پیمانہء ظرف چھلکا جائے ۔۔۔ معلمہ ریاضی

0

پاکستانی ڈاکٹر کا انتقال ہوگیا۔ پاکستانی عوام کے لئے انکے احسانات بے شمار تھے۔ اس احسانمندی کے احساس تلے عام پاکستانیوں نے انکے لئے سوشل میڈیا پہ نیک جذبات کا اظہار کرنا شروع کیا اور پھر دائیں بائیں ایک طوفان آگیا جو لمحوں میں کفر و اسلام کی جنگ میں ڈھل گیا۔
ــــــــــــــــ
کسی نے بیانیہ لگایا، ’ڈاکٹر صاحبہ پاکستان کا فخر تھیں، اللہ انکو اجر دے‘
دھم سے زعمِ تقویٰ میں مبتلا کوئی صاحب کودے، ’وہ تو کافرہ عیسائی تھیں، آپ کو دعا نہیں کرنی چاہیے، انکا ٹھکانہ جہنم ہے بس‘ ساتھ ہی ساتھ ہی قرانی آیات لگا کر اپنی دانست میں اتمام حجت بھی کردی۔

کسی نے پوچھا، ’بھیؔا! ہم نے کب کہا کہ وہ مسلم تھیں؟ کہاں لکھا ہے کہ ہم انکو جنت بھیج رہے ہیں؟

’آپ نے اجر دینے کو کہا، مرنے کے بعد ’اجر‘ بس جنت ہی ہوتی ہے‘ مزید دو تین قرانی آیات۔۔۔۔

بیانیہ لگانے والا زچ ہوجاتا ہے کہ جو کچھ سوچا بھی نہیں تھا وہ یہ صاحب میرے اوپر تھوپے چلے جا رہے ہیں۔
ــــــــــــــــــ
ہم نے ایسے مومنین بھی دیکھے جو چبا چبا کر عیسائی، کافرہ، آنجہانی اور جہنمی کی گردان کیے جارہے ہیں۔

اور عام مسلمانوں کو ذہنی خلفشار میں مبتلا کیے جارہے ہیں، ایسے میں کوئی نادانستگی میں کچھ غلط بول جائے تو اس پہ گستاخ، جاہل اور لبرل کا ٹھپا لگا کر خود کو شاباش دیتے ہیں کہ ہم نے حقِ تبلیغ ادا کردیا۔

دوسری جانب نام نہاد روشن خیال ویسے ہی ایسے کسی بھی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ سادہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں شک کے بیج بوئیں اور اپنا چورن، منجن، صابن، تیل بیچیں۔ اور انکو یہ موقع ہمارے تقوے کی پہاڑی پہ چڑھے ’مومنین‘ خوب فراہم کرتے ہیں۔

جہاں کوئی ایسا ویسا بیانیہ دکھائی دے گا، صاحبِ بیان کے ’ابو بھائی ایک‘ کرنے پہنچ جائیں گے۔

بھیؔا! ضروری نہیں ہے نا ہر بات پہ اچھل اچھل کر ردِ عمل دینا۔ مگر نہیں صاحب نفلوں کا ثواب چھن جائے گا اگر نہیں بولے تو۔۔۔

نتیجتاً مفت میں مشہوری کرا دیتے ہیں ان نام نہاد روشن خیالوں کی۔۔
ـــــــــــــــ
لبرل طبقے کا بس چلے تو سارے کلمہ گو مسلمانوں کو تکفیری، دہشت گرد، خارجی کہہ کر جہنم کے نچلے حصے میں پھینکیں اور صالح بش، با شرع مودی، منصف ٹرمپ اور ہمدرد حکومتِ اسرائیل کے تمام اراکین کو جنت کا ٹکٹ تھما دیں۔

ایسے ایسے بیانیے لگا رہے ہیں کہ محسوس ہورہا ہے کہ بس دنیا میں ایک انسان فقط ڈاکٹر صاحبہ ہی تھیں باقی پاکستان میں تو خون آشام بھیڑیے بستے ہیں۔
جناب! ڈاکٹر صاحبہ کی خدمات ہمارے سر آنکھوں پہ، انکی محبت کا قرض ہم نہیں اتار سکتے۔۔۔ مانتے ہیں۔

مگر یہ جو آپ ڈاکٹر صاحبہ کی آڑ میں اسلام کے بنیادی عقائد پہ وار کرنے کی شاطرانہ کوشش فرما رہے ہیں نا، یہ آپ کی ذہنی پسماندگی کی نشانی ہےاور کچھ نہیں۔۔۔

بھیؔا! ٹیچر کے سر کی ’چمپی مالش‘ کر کے کوئی یہ سمجھے کہ بس اب امتحان میں بیٹھنے اور کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں، میں تو پاس ہوں تو کیا ٹیچر اسے پاس کر دے گا؟
ہاں! آپ جیسا روشن خیال ہوا تو ضرور۔۔۔۔۔ مگر با اصول ٹیچر اپنے قوانین سے نہیں ہٹتے، شاگرد جتنی چاپلوسی و خوشامد کر لے، نمبر اسے امتحان کی بہترین تیاری پہ ہی دیتے ہیں اور اللہ تبارک تعالیٰ نے جو قانون دے دیا سو دے دیا۔ اور رب کا قانون یہی ہے کہ ’جنت کے دروازے کا پاسورڈ ’لاالہ الاللہ، محمد الرسول اللہ‘ ہی ہے۔ باقی آپ جس کے ساتھ اپنا انجام رکھنا چاہتے ہیں وہ آپکی اپنی چوائس پہ ہے۔۔۔

مقدس اچھل کود المعروف دھمال ڈالتی خاتون، بغضِ عسکری میں مبتلا خاتون یا ماتھے پہ بندیا لگائی خاتون آپ کے ساتھ انجامِ شر رکھنے میں یقیناً دلچسپی رکھیں گی
مگر جہاں تک بات ہے آپ لوگوں کی محترمہ ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ اپنا انجام رکھنے کی خواہش کی تو جناب خاطر جمع رکھیں، محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ہر لحاظ سے خالص تھیں، انسان بھی خالص تھیں اور ’عیسائی‘ بھی خالص تھیں وہ آپ جیسے دو نمبر انسان اور تین نمبر مسلمان کے ساتھ اپنا انجام کبھی نہیں کرانا چاہیں گی۔
آزمائش شرط ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: