دست عیسی روح مریم: شکور پٹھان

0
پوسٹ کو شیئر کیجیے

میرے رب کا کام وہی جانتا ہے۔ مالک کائنات نے اپنی سب سے محبوب تخلیق یعنی انسان کے لئے زمین اور ااسمان کی ساری نعمتیں مسخر کردیں لیکن ساتھ ہی اسے تکلیفین اور مصیبتین بھی دیدیں ۔ شاید یہ ہمیں اازمانے کیلئے کہ تکلیفیں اٹھا کر بھی کون ثابت قدم رہتا ہے اور مالک کی بندگی کے تقاضے پورے کرتا ہے۔
انہی مصیبتوں اور کٹھناوٗں میں سے ایک بہت ہی مہیب، تکلیف دہ اور خوفناک بیماری ، کوڑھ یا جذام کی ہے۔ کوڑھی بد نصیب اپنے جسم کو گلتے، سڑتے دیکھتا تھا۔ جسم کو گوشت تعفن زدہ ہوجاتا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرتا رہتا۔ اپنے بھی اس کے قریب نہیں آتے۔ شہر سے باہر احاطے بنا کر انہیں وہاں سسک سسک اور تڑپ تڑپ کر مرنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا۔
ہر شہر میں کوڑھی احاطے ہوتے ۔ انکی روٹی پانی بھی دور سے ہی انکے سامنے پھینک دی جاتی۔ اس بیماری کو لاعلاج سمجھ لیا گیا اور گویا قدرت سے شکست مان لی.

لیکن قدرت ہی نے ایسے انسان بھی پیدا کئے جو اپنی عزیمت اور ریاضت سے تقدیر کو بھی شکست دیتے ہیں۔ درآصل ایسے جواں ہمتوں کو پشت پر بھی اسی مالک کا ہاتھ ہوتا ہے جو علیٰ کل شئی قدیر ہے۔

جرمنی کے شہر لائزگ کی رہنے والی، طب کے پیشے سے تعلق رکھنے والی رتھ کتھرینا مارتھا فاوٗ(Ruth Katherina Martha Pfao) نے پاکستان میں جذام کے بارے میں ایک فلم دیکھی۔ وہ ایک مسیحی تبلیغی ادارے سے وابستہ تھیں ۔ جرمنی جیسے لاجواب ملک کی شہری، زندگی کی ہر سہولت اور تمام خوشیا ں تیاگ کر انہوں نے پاکستان جاکر اور جذام کے مریضواں کی خدمت کاتہیہ کیا اور میرے شہر کراچی کا رخ کیا۔ میرے شہر کو سسٹر رتھ نے اپنا گھر ایسا بنایا کہ پھر لوٹ کر ہی نہیں گئیں۔ سٹی اسٹیشن کے عقب میں میکلوڈ روڈ پر ایک چھوٹا سا مرکز بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا.

جنہیں ان کے اپنے کوڑھی احاطوں میں ،پھینک، آتے تھے، ان کوڑھیوں کو یہ نیکدل سسٹر رتھ فاوٗ اپنے ہاتھ سے دوائی دیتی، مرہم پٹی کرتی اور ان کی دیکھ بھال کرتی۔ ڈاکٹر فاوٗ کی نیک نیتی اور محنت کا صلہ مالک نے ایسا دیا اور انکے ہاتھ میں ایسا شفا دی کہ نہ صرف کراچی بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں سے بھی جذامی انکے پاس علاج کرانے آتے ریے۔

ایک اور مہربان ڈاکٹر، آئی کے گل ( I.K.Gill ) بھی اس مشن میں انکے ساتھ شامل ہوگئے اور میری ایڈیلیڈ لیپروسی سنٹر کی بناٗ ڈالی۔ اس سنٹر میں نہ صرف علاج معالجہ بلکہ سروے اور تحقیق کا کام بھی ہوتا جس کا دائرہ پورے ملک میں پھیل گیا۔ سسٹر رتھ اور انکے رفقاٗ کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ عالمی ادارہ صحت ( WHO) نے 1996 میں پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دیا جو کہ ایشیا کے چند اولین ممالک میں سے ایک تھا۔

مشرقی جرمنی کے شہر لیزگ پر جب دوسری جنگ عظیم میں روس نے قبضہ کرلیا تو روتھ فاوٗ اپنے خاندان کے ساتھ فرار ہو کر مغربی جرمنی آگئیں اور طب کاپیشہ اپنایا۔ ڈاکٹر فاوٗ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تھیں اور انسانیت کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھیں اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ جنونی ہی ہوتے ہیں جو بڑے بڑے کام کر جاتے ہین۔ سن ساٹھ میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بقیہ زندگی پاکستانی عوام کیلئے اور جذام کے خلاف جہاد کیلئے وقف کردینگی۔ بتدریج انہون نے اپنے مشن کا دائرہ کار پھیلایا اور دور دراز علاقون تک میں بھی نرسنگ کے عملے کی تربیت اور تعلیم کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ جرمنی سے بھی عطیات جمع کئے اور کراچی اور راولپنڈی میں جذام کے ہسپتال قائم کئے۔

1988 میں انہیں پاکستانی شہریت دی گئی جو کہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز ہے نہ کہ سسٹر رتھ کیلئے۔ 1989 میں انہیں ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 2000 میں ڈاکٹر رتھ نے نیشنل لیپروسی کنٹرول پروگرام شروع کیا جس مین جذام کے علاوہ ٹی بی کے مریضوں کا بھی علاج ہوتا ہے۔ 14 اگست 2010 کو انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ،سول اعزار،، نشان قائد اعظم،، عطا کیا گیا۔ پاکستان کے علاوہ دنیا جہان سے انہیں اعزازات سے نوازا گیا مگر دکھی دلوں کی دعا سے بڑھ کر کیا اعزاز ہوسکتا ہے۔

پارے کی طرح متحرک سسٹر رتھ تقریبا 86 برس کی ہوچکی ہیں۔ انک لئے دعا کریں تو کیا کریں، شکریہ ادا کریں تو کیسے کریں ، میرے جیسے نو آموز کے پاس تو ایسے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ میں تو صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ میرا شہر، میرا ملک ہمیشہ ہمیشہ آپکے شکر گزار رہیں گے۔
ہمارا شکریہ قبول کریں سسٹر

نوٹ… یہ مضمون انکی زندگی میں لکھا تھا اور میری کتاب "میرے شہر والے” میں شامل ہے.

About Author

Leave A Reply

%d bloggers like this: