کیا پاکستان، اشرافیہ کے مستقل سرکس کے لئےقائم ہوا تھا؟

0

اگر آج کے مارچ کے ذریعے ، میاں صاحب اپنے لئیےعوام کی محبت کسی حد تک برقرار رکھنے کا کامیاب مظاہرہ کرلیتے ہیں تو اس کے بعد 45 دن والےعباسی صاحب، اسمبلیاں توڑ کر یا توڑے بغیر، آئندہ الیکشن کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اور الیکشن سے پہلے ایک ریفرنڈم منعقد کرائے جانے کا امکان بھی ہے کہ جس میں "عوام” کی "مرضی” کے ذریعے، نا اہلی کا "فیصلہ” واپس کروانے، ایک زیادہ "منصفانہ” بنچ تشکیل دلوانے اور ملک کے آئین کی زیادہ "جمہوری” تدوین و تبدیلی کا "مینڈیٹ” حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ یوں اس بہانے، اس نورا کشتی کے تمام کھلاڑیوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار، یعنی آرٹیکل 62/63 سے بھی جان چھڑا لی جائے گی۔

اگر عباسی صاحب یہ سب کچھ کامیابی سے کروالیتے ہیں تو اس کے بعد، نیب کے ذریعئِے، مخالفین کو جو جوابی رگڑا لگایا جائے گا اور جو سودے بازیاں ہونگی، وہ سب خاک و خون میں ایڑیاں رگڑتی، بھوک اور مصائب میں مبتلا، اپنے آئینی فلاحی حقوق سے محروم اس قوم کیلئیے کسی قیامت سے کم نہیں ہوگا۔
دیکھتے ہیں پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کے نام پر قائم اس نون لیگ کے سیاسی کھلاڑی، اس ملک کے ساتھ کل سے کس نئی کھلواڑ کا بندوبست کرتے ہیں۔
اس چارٹر آف ڈیموکریسی کی نورا کشتی نے پاکستانی قوم کے پورے دس سال مکمل طور پر ضائع کردئیے۔ یہ اس ملک کے ننگے بھوکے عوام کے مو نہوں میں اپنے وہ "میگا پروجیکٹس” ٹھونستے رہے ہیں جن میگا پروجیکٹس نے ان کے اپنے آف شور اکاوٰنٹس لبریز کردئیے لیکن عوام کے جسموں سے بچے کھچےچیتھڑے بھی نوچ لئیے۔

میں پہلے کہتا تھا کہ یہ ملک اِن ظالموں کے باپ کا نہیں، ہمارے باپ دادا کا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں اور مجھ جیسے چند اور لوگ جو اس طرح کی احمقانہ باتیں کرتے تھے، غلط تھے۔ یہ ملک تو اصل میں انہی کے باپ دادا نے ہمارے باپ دادا کے ووٹ لے کرانگریزوں سے اپنی اپنی برادریوں اور خاندانوں کی باری باری لوٹ مار کیلئیے حاصل کیا تھا۔

جس ملک میں درجنوں ٹی وی چینلز کی سکرینز پر دن دہاڑے سیکڑوں انسانوں پر گولیاں برسانے کا اور 14 جیتے جاگتے، اس وطن سے محبت کرنے والے معصوم انسانوں کے قتلِ عام کا منظرنشرہوا ہو اور پھر بھی ان مظلوموں کو آج تک انصاف نہ ملے، اور اس قتلِ عام کے ملزمان، اس ملک کی اشرافیہ ہی کا حصہ بنے رہیں اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر اس ملک میں دندناتے پھریں، کون کہتا ہے کہ وہ ملک اس کے محب وطن، پر امن عوام کیلئیے وجود میں آیا تھا۔ یہ ملک یقیناً اس میں طاقت کے بل پردندناتی، دولت کے بل بوتے پراینڈتی، محترم اشرافیہ ہی نے اپنےلئیے بنایا تھا۔ عوام تو بس اس ملک کے وجود میں آنے کے عمل کا "ایکسس بیگیج” ہیں۔ معلوم نہیں کب تک یہ سخت جان ڈھیٹ عوام، اپنے آئینی حقوق سے محرومی کے باوجود، اپنی وطن سے محبت کی وجہ سے اس اشرافیہ کی عیاشیوں کے رنگ میں بھنگ ڈالے رکھتے ہیں۔

جس ملک میں حکومت، ریاست کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی میں، کروڑوں انسانوں کیلئیے اگلے دن کے بنیادی رزق کی ضمانت نہیں لیتی، کروڑوں عوام اور مڈل کلاس کیلئیے معمولی بیماریوں تک کا علاج حکومتوں کی جانب سے میسر نہیں اور اگر کوئی اس آئینی ذمے داری کے پورا نہ کرنے پر بات بھی کرے تو حکومتی زعماء اس کا منہہ یہ کہہ کر بند کردیں کہ ہم نے جتنے میگا پروجیکٹس بنائے پیں اتنے کسی نے نہیں بنائے تو پھرسوال تو بنتا ہے کہ کیا یہ سب میگا پروجیکٹس عوام کی بہبود کے لئے بنائے گئے تھے یا یوں بہ وقت ضرورت ڈگڈگی بجانے کے لئے یا کونسا اپنے پلے سے بنائے گئے تھے؟ صد حیف ہے اس انداز حکمرانی پر کہ جب چاہو آئین اور ریاستی اداروں کے ساتھ جب چاہے کھلواڑ کرو۔ جاوٰ یار جو مرضی کرو یہاں کے آئین اور ریاستی اداروں کے ساتھ کہ خواب دیکھنے والی آنکھوں کا قصور ہے سب کہ کروڑوں عوام کے باپ دادا کو شاید کوئی بہت بڑی خوش فہمی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: