پاکستانی مدر ٹریسا: ڈاکٹر کیتھرینا مارتھا رتھ فاو

0

ایدھی فاونڈیشن والوں کو ایک کال آتی ھے کہ کراچی کے ایک نالے میں چند لاشیں موجود ہیں اور ان کے والی وارثان کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے ۔ آپ لوگ آئیں اور ان لاشوں کو اپنے سرد خانے تک پہنچا دیں ۔ ایدھی والوں کا عملہ نالے پر پہنچ کر کیا دیکھتا ھے کہ لاشیں کافی دنوں سے پانی میں موجود ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر پھول چکی ہیں ۔ تمام اعضاء اپنی حقیقت کھو چکے ہیں ۔ لاش کے جس بھی حصہ پر ہاتھ یا کوئی بھی چیز لگتی ھے تو جسم کا اتنا حصہ ریزہ ریزہ ہو کر جسم سے الگ ہو جاتا ھے ۔لاشوں کی بدبو گندے نالے کی بدبو سے کہیں بڑھ چکی ہے ۔

اسی اثناء میں لاشوں کے وارثان بھی وہاں آ پہنچتے ہیں ۔ اپنوں کی لاشوں کو اس حالت میں دیکھ کر تمام وارثان بھی حوصلہ ہار جاتے ہیں ۔ اور لاشوں کو نالے سے نکالنے پر انکاری ہو جاتے ہیں ۔ ایدھی والوں کا عملہ وارثان کا یہ رویہ دیکھتے ہوئے انتہائی دلبرداشتہ ہو کر ایدھی صاحب کو فون پر اس واقعے کے متعلق مطلع کرتا ھے۔ ایدھی صاحب اس جگہ پر تشریف لاتے ہیں ۔ خود اس گندے نالے میں اترتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے ان لاشوں کو اس گندے نالے سے باھر نکال لاتے ہیں ۔ جن لاشوں کو ان کے اپنے وارثان بھی نکالنے سے عاری تھے ۔ ان لاشوں کو غسل دیتے ہیں اور اپنے سرد خانے میں امانتا رکھ لیتے ہیں ۔ یہ تھا وہ عظیم ایدھی جو یہ کہنے میں بالکل حق بجانب تھا کہ
” انسانیت ہر مذہب سے بالاتر ہوتی ھے .”

ایدھی صاحب کا ایسے فقط ایک واقعے سے پالا پڑا ۔ لیکن ڈاکٹر رتھ فاو کو روزانہ کی بنیاد پر پورے 50 سال تک ایسے بے شمار زندہ جسموں سے پالا پڑا ۔ سوچیے یہ عورت کتنی عظیم ہو گی ۔؟؟؟
اس عظیم عورت کی عظمت پر لکھنے کا سوچ رھا تھا تو ذہن میں آیا کہ میں بھی ایک پیشہ ور حکیم ہوں کیوں نا اپنے لفظوں کی مدد سے کوڑھ کا نقشہ کھینچے کی کوشش کروں ۔ پھر سوچا کہ میرے ناقص الفاظ اس بیماری کی ہولناکی کو بیان کرنے کے لئے انتہائی ناکافی ہیں ۔ بہتر یہ ہو گا کہ لکھنے کی بجائے کسی کوڑھ زدہ چہرے کی تصویر لگا دوں ۔ پھر خیال آیا کہ کوڑھ زدہ چہرے کی تصویر کہیں تحریر پڑھنے والے قاری کو ذہنی اذیت میں مبتلا ہی نہ کردے ۔ یہ سوچ کر احتراز کیا کہ آپ لوگ بہت سیانے ہیں۔ کوڑھ کی اندوہناکی جاننے کے لئے یقینا آپ نے اب تک گوگل کر لیا ہو گا اگر نہیں کیا تو فقط 30 سیکنڈ کے لئے گوگل پر موجود کوڑھ زدہ چہروں کی تصاویر دیکھ لیں ۔ چلیں یہ بھی نا کریں ۔ کہیں آپ کا اندر بھی اس "کافرہ” عورت کے لئے پگھل نہ جائے جس نے اپنی جوانی ، اپنا ملک ، اپنا علم اپنی زندگی اپنی مہارت اپنا پیسہ اپنا سب کچھ آپ کے کوڑھیوں کو شفاء یاب کرنے کے لئے خرچ کر دیا۔

30 سال کی عمر میں اپنی بھرپور اور خوبصورت جوانی کے ساتھ جرمنی کو فقط اس لئے خیر باد کہہ دیا کہ پاکستانی لوگ ایک ایسی بیماری کی وجہ سے مر رہے ہیں ۔ جسے خدا کا عذاب کہہ کر زندہ لوگوں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ھے ۔ اور یہ زندہ لوگ کسی عذاب کا نہیں بلکہ کچھ جاہل اپنوں کے عتاب کا شکار ہو کر یا تو سسک سسک کر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں یا پھر خودکشی کر کے خود کو اس معاشرتی بے حسی پر قربان کر جاتے ہیں ۔

یہاں پہنچ کر سب سے پہلے تو اس بہادر عورت نے لوگوں کو اس سوچ کے باھر نکالا ۔ کہ جذام ( کوڑھ ) فقط ایک بیماری ہے کوئی عذاب الہی نہیں ہے ۔ اب مرحلہ تھا علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کا. جس کے لئے بہت سارے پیسوں کی ضرورت تھی ۔ ان پیسوں کے لئے پاکستانیوں کے سامنے جھولی پھیلائی گئی ۔ پھر بھی مطلوبہ رقم حاصل نہ ہوئی تو یہ عورت ہی ہم پاکستانیوں کے لئے چندے کے لئے واپس جرمنی گئی۔ مطلوبہ رقم مکمل ہوئی تو فورا پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لئے ایک سینٹر کھولا گیا ۔ اور پھر اس سینٹر کو چلانے کے لئے کافی سارے لوگوں کی تربیت کی گئی یوں یہ سینٹر ایک ہسپتال کی شکل اختیار کر گیا ۔ ایک سینٹر سے شروع ہونے والا سفر 157 سینٹروں تک پھیل گیا ۔ اور اس عورت نے پورے پاکستان سے کوڑھ کی مرض کو ختم کر کے دم لیا ۔

اسی اثناء میں وقت نے پلٹا کھایا ۔ پاکستان تنزلی کی طرف جاتا رھا اور جرمنی ترقی کی طرف ۔ اس عورت کی محنت ، حوصلہ اور ولولے کی وجہ سے 1966 میں پاکستان کو کوڑھ فری ملک قرار دے دیا گیا ۔ لیکن اس کے باوجود اس بہادر عورت نے جرمنی کی ترقی سے لطف اندوز ہونے کی بجائے پاکستانی عوام کی خدمت میں ہی عظمت جانی ۔ اور تب سے اپنی زندگی کی آخری سانس تک ہماری خدمت کو ہی اپنا مشن عظیم بنائے رکھا ۔ سرکاری سطح پر بے شمار ایوارڈز اپنے نام کروائے ۔ لیکن اس کی موت کی خبر شائع ہونے پر چند ” نقل مارکہ ” اسلامی لوگوں نے اس عظیم عورت کی عظمت کو سراہنے کی بجائے اسے مذہب کی دیوار میں کھڈے لائن لگانے کا سوچا ۔ جی ہاں انہی اسلامی لوگوں نے جو کوڑھ تو دور فقط گلے کی خراش ہٹانے کے لئے بھی ایک ہسپتال تو نا کھڑا کر سکے ۔ لیکن جس نے بے لوث ان مسلمانوں لوگوں کی خدمت کے لئے اپنی زندگی کے 57 سال ان پر صرف کر دیے ۔ کوڑھ کے علاج کے لئے 157 سینٹر نہ صرف کھولے بلکہ چلا کر دکھائے ۔ اب وہ عورت ان مسلمانوں کے لئے ایک عیسائی عورت ٹھہری ۔
کوئی ہے جو اس قوم کے باطنی کوڑھ کا علاج کرے ۔؟؟؟

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: