رفاہ عامہ اور ہمارے رویئے

0

مہذب معاشرہ جن اصولوں اور قدروں سے تشکیل پاتاہے اس میں رفاہ عامہ کی سرگرمیاں مٹی گارے کی حیثیت رکھتے ہیں.بلاشبہ ایسا معاشرہ جہاں نادار، بےبس اور لاچار لوگوں کی دلجوئی ایک فریضہ سمجھ کر ادا کیا جائے وہ مثالی معاشرہ کہلانے لائق ہے. وہ معاشرہ یقینًا انسانوں کے اس قابل قدر قبیلے سے تعلق رکھتاہے جو انسانیت کے سر کا تاج کہلاتے ہیں.ایسے معاشروں میں یتیموں ، ناداروں، بےآسرا اور غم روزگار کے ستائے ہوئے لوگوں کو بوجھ نہیں سمجھا جاتا بلکہ ان پر اپنا سرمایہ خرچ کرکے ان کو اپنائیت کا احساس دلا کے احساس محرومی سے بچایا جاتاہے.

ہمارا ماضی اس پر گواہ ہے کہ نبی اکرم ص کی دعوت پر لبیک کہنے والے جہاں بہت سے اوصاف سے متصف تھے وہاں وہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کے بارے میں اتنا حساس واقع ہوئے تھے کہ جب تک وہ اپنے اس فریضہ کو ادا نہیں کرتے تھے انہیں کسی کَل چین نہیں پڑتا تھا. نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام رض کی زندگیوں پر ایک نظر ڈالی جائے تو ان کے ہاں رفاہ عامہ کے حوالے سے بہترین نمونے ملتے ہیں. وہ معاشرے میں بسنے والے اس طبقے کی دلجوئی اپنا فریضہ سمجھ کر ادا کرتے تھے. بعد میں خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالی علیہ اجمعین نے اس کو ریاستی امور میں شامل کردیا تھا.

اقبال رح مسلمانوں کے ماضی کو ان کی جنت گم گشتہ قرار دیتے ہیں. اس سنہرے دور کی بازیافت پر زور دیتے ہیں.حقیقت یہ ہے کہ جہاں ماضی کے دوسرے خوبصورت اور قیمتی ورثہ سے ہم نے خود کو محروم رکھ چھوڑا ہے وہاں ہمارا معاشرہ اجتماعی طور پر اور انفرادی سطح پر بھی رفاہ عامہ کے کاموں کے حوالے سے شدت سے بے حسی کا شکار ہے جس کا منظر اللہ رب العلمین نے سورتہ الماعون میں پیش کیا ہے.

ہم ماضی کے سنہرے دور کے فضائل اور مناقب میں رطب اللسان رہتے ہیں مگر مجال ہے جو کبھی ہمارے اعمال میں اس کا پرتو نظر آیاہو. اس کو ریاستی ذمہ داری کے کھاتے میں ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے متعلق ہم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی. قرآن کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ معاملہ ویسا ہے نہیں جو ہم سمجھ رہے ہیں. اس حوالے سے اللہ کی وعیدیں موجود ہیں جو ہم سب جانتے ہیں. مگر ہمیشہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے پہلو تہی برتتے چلے آئے ہیں.

کفالت یتیم کے حوالے سے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے Orphan care program شروع کر رکھی ہے جس کے تحت یتامٰی کے لئے جدید تعلیمی اور رہائشی سہولیات سے آراستہ ادارہ آغوش کے نام سے بنائے گئے ہیں. اس سلسلے میں چترال میں بھی الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم نے یتیموں کی کفالت کے حوالے سے ایک ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس کے تحت چترال کے صاحب ثروت لوگوں کو باقاعدہ دعوتی کارڈ اور وفود کی صورت میں ملاقات کرکے مدعو کیا گیا..مگر افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد شریک نہیں ہوئی..مقام شکر ہے کہ جو شریک ہوئے انھوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر اپنا تعاون اس پروگرام کے لئے پیش کیا. یہ سارے حضرات متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تھے. مگر ماشاءاللہ ان کی طرف بہتر تعاون ملا ہے.

اس سماجی ذمہ داری کا ہمیں احساس کیوں نہیں؟ کیوں ہم اس طبقے کو حالات کی بےرحم تھپیڑوں کی نذر کرنے کی ٹھان بیٹھے ہیں ؟ ان کو ایک سائبان دینے سے کیوں بھاگ رہے ہیں ؟ کیوں ہم ان کی تعلیم وتربیت پر سرمایہ نہیں خرچ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ چاھتے ہیں کہ وہ ہمارے پاؤں پڑیں ؟ ہمارے آگے ہاتھ پھیلائیں . احساس محرومی کا شکار ہوتے رہیں؟

اگر ہماری سوچ یہی ہے تو یاد رکھیں کہ اللہ اس حوالے سے ہم سے سخت بازپرس کرنے والے ہیں. کیونکہ ہم نے مادہ پرستی کو اپنا شعار بنا رکھا ہے. اور زبان حال اور زبان قال سے بھی ہل من مزید کے فتنے کا شکار ہیں. اٹھئے رفاہی اداروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیجئے اور رفاقت رسول کا حصول ممکن بنایئے.

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: