ووٹ کی اہمیت سجھئے: مبارک انجم

0
  • 25
    Shares

عام انتخابات کچھ زیادہ دور نہیں ہیں…کچھ ہی مہینوں میں الیکشن کی سرگرمیاں جاگ جائیں گی. وہی جلسہ جلوس، وہی وسیع و عریض بینر لگنے کو ہیں. اور وہی جلسہ جلوس جہاں دھواں دھار تقاریر کی جائیں گی. اپنی تمام غیر جمہوری جماعتوں کی جمہوریت کے لبادے میں خوب خوب پبلسٹی کی جائے گی، امیدواروں کی شان میں مشرق و مغرب سے لا کر قلابے ملائے جائیں گے. ضرورت پڑے گی تو تاریخی واقعات سے کفر و اسلام کی جنگ بھی قرار دیا جائے گا. پارٹی ایجنڈا کیا ہوگا یا کیا نہیں وہ محض بینر کی زینت بنتے ہیں اور الیکشن کا دن آتے ہی سب لپیٹ لپاٹ کر اگلے الیکشن کے لئے سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے.

اگر اپ پڑھے لکھے اور ہیں تو یقیناً یہ تو جانتے ہی ہونگے کہ آپکا ووٹ آپکی طرف سے اپنے ملک،ملکی اثاثہ جات، ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری جیسی چیزوں کو امانت کے طور پر کسی کے حوالہ کرنے کے لئے اپکا اعتماد ہوتا ہے . اس لئے اپنے ووٹ کو کسی بھی طرح کی جذباتیت، کسی ذاتی مفاد، کسی برادری ازم، کسی علاقائی و لسانی تعصب کی بنیاد پر ہرگز ہرگز مت دیں بلکہ پوری طرح سوچ سمجھ کر پورے شعور کے ساتھ، ہر طرح سے موازنہ کر کے. اور باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی دیں .

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “یہاں ہمارے ملک میں تو سیاست کا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، ہر پارٹی اور اسکا ہر امیدوار خود کو فرشتے اور دوسروں کو شیاطیں ثابت کرنے کی پوری کوشش میں رہتے ہیں، اور دوسری طرف ملک کو اس بدحالی کا شکار رکھنے میں سب ہی برابر کے حصہ دار بھی نظر آتے ہیں تو ایسے میں عام آدمی کے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ ان سب میں سے بہتر امیدوار کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ کیسے پرکھا جائے کہ کونسی پارٹی اور کونسا امید وار اس ملک و ملت کا زیادہ مخلص ہے؟؟ کون زیادہ ایماندار ہے..؟؟ تو اسکا طریقہ بہت آسان ہے، اس کے لئے اپکو اپنے وقت میں سے محض ایک گھنٹہ نکالنا ہے. دو رف صفحات لے کر ان پہ گراف بنانا ہے. ایک گراف پہ اپ نے ورٹیکلی ہر خانے میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے نام لکھنے ہیں اور پھر ہر پارٹی کے نام کے اگے ہوریزینٹلی اس پارٹی کی خوبیاں اور اسکے کارہائے نمایاں الگ الگ خانوں میں لکھنے ہیں. اسی طرح دوسر گراف پہ اپ نے یوں ہی پارٹیوں کے نام لکھ کرآگے انکی خامیاں، انکے سکینڈلز وغیرہ لکھنے ہیں. اس طرح جو اعداد و شمار آپ کے پاس حاصل ہوں گے انکی بنیاد پہ آپ فیصلہ بہت آسانی سے کر سکیں گے کہ کس جماعت کا انتخاب بہتر رہے گا؟

یہ تو ہوئی وہ ترکیب جس سے آپ جائزہ لے سکتے ہیں، لیکن خوبیوں اور خامیوں کا تعین بھی ایک الگ جج منٹ کا متقاضی ہے. اس کے لئے آپ نے صرف یہ کرنا ہے کہ کچھ وقت کے لئے اپنی ہر وابستگی کو بھلا کر خود کو بالکل غیر جانبدار کر لینا ہے، اور کسی بھی پارٹی یا پارٹی سے جڑے فرد اور لیڈرز کا ہر وہ کام جو ملک و ملت کے مفاد میں ہو. اور اس سے ملک و قوم کو فائدہ ہوا ہو. وہ اس پارٹی کی خوبی میں لکھی.. اور ہر ایسا کام جس سے ملک و ملت کا نقصان ہوا ہو.. یا عالمی سطح پہ بدنامی ہوئی ہو، یا کسی قسم کا معاشی یا نظریاتی نقصان ہوا ہو، یا ملک میں انتشار اور بدامنی کا سبب بنے ہوں، وہ اسکی خامی کے خانہ میں لکھیں ـ اس طرح آپ اپنے زہن میں آنے والی ہر وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تحریر کریں جو کبھی کسی بھی طرح آپکے علم میں آئی ہے.. اس طرح آپ بالکل درست اور قابل اعتماد ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور تب پھر آپ کے سامنے ہر پارٹی کی پوزیشن واضح ہوگی ـ

اب اسکے بعد جو پراسس ہے وہ سب سے زیادہ اہم ہے، اور وہ پراسس یہ ہے کہ. اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو ٹھکرا کر، اپنے ذاتی مفادات کو اگنور کر کے، اپنے متسقبل، اپنے ملک کے مستقبل اور اپنی آنے والی نسلوں کی بہتری اور فلاح کے لئے صرف اپنے عقل و شعور کے ماتحت اپنے نکالے ہوے نتیجہ کے عین مطابق، اپنا فیصلہ بھی کرنے کی ہمت پیدا کرن.. یہ ہی بنیادی کام اگر بہت مشکل اور اہم ضرور ہے مگر ناممکن بالکل بھی نہیں. بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ مشکل بھی نہیں ہے..کیوں کہ آپ تو پڑھے لکھے اور باشعور جو ہیں. اب تو طرح طرح کے زرائع اطلاعات نے یہ کام بے حد آسان بنا دیا ہے. ہمیں صرف اپنے حلقے کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لینا ہے. مزید یہ کہ حلقے کی بنیادی ضروریات اور اس حوالے سے ترقیاتی کاموں کی تاریخ، اعداد و شمار کو امید وار کے وعدے وعید کی روشنی میں پرکھنا ممکن ہو سکے.

یاد رکھئے ووٹ دینا ایک سنجیدہ نوعیت کی ذمہ داری ہے. جس کی حرمت غیر سنجیدہ سرگرمیوں سے ضائع کی جاتی ہے. ریاست کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمیں اپنے اور اپنے گھروں کے ووٹ کا درست استعمال کرنا چاہئے. اگر ہم لوگ ووٹ کا اہم استعمال سیکھ جائیں تو یہ ووٹ کی طاقت اتنی مسلمہ ہے کہ صرف چند اہل اور قابل با صلاحیت افراد منتخب کر لئے جائیں تو قوم کا کارواں درست سمت کی جانب گامزن ہو سکتا ہے. ہماری قوم بہت با صلاحیت ہے. قدرت نے بے بہا وسائل کی نعمت سے نوازا ہے. اگر آج ہمارے اندر خرابیاں اور مسائل ہیں تو وہ اپنے عوامی نمائندوں کے انتخاب کے وقت ہمارے غلط یا جذباتی چناؤ کے باعث ہی ہیں. اس جانب توجہ کی ضرورت ہے کہ قانون فطرت ہے؛

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: