھ اُس کاذہن تیزی سے چل رہا تھا۔

’’اگر یہ لڑکا 2011 میں جانے اور وہاں رہنے کے لیے تیار ہوجاتاہے تو موت کے وقت اس کا پرسنٹیج مناسب ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ وہ انکار نہیں کرےگا۔ وہ دونوں میاں بیوی جانتے ہیں کہ چالیس دن کے بچے کو پیٹ میں قتل کردینا پرسٹیج کے اعتبار سے کوئی درست عمل نہیں تھا‘‘۔

آئیسوان مسلسل دانش کے بارے میں ہی سوچے چلا جارہاتھا۔ دراصل اُسے ڈاکٹرہارون کو جگانے کا جنون تھا لیکن ڈاکٹر ہارون تھا کہ ہرگزرنے والے دن کے ساتھ آئیسوان کے لیے چیلنج بنتا جارہاتھا۔ آئیسوان نے انیتا کی بجائے دانش کا انتخاب اس خیال کے تحت کیا کہ وہ جانتا تھا دانش اور ایلس اپنے پرسٹیج کے مسئلہ پر پریشان ہیں۔ ایلس کے بارے میں تو اسے تسلی تھی کہ ممتا کے جذبات کی تکمیل کے دوران اس کا پرسنٹیج بہتر ہوسکتاہے لیکن دانش کے معاملے میں اسے یقین نہیں تھا۔ وہ چاہتا تو ان دونوں میاں بیوی کا پرسنٹیج ان کی زندگیوں میں ہی نکال سکتا تھا لیکن یہ بات سڈرہ کمیونٹی کے قوانین کے خلاف تھی۔ اس لیے وہ فقط اندازے لگا رہا تھا اور ظاہر ہے آئیسوان جیسے شخص کے اندازے غلط ہونے کی توقع کم ہی کی جاسکتی تھی۔

وہ یہی سوچ رہاتھاکہ ” دانش اور پروفیسر ولسن کی ٹیم 2049 سے آئی ہے۔ دانش 2011 کا بندہ نہیں۔ 2011 اُس کے اپنے وقت کے مطابق بھی ماضی کا دور ہوگا۔ اس لیے دانش کو بہت زیادہ تربیت کی ضرورت ہے۔ بس اب مجھے ایک بار اُس سے ملنا پڑیگا اور پھر میں یہ سارا کیس مائمل کے سامنے رکھ دونگا‘‘۔

آئیسوان پارمش تھا اور بے پناہ تجربہ کار تھا لیکن اس کے جذبات کسی بنادم کی طرح شدید تھے۔ وہ شوق کا مارا ہوا تھا۔ اُسے جنون تھا کہ سڈرہ کمیونٹی میں لوگوں کو جگانے کا نظام بہتر سے بہتر کس طرح بنایاجاسکتاہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ گزشتہ اسّی سال سے ڈاکٹر ہارون کو جگانے کی کوشش کررہاتھا۔ اس کا خیال تھا کہ ڈاکٹر ہارون کا ریاضیاتی اخلاقیات کا نظریہ ضرور کسی نئے اور زیادہ مناسب طریقہ کی طرف رہنمائی کرسکتاہے۔ آئیسوان جانتا تھا کہ سیّارہ لائیسیم کے پروفیسر اور فلسفی ہمہ وقت پرسنٹیج کے نظام پر مختلف مباحث منعقد کیا کرتے تھے اور بے شمار ایسے اعتراضات تھے جو اب تک اس نظام پر عائد کیے جاچکے تھے۔ وہ خود سینکڑوں مرتبہ لائیسیم جاچکا تھا۔ بعض بڑی بڑی علمی تقریبات میں اس نے اسی لیے شمولیت کی تھی کہ اُن تقریبات کے موضوعات فقط پرسنٹیج کا نظام تھے۔

دانش کے دل کا حال جاننے کے بعد اب آئیسوان پہلے کی نسبت قدرے زیادہ مطمئن نظر آرہاتھا۔ اُس کے چہرے پر ایک پرسکون سی مسکراہٹ صاف دیکھی جاسکتی تھی۔ وہ الماری سے رجسٹر نکال لایا تو پھر اس پر جھک گیا اور کچھ تلاش کرنے میں مصروف ہوگیا۔

*******

سیّارہ عیراش پر پالما کے ہیڈ آفس میں، اِس وقت سڈرہ کمیونٹی کی بڑی مجلسِ شوریٰ کا ہنگامی اجلاس جاری تھا۔ یہ بڑی مجلس شوریٰ تھی۔ اس میں سڈرہ کمیونٹی کے بنیادی پچیس ارکان کے علاوہ بھی بے شمار لوگ شریک تھے۔ ہال تین چار سو افراد سے بھرا ہواتھا۔ کئی چہرے ایسے تھے جنہیں دیکھ کر صاف اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ لوگ سیّارہ لائیسیم کے پروفیسرز ہیں۔ یہ بہت خاص اجلاس تھا۔ حال ہی میں سڈرہ کمیونٹی کے ادارہ پالما نے ایک ایسا سیّارہ دریافت کرلیا تھاجہاں پر پہلے سے زندگی موجود تھی۔ یہ ہنگامی اجلاس اسی سیّارے کی بابت مزید غور فکر کرنے کے لیے مائمل نے خود بلوایا تھا۔

سب لوگ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو سڈرہ کمیونٹی کے بنیادی پچیس ممبران میں سے ایک یعنی ’’سائی شین‘‘ نے اپنی نشست پر کھڑے ہوکر اجلاس کے مقاصد اور ایجنڈے کے نکات سے تمام شرکا کو آگاہ کیا۔ اس نے اپنی مختصر تعارفی تقریرمیں کہا،

’’جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت ہم تاریخ کے ایک نہایت اہم واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یعنی ہم نے ایک ایسا سیّارہ بھی دریافت کرلیا ہے جہاں پر زندگی پہلے سے موجود ہے۔ اب سے پہلے ہم نے جتنے سیّارے آباد کیے، وہ ہم نے خود ہی آباد کیے۔ وہاں انسان موجود ہیں تو ہم نے انہیں وہاں پہنچایا۔ وہاں اگر زندگی موجود ہے تو ہم نے وہ زندگی وہاں پہنچائی۔ لیکن اب کی بار جو سیّارہ ہمیں ملا ہے۔ یہاں زندگی ہم نے آباد نہیں کی۔ بلکہ یہ زندگی پہلے سے، یہاں موجود ہے۔ یہ سیّارہ ٹائفون کہکشاں کا سیّارہ ہے۔ یہ علاقہ ہم سے بے پناہ دور ہے۔ اتنا دُور کہ ابھی ہمارے لیے وہاں جاکر کسی بھی قسم کے انتظامات کرنا آسان نہیں۔ ہاں البتہ! پہلے دن جب سیّارہ دریافت ہوا تو پالما کے ماہر ’’ٹیلی پورٹرز‘‘ نے فوری طور پر وہاں کا سفر کیا۔ وہ لوگ ابھی تک وہیں ہیں۔ چنانچہ اب ہمارے پاس اُس سیّارے کے بارے میں تمام معلومات موجود ہیں۔ آپ میں سے جتنے لوگ اس سیّارے کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بے قرار ہیں، وہ تھوڑی دیر انتظار کریں تو مائمل آپ کو خود اس سیّارے کی وڈیو دکھائیں گی۔ البتہ میں اپنی بات کا اختتام اس سوال کے ساتھ کرتی ہوں کہ آپ لوگ، اس سیّارے سے متعلق کیا کہتے ہیں؟ لائیسیم سے تشریف لائے ہماری کمیونٹی کے بعض بڑے پارمش فلسفیوں کا یہ خیال ہے کہ ہمیں اس سیّارے کی قدرتی زندگی میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ اس سیّارے پر موجود حیات کو اپنے آپ ارتقأ کرتے رہنے دینا چاہیے۔ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہمیں وہاں ضرور اپنا کیمپ قائم کرنا چاہیے اور وہاں موجود حیات کی نگرانی اور حفاظت کرنا چاہیے۔ الغرض آپ تمام ممبران سے درخواست ہے کہ نئے دریافت ہونے والے سیّارے پر آباد کاری کے حوالے سے اپنے اپنے مشوروں سے نوازیں تاکہ ہم کسی فیصلے پر پہنچ سکیں‘‘۔

لائی سین کی تقریر ختم ہوئی تو مائمل نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے ہی کسی کو ہاتھ کے اشارے سے کچھ کہا اور پھر سامنے کی بڑی دیوار پر ایک فلم چلنے لگی۔ یہ نئے سیّارے کی فلم تھی۔ ہال میں موجود سب لوگ ہکّا بکّا نئے سیّارے کو دیکھ رہے تھے۔ یہ تو واقعی ایک آباد سیّارہ تھا۔ گھنے جنگلات سے پورا سیّارہ یوں بھرا ہوا تھا کہ پورا سیّارہ ہی سبز دکھائی دیتا تھا۔ بڑے بڑ ےسرسبزمیدان جن میں میموتھ چررہے تھے۔ میموتھوں کو چرتا ہوا دیکھ کر تمام شرکا کے دل میں ایک ہی خیال آرہا تھا کہ اب ضرور وہ کسی نہ کسی نینڈرتھل یا کرومیگنان کو بھی دیکھیں گے۔ کیونکہ اجلاس سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوچکا تھا کہ نئے دریافت ہونے والے سیّارے پر انسان نما نسلوں کے جانور بھی موجود تھے۔ میموتھ ہاتھیوں سے بھی بڑے جانور تھے۔ ان کے جسموں پر بڑے بڑے بال تھے جو انہیں برفانی عہد کی سردی سے محفوظ رکھتے تھے۔ نئے سیّارے پر یہ گویا آخری برفانی عہد کے آغاز سے کچھ ہی عرصہ پہلے کا زمانہ تھا۔ لوگ نہایت توجہ اور انہماک سے نئے سیّارے کی ویڈیو دیکھ رہے تھے۔ کسی کسی وقت کوئی پارمش ٹیلی پورٹر بھی کیمرے میں نظر آجاتا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سیّارے کی دریافت کے بعد فی الفور اُس سیّارے پر ٹیلی پورٹ ہوگئے تھے۔ یہ پارمش ماہرین تھے جو پالما میں کام کرتے تھے۔

نئے سیّارے پر زندگی ہی موجود نہ تھی بلکہ نینڈرتھل اور کرومیگنان نسل کے انسان بھی موجود تھے۔ ہال میں بیٹھے کئی ماہرین ِ ارتقأکی تیوریوں پر بل تھے۔ انہیں حیرت تھی تو اس بات پر کہ زمین کے ابتدائی ادوار کی طرح یہاں بھی ارتقأ شروع تھا لیکن اگر ایسا تھا تو کیا ہی ضروری تھا کہ قدرت ارتقأ کی بعینہ وہی کہانی یہاں بھی دہراتی جو زمین پر پیش آئی تھی۔ لائیسیم سے آنے والے زیادہ ترپروفیسر اسی بات پر پریشان تھے۔ کیا فطرت کے پاس ارتقأ کا ایک ہی طریقہ ہے؟ وہ مسلسل ایسے ہی سوالات سوچ رہے تھے۔

پالما نے نئے سیّارے کو ابھی کوئی نام نہ دیا تھا۔ کسی سیّارے کو نام دینے کا کام بنیادی پچیس ارکان کا تھا اور ان ارکان کی خصوصی مجلس ِ شوریٰ ابھی منعقد ہونا باقی تھی۔

لوگ دیکھ رہے تھے کہ نئے سیّارے پر ہرطرف شفاف دریا اور نہریں بہہ رہی تھیں۔ ابھی یہاں کے انسان نما جانور، اصلی والے تہذیب یافتہ انسان نہیں بنے تھے۔ ابھی یہاں لوگ لباس سے بے نیاز اور بیگانگیِ ذات کا شکار تھے۔ ٹیلی پورٹرز کی ویڈیوز میں سیّارے کے مختلف حصے دکھائے گئے تھے۔ سیّارے پر کئی براعظم تھے۔ غالباً بیس سے زیادہ اور ہربراعظم پوری طرح سرسبزوشاداب تھا۔ ہربراعظم پر زندگی موجود تھی۔ سیّارے کے خطِ استوأ کے آس پاس بسنے والے انسان نما جانور کالے تھے جبکہ سیّارے کے قطبین کی طرف کے لوگ گورے تھے۔ خطِ استوأپر سورج عین نوّے کے زاویے پر پڑتاتھا اس لیے لوگ کالے تھے۔ اس سیّارے کا سُورج بھی سیّارہ زمین کے سُورج جیسا ہی تھا۔ دن کی لمبائی میں بھی فرق نہیں تھا۔ اس سیّارے پر بھی چوبیس گھنٹے کا دن تھا۔ لوگ دیکھ رہے تھے کہ سیّارہ جنگلی حیات سے لبریز تھا۔ شیر جیسے جانور، چیتے جیسے جانور، بندر، گھوڑے، سانپ، ہرطرح کے پرندے، ہرطرح کے گوشت خور اور سبزی خور، الغرض یہ سیّارہ ہوبہُو ویسا تھا جیسا سیّارہ زمین اپنے آخری برفانی عہد میں تھا۔ یہ گویا اِس سیّارے کے لیے پتھر کا دور تھا۔ یہاں کے نینڈرتھل بھی پتھر سے ہتھیار بناتے اور یہاں کے ہومواریکٹس بھی آگ جلانا سیکھ چکے تھے۔

ہال میں موجود ہرشخص شدید حیرت کا شکار تھا۔ کوئی کسی کے ساتھ کوئی بات نہ کررہاتھا۔ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے سیّارہ زمین کی کہانی کو اُس کے عین حقیقی رنگ میں دیکھ رہے تھے۔ فطرت اپنے ایک عمل کو دہرا رہی تھی۔ ایک سیّارے پر پیدا ہونے والا زندگی کا پودا، کسی دوسرے سیّارے پر بعینہ اُسی طریقے پر پیدا ہورہاتھا۔

کافی دیر ویڈیو چلتی رہی اور پھر جب ویڈیو اچانک ختم ہوئی تو پورے ہال میں بے پناہ خاموشی چھاگئی۔ اگر فرش پر ایک سُوئی بھی گرتی تو اس کی آواز سنائی دیتی۔ کافی دیر یونہی خاموشی چھائی رہی اور پھر اس سکوت کو مائمل نے ہی توڑا۔ مائمل نے اپنی نشست پر کھڑی ہو کر قدرے بلند آواز کے ساتھ کہنا شروع کیا،

’’میں اپنی تجویز سب سے پہلے پیش کرتی ہوں۔ اس کے بعد آپ تمام لوگ باری باری اپنی اپنی تجاویز پیش کرسکتے ہیں۔ فیصلہ اکثریتی رائے کے ساتھ ہی کیا جائے گا جو ہماری ’’بڑی مجلس شوریٰ‘‘ کا اُصول ہے‘‘

پورا ہال یکلخت ہوش میں آگیا۔ سڈرہ کمیونٹی کی سب سے بڑی عورت، سب سے بڑی عہدہ دار، سب سے بڑی ذمہ دار یعنی مائمل اپنی تجویز پیش کرنے لگی تھی۔ سب لوگ ہمہ تن گوش ہوگئے۔ سیّارہ لائیسیم کے بڑے بڑے سائنسدان اور پروفیسرز تک اپنی نشستوں پر پہلو بدلنے لگے۔ سب جانتے تھے کہ مائمل کوئی معمولی تجویز ہرگز نہ دے گی۔ مائمل نے کچھ دیر توقف کیا، لوگوں کے چہروں پرآنے والے تاثرات پر کسی حد تک غور کیا اور پھر کہنے لگی،

’’میری تجویز یہ ہےکہ اس سیّارے کو اِس کے حال پر چھوڑ دیا جائے لیکن فقط اس قدر اضافے کے ساتھ کہ ہم یہاں سے ایک انسانی جوڑا وہاں مستقل طور پر رہنے کے لیے بھیج دیں۔ وہ جوڑا وہاں قیام کرے۔ اولاد پیدا کرے، جس کی اولاد وہاں موجود انسان نما نسلوں میں وقت کے ساتھ گھل مل جائے۔ ہم یہاں سے اپنے دونوں نمائندوں کی نگرانی کریں۔ ضرورت پڑنے پر اُن کی رہنمائی کریں لیکن سیّارے کے بنیادی ماحول کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کریں‘‘

مائمل کی تجویز واقعی نرالی تھی۔ ہال میں موجود لوگوں کی اکثریت خود بخود ہی اپنے آپ کو مائمل کی تجویزکے ساتھ متفق پانے لگی۔ لیکن ابھی بہت سے پروفیسرز کی تیوریوں پر بل تھے۔ معلوم ہوتا تھا آج مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس میں خوب بحث ہونے والی تھی۔

—جاری ہے۔—

پہلی قسط اور ناول کا تعارف اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دوسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

تیسری قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

چوتھی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
پانچویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں
چھٹی قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

ساتویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

آٹھویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

نویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

دسویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

گیارہویں قسط اس لنک  پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: