خواتین ناول نگار اور مذہبی رومانویت : ایک تاثر ۔۔۔۔ جویریہ سعید

2
  • 166
    Shares

آج کل فیس بک کی فضا اس قدر جہنم نما بنی ہوئی ہے کہ کھڑکی کھولتے ہی گرم ہوا کے تھپیڑوں سے گھبرا کر کھڑکی پھر بند کردیتے ہیں۔ ایسے میں یونہی دل چاہا کہ کچھ یاران غار سے ہونے والی اپنی ایک بے تکی گپ شپ کا تذکرہ کر کے، فضا کو تبدیل کرنے کی ایک ننھی اور بے ضرر سی کوشش کر دیکھیں۔ ایسے فضول خیالات کا اظہار کرنے کے لئے ہماری کچھ مخصوص یاران غار "dead poets society” کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جہاں ہم اکثر خفیہ طور پر اپنے آوٹ پٹانگ اور باغیانہ خیالات کا اظہار کر کے بہت خوش ہو لیا کرتے ہیں۔ آپ کا دل چاہے، تو بصد شوق! خوش آمدید! ذرا ایک جھلک ملاحظه ہو! منہ کا زائقہ تبدیل کرنے کے لئے۔ تو صاحبو! حال ہی میں مشہورہونے والے اسلامی فکر کا پرچار کرنے والے کچھ ناولوں پر گفتگو رہی۔ اس پر ہمارے نادر خیالات کا ایک حصہ حاضر ہے۔

ان ناولوں میں اسلامی فکر اور احکامات کا مقدمہ بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ کہیں دلائل بھی خوبصورت ہیں، خوبصورت نکتے بھی اٹھاے گئے ہیں، ماحول اور کرداروں کی خوبصورت رومانوی فضا بھی دل پر بڑا حسین تاثر چھوڑتی ہے۔ ان ناولوں کا خوبصورت انداز بے شمار خواتین کو بے حد پسند آیا۔ خواتین، جنھیں الله نے شاید جذبات سے ہی گوندھا ہے۔ جذبات کی ایسی مٹی سے جو بڑی پیاسی ہے، جلدی جلدی سوکھ جاتی ہے اور بڑی جلدی جلدی محبت کے پانی کی چھینٹیں مانگتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ الله اور اس کی ہدایات سے محبت دل کے نہاں خانوں میں چھپی تھی، مگر زمانے کا چلن کچھ اور تھا، ایسی باتیں کرنے پر رجعت پسندی، خشک مزاجی اور آدم بیزاری کی چھاپ لگ جاتی تھی۔ دین اور دنیاکے بیچ خلیج اتنی گہری ہو چکی تھی، کہ جو ایک طرف تھے ان کو دوسری طرف والے انجانی دنیاؤں کی باسی کوی خلائی مخلوق لگتے تھے، جن کے بارے اندازے اور گمان تو کیے جاسکتے ہیں، جانا نہیں جا سکتا۔ ادب میں خدا اور اس کے احکامات کا تذکرہ کہاں؟ اور خدا اور دین کے بزعم خود پہرے داروں کے لیے ادب شجر ممنوعہ۔ آپ ڈراموں اور فلموں میں دیکھیے، ماڈرن اور پڑھی لکھی خواتین خوبصورت زلفیں پھیلاے پھرتی ہیں اور دوپٹہ گھر کی کام والی کے سر پر لپٹا ہوتا ہے، آج کل کر ڈراموں میں تو بے چاری کو سولہ سنگھار کے باوجود ماسی دکھانے کا ایک ہی طریقہ ہے، دوپٹہ سر سے اڑھا کر صفائی کا کپڑا ہاتھ میں تھما دو۔

پھر ایسا ہوا کہ کچھ ایسی خواتین میدان میں آئیں، جن کو دونوں دنیاؤں سے علاقہ تھا۔ تعلیم یافتہ، خود اعتماد، دنیا دیکھی ہوئی اور دین کو خود سیکھنے اور سمجھنے والی، ان خواتین کی خوبصورت تخلیقی صلاحیتوں نے خوب جوہر دکھائے۔ اور روایتی نسائی کہانیوں کا ٹرینڈ اس طرح تبدیل کر دیا کہ خواتین ہی نہیں، حضرات بھی یہ کہانیاں پڑھتے اور پسند کرتے پائے گئے۔

ان ناولوں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ مذھبی عورت جسے مذھب کے زندان میں مقید رجعت پسند، گھٹن زدہ، حسرت زدہ، جاہل، نادان اور احساس کمتری کی ماری سمجھا جاتا ہے۔ یہی بہت اعتماد، ذہانت اور خوبصورتی سے اپنی ذات کا دریچہ کھول کر دنیا کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع عطا کرتی ہے۔ اپ اس کی دلیلوں سے لاکھ اختلاف کریں، مگر آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مجبور، حسرت زدہ، محبوس اور جاہل نہیں ہے۔

اس نے بڑے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ اپنے لئے یہ راستہ چنا ہے۔ اپ عمیرہ احمد کو پڑھیے یا نمرہ احمد کو۔ یہ چادر اور چار دیواری میں محبوس جاہل اور حسرت زدہ عورتیں نہیں ہیں۔ ان کے دل بھی محبت کے دھاگوں سے بنے ہیں، انہیں بھی چاہتوں کی شدت کا پتہ ہے۔ جذبات کی اسی حسین پگڈنڈی پر چلا کر وہ خدا کو بھی ایسی طرح دریافت کرتی ہیں، جسے اپنے محبوب کے لئے اپنی چاہتوں کو۔ ان کا خدا سے بھی اسی طرح رومانس چلتا ہے، جیسے دوسروں کا الھڑ دوشیزاؤں اور اپالو کے مجسمے جیسے لمبے اونچے شہسواروں سے۔ وہ اس سے لڑتی ہیں، جھگڑتی ہیں، بگڑتی ہے، بے تاب ہوتی ہیں، ہجر ہوتا ہے، وصل اتا ہے، اس کے احکامات انہیں پیا ملن کا ذریعہ معلوم ہوتے ہیں۔ قرآن انہیں رابن کی کوک لگتا ہے، محبوب کا سندیسہ لانے والا۔ مجھے وہ صوفی لگتی ہیں، جو نجانے کیسے مرشد کے راستے خدا کو پاتے ہیں۔

وہ یورپ اور امریکہ کی باتیں کرتی ہیں، انہوں نے دنیا کے عبقری مصنفین کو بھی پڑھا ہوا ہے، وہ بیان کر سکتی ہیں کہ امریکہ کی بدنام زمانہ سڑک پر منی سکرٹ پہنے اور ہونٹوں میں سگرٹ دابے کسٹمر کی منتظر عورت کیسا سوچتی ہو گی ؟ اور ان کو یہ بھی علم ہے کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی اْونچے گھرانے کی فیشن ایبل لڑکیاں عرفان ذات کے کن لمحات سے گذر سکتی ہیں۔ وہ کنویں کی مینڈک نہیں ہیں۔

اپ کو خدا کی بازیافت اور اس کی حکمتوں کا عرفان اور اس راستے پر آبلہ پائی کرنے والوں کی کشمکش اعلی موضوعات نہیں معلوم ہوتے؟، شاید اس لئے کہ آپ انسان کے اپنے آپ اور اس کائنات سے مزید الجھتے رہنے اور اپنے تئیں خفا رہنے کو ہی اعلی موضوع گردانتے ہیں۔

مگر ہمارا اصرار ہے کہ وہ سارے پڑھے لکھے لوگ جو عورت کی تحریروں کو اس کی ذات کی کسی سچائی کا عنوان سمجھ کرپڑھتے ہیں، مذہب سے بغاوت کرنے والی عورت کو بہادر کا لقب دیتے ہیں، اسے اوروں سے مختلف ہونے کا تمغہ عطا کرتے ہیں، وہ ان عورتوں کی تحریروں کو بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ عورتیں بھی بہادر ہیں، روایات سے مختلف راستہ ڈھونڈنے والی ہیں۔ آپ نے ان عورتوں کے قصے سن رکھے ہیں جو معاشرے سے بغاوت کر کے اپنی چادر کو اتار پھینکتی ہیں، بہادری کا تمغہ پاتی ہیں اور دنیا کو مسلم ممالک کے معاشروں میں مذھب کے حوالے سے ایک منفی سٹیریو ٹائپ عطا کر دیتی ہیں۔ اب ذرا ان عورتوں کی ذات میں جھانکیں، جنہوں نے ان ناولوں کے ذرئعے آپ کے لئے ایک مختلف دریچہ کھولا ہے۔ یہ آپ کو ایک نئی دنیا سے متعارف کرواتی ہیں، جہاں خدا کا عرفان بڑی جان جوکھوں سے حاصل ہوتا ہے، جہاں چادر کو دنیا کی مخالفت مول لے کر زخم زخم ہو کر اپنایا جاتا ہے۔ یہ مردوں کے ڈنڈوں سے ڈر کر چادر لینے والی عورتیں نہیں ہیں، یہ چادر کی خاطر اپنی چاہت کے دعوے داروں کو انکار کر دینے والیاں ہیں۔

اس سب کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ ہمیں عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کی تمام باتوں سے اتفاق ہے، یا ہم ان کے پرستار ہیں۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر ہمیں بھی الجھن ہوتی ہے۔ اور یہ الجھن کسی اعلی فکر کے زعم میں مبتلا ہونے کی خوش فہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے ہی جیسی ایک عورت ہونے کی بنا پر ہے۔

عمیرہ احمد کی سب سے خوبصورت بات ان کے ناولوں کی خواتین مرکزی کردار ہیں۔ بتاۓ دے رہے ہیں کہ ہم نے ان کے صرف چند ناول ہی پڑھ رکھے ہیں۔ اسلیے راۓ انہی کچھ مشھور ناولوں کی بنیاد پر قائم کی ہوئی ہے۔ ان کی مرکزی کردار ایک زبردست لڑکی ہوتی ہے، عموما مڈل یا لوئر مڈل کلاس کی، بے انتہا ذہین اور حساس، سیلف میڈ، خود دار اور باوقار۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ لڑکی حسن کی دیوی ہر گز نہیں ہوتی، بلکہ اکثر معمولی نین نقش رکھتی ہے۔ اور یہاں وہ روایتی ڈائجسٹوں کی کہانیوں کی پرستار خواتین کو ایک بہت اچھا رول ماڈل فراہم کرتی ہیں۔

یہ ہیرو کو ترسی ہوئی، حسین و جمیل دوشیزہ نہیں جس کا آئی کیو لیول بھی کوئی خاص نہیں اور دنیا میں کرنے کو کوئی کام بھی سمجھ نہیں آتے۔ یہ معصوم یا تو روتی بسورتی کھڑکی سے باہر برستی بارش کو تکتی ہے، یا اتنی نٹ کھٹ کہ سردیوں کی بارشوں میں لان میں بھیگتی ہے، دونوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس خوابوں کے شہزادے کی ناگاہ نظر پڑجانے کے مواقع کو یقینی بنایا جاۓ، جو اس بے چاری کے بن کہے وہ ساری باتیں، جذبے اور دکھ بھی سمجھ کر بڑی طرح عشق میں مبتلا ہو جاۓ، جو حقیقی دنیاؤں میں شوہر اور مرد حضرات گلا پھاڑ کر رونے اور بار بار تقریروں سے بھی نہیں سمجھتے۔ بلکہ انہی دکھوں اور پریشاں کن خیالات سے اکتا کر اگلی کے لیے احباب کے حلقوں باواز بلند حسرت بھری گفتگو کرتے پاۓ جاتے ہیں۔

عمیرہ کے جو ناول ہم نے پڑھ رکھے ہیں، ان کی مرکزی کرادر خاصی "فمیسنٹ پرسپیکٹو” والی ہوتی ہیں۔ فمینسٹ سے ہماری وہی ہے کو ایک جگہ مولانا مودودی نے فرمایا، کہ "خواتین مردوں کا ضمیمہ نہیں ہیں!۔ اور یہی بات ہمیں پسند ہے۔ عورت بغیر مرد کے حوالے کے بھی مکمل انسان ہے، اپنی شناخت، اپنی ذات، اور اپنے خواب رکھنے والی جو مرد سے اسی قدر ہی منسلک ہے جس قدر مرد عورت سے، ظاہر ہے جب دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، تو دونوں حصوں کی ایک جیسی ہی اہمیت ہونی چاہیے۔
عمیرہ سے ہمارا اعتراض البتہ یہ ہے کہ کم از کم ہمارے پڑھے گئے ناولوں میں وہ "خوابوں کے شہزادے” کے سٹیریو ٹائپ سے کیوں نہ بچیں؟ ایک بہادر، نیک، خدا سے محبت کرنے والی، سیلف میڈ لڑکی کو "انعام” میں مردانہ حور کا ملنا کیوں ضروری ہے؟ یہ منزل ضروری ہے جو اس کو ملنی ہی چاہیے؟ اگر کہیں کہانی کے اختتام پرکسی وجہ سے یہ "وصل” نہیں بھی ہوتا تب بھی، بے چاری قارئین لڑکیاں راتوں کو تکیوں میں منہ چھپا چھپا کر روتی ہیں کہ کیا تھا اگر عمیرہ باجی آخر میں اس اتنے ہینڈسم ہیرو سے شادی ہی کروا دیتیں!!۔ آخر آپ حسرت کیوں چھوڑتی ہیں ان جذبات سے گندھی لڑکیوں کے لئے کمرشل ڈراموں کے مسالے کے لئے ہے تو ٹھیک ہے، مگر اس کے علاوہ۔۔۔۔ کہانیوں کے ان حصوں پر ہم ابن صفی کے عمران کی طرح منہ چلانے لگتے ہیں۔

ازراہ تفنن ایک عزیزہ من سے عرض کی، ” پلیز عمیرہ کے ہیروزوالے حصے کو سنجیدہ نہ لے لینا، وگرنہ اپنا الله سے تعلق بھی مشکوک سمجھنے لگو گی۔ اگر خوبرو، اعلی تعلیم یافتہ، مالی طور پر مستحکم اور جنونی عشق میں مبتلا ساتھی نہ ملا، نہ رومانس کے لئے اور نہ ہی شادی کے لئے، تو احساس کمتری میں نہ مبتلا ہو جاؤ کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرا الله مجھ سے ناراض ہے، یا میں ابھی سچی مسلمان نہیں بنی۔ "

نمرہ کے ناول پر ہمارا اعتراض ذرا دوسرا ہے۔ اس ناول کے فیس بک پر سب سے زیادہ شیئر ہونے والے اقتباسات وہ ہیں جہاں خواتین کردار، پردے اور حیاء کے حوالے سے اپنا نقطہء نظر بیان کرتی ہیں۔

ہو سکتا ہے، ہماری سمجھ سے غلطی ہوئی ہو، مگر ہمیں ان میں ایک عالم حسرت اور کچھ خواہشات کا ملبہ نظر اتا ہے۔
وہ جو کوئی بھی ہے، بار بار اکثر پوسٹوں میں یہی کہتی نظر اتی ہے۔۔۔
کہ دنیا بہت دل لبھاتی ہے مگر۔۔۔۔۔۔
"اچھی لڑکیاں ایسا نہیں کرتیں۔۔ "

ہم باہر جاتے آئینے میں اپنے حجاب کو بڑے سٹائل سے مختلف پنوں سے سنبھالتے، اس بے چاری لڑکی کے لیے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ گاڑی کو زن سے گذار کر اس کمیونٹی سنٹر کے سامنے پارک کرتے ہوے بھی، جس کے پروگرام کی تمام مقررین مختلف طرز کے حجاب میں ملبوس بڑی خود اعتماد خواتین تھیں، کئی مرتبہ اسی بے چاری لڑکی کا خیال آیا، جو کچھ حسرتوں سے لڑنے میں ذرا زیادہ وقت لیتی رہی ہے شاید ہم اس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جو یہ سمجھتا ہی نہیں کہ جن سے مختلف کوئی طرز عمل اختیار کیا ہے، وہ کوئی بڑے مثالی لوگ ہیں۔ مخلتف راہ کا انتخاب "اچھی لڑکیاں ایسے کرتی ہیں” کی مجبور کن مری ہوئی آواز کی وجہ سے نہیں کیا۔ بے شک مختلف راہ پر چلنے والوں کے لیے کبھی کبھی ایسے لمحے آتے ہیں، جب وہ اپنے انتخاب پر الجھتے ہیں، نظر ثانی کرتے ہیں، دوسروں کے قہقہے۔ دوران سفر ان کے ارادوں کو متزلزل کرتے ہیں، مگر اگر سوچ پختہ ہو، نگاہ بلند ہو تو یہ لمحات طویل نہیں ہو پاتے۔

ہم اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو لنڈا سارسور، ایوان رڈلی، لورین بوتھ اور دالیہ مجاہد اور بہت سی گمنام بہادروں کا قبیلہ ہے۔ یہ ریمپ پر چلنے والیوں کو دیکھ کر اپنی آہوں کو نہیں دباتیں، بلکہ اپنا ٹرینڈ خود سیٹ کرتی ہیں۔ ہمیں رب کی بنائی حدود سے اس لئے الجھن نہیں ہوتی کہ ہم نے انسان کو کہیں مکمل آزاد دیکھا ہی نہیں۔ ایک نہیں تو کسی اور طرح کے دائرے میں محدود، مجبور انسان۔ ہر ایک نے اپنی سمجھ سے اپنی مرضی کے مطابق کوئی طوق پہنا ہوا ہے، تو میرا طوق کیوں انہونا ہے۔ کوئی جسم اور خواھش کا قیدی ہے، اور کوئی اپنے فکری و نظری تعصبات کا۔ اگر یہ سارے قیدی فخر اور اعتماد سے گردن اکڑائے پھرتے ہیں، تو میری ٹھوڑی نیچی کیوں ہو۔ معاف کیجیے گا، مجھے سسکیوں میں دبی اس اچھی لڑکیوں والی دلیل پر بڑا دکھ محسوس ہوتا ہے، اور ان حسرت بھرے مکالموں سے طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ ناول کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، اصل ناول میں اور بھی کئی کام کی باتیں ہیں، تو عزیزان من ! پھر ہر ایک یہی سب کچھ کیوں شئرکرتے نظر اتے ہیں۔

ہماری راۓ یہ ہے کہ عورت کو اپنے وقار اور اعتماد کے لیے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے مظلوم اور حسرت زدہ غموں سے چور عورت کے بجاۓ گردن اٹھاے، ہنس کر مرنے والی عورت پسند ہے۔ پردہ نہ بھی ہو، تب بھی عورت کو کبھی نرم نہیں ہونا چاہیے۔ ایک باوقار سپہ سالار کی عیش اور آزمائش دونوں میں خود پورے وقارکے ساتھ سنبھال کررکھنا چاہیے۔ ایسی کوئی کام نہ کرے کہ مبادا کسی کو خوش فہمی ہونے لگے کہ وہ اس کے لیے منتظر بیٹھی تھی۔

ازراہ تفنن ہی سہی ہم تو یہ بھی فرماتے رہیں ہیں کہ عورت کو نکاح کے وقت بھی "قبول ہے ؟” کے جواب میں "ہاں قبول ہے! ” کے بجاۓ ” آپ دیکھ لیں، اگر آپ کو ضرورت ہے، تو ہماری طرف سے بھی قبول ہی سمجھ لیں ! ” کہنا چاہیے۔

اب اس صورتحال میں اچھی لڑکیو! کسی حضرت کی حسرت، یا کسی جلوے کی خواھش کہاں پنپ سکتی ہے!! اگر کہیں پیدا ہو بھی گئی، تو زبان سے اعتراف تو کبھی نہیں کرے گی!! آپ کیجے اختلاف، مگر ہمیں شیر کی ایک دن کی زندگی ایک لو ائی کیو، جذبات کے ہاتھوں مجبور، سیلف کنٹرول سے ناآشنا گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر معلوم ہوتی ہے۔

ہمیں اندازہ ہے کہ اکثر کے جذبات اور چہرے کے تاثرات میں نصف اول اور نصف آخر کو پڑھتے ہوے بہت اتار چڑھاؤ آیا ہو گا، کوئی ایک حصے کی وجہ سے خفا ہو گا، اور کسی کو دوسرے حصے سے شدید اختلاف ہو گا۔ مگر صاحبو! ہم نے دیانت داری سے جو محسوس کیا اسے عرض کردیا۔ اختلاف سے ہمیں اس لیے مسلہ نہیں کہ ہم تو خود اختلاف کر رہے ہیں۔ آپ بھی کیجیے! 🙂

اگر اپ اس پر مصر ہیں کہ ہم نے یہ ناول صحیح سے پڑھے ہی نہیں۔۔۔ تو براۓ مہربانی تحفتا بھیجیے، ایک اچھی بات کو دل لگا کر تفصیل اور باریک بینی سے پڑھنے کا ہمیں موقع ملے گا تو ثواب تو آپ کو ہی ملے گا نا! بلاتکلف، بھجوایئے۔ آپ اتنے پیار سے بھجوائیں گی، تو ہم انکار کر سکیں گے بھلا!

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. "ازراہ تفنن ہی سہی ہم تو یہ بھی فرماتے رہیں ہیں کہ عورت کو نکاح کے وقت بھی "قبول ہے ؟” کے جواب میں "ہاں قبول ہے! ” کے بجاۓ ” آپ دیکھ لیں، اگر آپ کو ضرورت ہے، تو ہماری طرف سے بھی قبول ہی سمجھ لیں ! ” کہنا چاہیے۔” معلوم نہیں آپ کی شادی ہوئی ہے یا نہیں لیکن اطلاعا عرض ہے کہ "قبول ہے” کا جملہ مرد بولتا ہے نہ کہ عورت۔ کم از کم میں نے جو نکاح کروائے ہیں، ان میں تو مردوں سے ہی قبولیت کروائی ہے، عورت کی طرف سے قبول نہیں ہوتا بلکہ "ایجاب” ہوتا ہے جو اس کا ولی کرتا ہے۔ اور نکاح ایجاب وقبول کا نام ہے۔ اور اب تو صرف "قبول وقبول” کا نام بن کر رہ گیا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ تفریحی میڈیا میں اچھا لکھنے والوں کی بھی اسلام کے بارے معلومات سنی سنائی ہی ہوتی ہیں، اصل مصادر تک رسائی حاصل نہیں کی جاتی۔

  2. Tehreer k aksar hissy sy ittifaq hy siwaye us hissy k jahan bahdri bd tameezi ki hadon ko chu rahi hy zubair sahb ny bhi ejab o qbul k hawaly sy ahm nukta uthaya hy

Leave A Reply

%d bloggers like this: