میں کون ہوں اے ہم نفسو۔ آپ بیتی احمد اقبال قسط 7

0
  • 81
    Shares

ممتاز کہانی کار، لکھاری اور دانشور جناب احمد اقبال صاحب دانش کے قارئین کے لئے خاص طور پہ اپنی داستان حیات لکھ رہے ہیں، اس سلسلہ کی چھٹی قسط ملاحظہ فرمائیے۔


ادھر میں نے میٹرک پاس کیا ادھر بابوجی کو جیسے خواب آرزو کی تعبیر مل گئی۔ ان کو ملٹری ہسپتال سے ملحق سڑک پر دو کمروں کا کوارٹر مل گیا، یہ تنگ سی سڑک سیدھی چار سو سال قدیم گورا قبرستان کو چھوتی دائیں طرف گھوم کے ہارلے اسٹریٹ جاتی تھی اور بائیں جانب نشیب میں ہوتی ڈھیری حسن آباد کی طرف نکل جاتی تھی۔ فرط اشتیاق میں ہم نے سامان اٹھانے میں دیر نہیں لگائی کوارٹر کو دیکھا تو نہ مجھے بھی کچھ یوں لگا جیسے سرحد پار مراد نگر سے وہی کوارٹر اڑ کر یہاں آ گیا ہے۔ یہاں جو تیس ایک جیسے کوارٹر تھے میرے لوٹ کر راولپنڈی آ جانے کے چند سال بعد گرادیئے گئے اور ملٹری ہوسپٹل کمپلکس کا حصہ بن کے غبار وقت میں کھو گئے۔ اس گھر کے اندر میری 1953 کی تصویروں کے عکس ابھی محفوظ ہیں جب میں 14 سال کا بچہ ہی تھا۔ بارہا سوچا کہ تمام بیٹوں پوتوں کے ساتھ اندر جا کے موجودہ مکین سے ملوں۔ بتائوں کہ میں کون ہوں اور پھر اندر ایک تصویر بنائوں جس میں گزرے ہوئے سال نظر آئیں اور محسوس ہوں۔ تساہل میں یہ نہ ہوا اور وہ ہوگیا جس کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔

کوارٹر میں دو کمرے تھے لیکن سب سے بڑی بات یہ کہ بجلی تھی، کمروں میں گورا راج کے چھوڑے ہوئے لمبی ڈنڈی والے بھاری بھرکم پنکھے لٹکے ہوئے تھے جو آج بھی اندرون سندھ کسی ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں گھومتے نظر آجاتے ہیں۔ مختصر برآمدے میں ایک طرف غسل خانہ تھا جس کا نل کھول کے کسی بھی وقت پانی لیا جاسکتا تھا لیکن سب سے بڑی بات کہ دوسری طرف اماں کا پکی دیواروں اور چھت والا باورچی خانہ تھا جس میں اب وہ بنارس ہائوس کے اوپن ایئر کچن کے عذاب سے محفوظ تھیں۔ وہ اپنے برتن اور اسباب خانہ داری اوپر تختے لگا کے سجا سکتی تھیں۔ کچن ہر عورت کی آدھی دنیا ہے اور جب میں اپنے گھروں کے امریکن اٹالین کچن دیکھتا ہوں تو مجھے اماں کا باورچی خانہ یاد آتا ہے۔ عورت اب تک وہیں قید ہے نصف صدی گزر جانے کے بعد وہ ایم ایس سی، ایم بی اے اور ڈاکٹر لڑکیاں ہیں جواپنے پیٹ سنبھالے مرد کے دل کا راستہ اس کے پیٹ میں سے تلاش کر رہی ہیں، کرتی جارہی ہیں۔

ابا جی اپنے جیسوں میں پھر معزز ہو گئے تھے اور ان کا پرانا جذبہ عود کر آیا تھا۔
ایک صبح ان کو دفتری ساتھیوں کے ساتھ برفباری دیکھنے مری جانا تھا۔ تب یہ کوئی عام واقعہ نہ تھا۔ برفباری شروع ہوتی تھی تو ریڈیو پر اعلان ہوتا تھا۔ صبح صدر میں گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کے اڈے سے 9 بجے بس روانہ ہوتی تھی جو 11 بجے کے بعد مری پہنچتی تھی تو پوری بھری ہوئی نہیں ہوتی تھی۔ سیاح 3 گھنٹے کے لیے ویران سڑکوں اور بازاروں میں برف سے کھیلتے تھے، زنگ خوردہ قفل والی دکانوں کے سامنے کتے اور کبھی کبھی گیدڑ نظر آجاتے تھے۔ لنٹوٹ LINTOT آج موجودہ واحد ریسٹورنٹ تھا جہاں چائے مل جاتی تھی 3 بجے واپسی کا سفر شروع ہونا لازمی تھا کیونکہ پنڈی میں 5 بجے رات ہوجاتی ہے۔ ابا ایک کہنی پر نیم دراز سوچتے رہے اور قدرے تاخیر سے فیصلہ کیا کہ ایک کیمرہ خرید ہی لیا جائے۔ انہوں نے مجھے 50 کا نوٹ دیا تورات ہو گئی تھی۔ باہر سرما کا سناٹا تھا۔ کیسا رکشا کہاں کی ٹیکسی۔ وہاں تو تانگہ بھی نہ تھا۔ صدر بازار دو میل تھا۔ سوچا ابا کو بتادوں کہ چوری چھپے گرتے گراتے میں نے ان کی سائیکل چلانا سیکھ لی ہے لیکن مجھے معلوم تھا اجازت ہرگز نہ ملے گی، مجبوراً پیدل روانہ ہوا۔ منہ سر لپیٹے سڑ سڑ کرتا صدر پہنچا تو بازار بند ہونے لگا تھا۔ ایک فوٹو گرافر کی دکان ملی تو اس سے دیہاتیوں کی طرح کہا کیمرہ خریدنا ہے، کس کمپنی کا کس ملک کا بنا ہوا کون سا ماڈل۔ پتا ہوتا تو بتاتا۔

اس نے میری مظلوم صورت کو دیکھا اور ایک ڈبا سامنے رکھدیاً یہ ہے جرمنی کا اگفا باکس 120۔ اس قیمت میں سب سے اچھا۔ 52 روپے۔ یہ بھی تمہارے لیے ورنہ بازار دیکھ لو۔ میں نے صورت پر فقیری کے جذبات جگا کے کہا 50 ہیں میرے پاس تو۔ اس نے پھر غور کیا اچھا؟ اس میں ایک روپیہ بارہ آنے کی فلم بھی پڑے گی۔
میں تصویر حسرت بنا کھڑا رہا تو وہ بولا ’’چلو تین روپے بارہ آنے کل دے جانا‘‘ اور فلم لوڈ کرکے باکس مجھے تھمادیا۔

آپ سے اورخدا سے کیا جھوٹ۔ میں پلٹ کے اس دکان پر نہیں گیا۔ میرے پاس وہ تاریخی تصویر موجود ہے جس میں ابا بلیک اوور کوٹ پہنے ہاتھ میں برف اٹھائے کھڑے ہیں۔ لیکن ایک اور تصویر بھی ہے جس میں 13 سال کے اقبال احمد خاں کے ساتھ وہ لڑکی اسی کوارٹر کے آنگن میں بیٹھی ہے جس کو 13 سال بعد میری زندگی کے سفر میں شریک ہونا تھا۔ واقعی عورت بڑی دور بیں ہوتی ہے۔

اسی انقلابی جذبے میں ایک دن اچانک ابا نے اعلان کر دیا ’’ہم شام کو ریڈیو خریدیں گے‘‘

اس دن ہم نے جدید طرز زندگی کی جانب پہلا قدم بڑھایا۔ شام کرنا صبح کا لانا تھا جوئے شیر کا۔ بالآخر وہ وقت آ یا کہ ہم میں قدم رکھا جس میں ہر طرف ہرشیلف TIME ND TUNE صدر میں بنک روڈپر ایک دکان ٹائم اینڈ ٹیون پر رنگ برنگے ریڈیو جیسے ہمارے لیے چشم براہ تھے۔ ریڈیو کو ہم نے دور سے سنا اور دیکھا تھا۔ کبھی کنواری لڑکی کے بدن کی طرح نظر بچا کے چھو بھی لیا تھا۔ لیکن اس وقت ہم بازار حسن کے تماشبین کی طرح خوب سے خوب تر کی طرف لپک رہے تھے۔ یہ نہیں وہ۔۔۔ وہ نہیں یہ۔۔ کرشمہ دامن دل می کشد۔۔۔ انگریز آقا کو گئے زیادہ دن نہیں ہوئےؑ تھے اور آج کی طرح جاپان نے الیکٹرانکس میں دھاک نہیں بٹھائی تھی۔ بازر میں ولایتی سامان کی طرح انگلینڈ کے بنے ریڈیو ہی تھے جن کا اب شاید نام کوئی نہیں جانتا۔۔ بش۔۔ پائی۔۔ مرفی۔۔ سنگر۔۔ ملرڈ۔ ایکو اور جی ای سی وغیرہ۔ تکنیکی تفصیلات کو اب کون سمجھے گا۔ وہ سب 300 سے 350 کے درمیان قیمت کے تھے۔ ابا نے مہنگا روئے ایک بارکے اصول پر سب سے مہنگا ’’بش‘‘ خرید لیا لیکن مجھے اور بھائی کو 20 روپے کم کا ’’جی ای سی‘‘ بھاگیا تھا۔ خرابی کی صورت میں 15 دن کے اندر بدل کر دوسرا دینے کی گارنٹی تھی۔ دو چار دن مشترکہ عقل لڑا کے میں نے اور بھائی نے اسے پیچھے سے کھولا اور نہ جانے کون سا تار الگ کیا کہ ریڈیو کی گویائی جاتی رہی۔ ہم معصوم صورت بنائے ابا کے ساتھ گئے اور جی ای سی لے آئے۔ دکاندار کے ماتھے پر شکن بھی نہ آئی لیکن بعد میں اس نےجان تو لیا ہوگا کہ ریڈیو بلاوجہ خراب نہیں ہوا تھا۔ برسبیل تذکرہ وہ دکان بھی انقلاب زمانہ کی نذر ہوئی اس کے ساتھ پنڈی کی پہچان ’’سوپرز آئس کریم‘‘ تھی اگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا تواس دور میں کہا جاسکتا تھا کہ جس نے سوپرز کی آئس کریم نہ چکھی اس نے زندگی کا مزہ نہ چکھا۔ اب اس کی جگہ ’’ملٹی چوائس شو استوار‘‘ ہے۔ دونوں میں کیا نسبت۔ لیکن وقت ایسے ہی تاریخ کے نشاں مٹاتا ہے۔

آنے والے دنوں میں اس ریڈیو نے مجھے بہت خراب کیا۔ لیکن اس کے کچھ دیگر اسباب بھی تھے جو آج تک خرابی کا سبب بن رہے ہیں۔ مجھے افتاد طبع کے خلاف ڈاکٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا اردو فارسی پڑھی تھی، اب سائنس اور ریاضی گلے پڑ گئی۔ وقت نے ثابت کیا کہ ہم یوسف زی پٹھان غالب سے امام دین گجراتی کی شاعری اور زبان یار من ترکی ہو تب بھی اس کا لو لیٹر تک پڑھ سکتے تھے لیکن الجبرا فزکس کی کتاب سیدھی نہیں پکڑ سکتے تھے۔ گورڈن کالج جیسی درسگاہ میں پروفیسر خواجہ مسعود جیسے جینیئس (بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا) ناکام ہوگئے تو میں کلاس سے اور پھر کالج سے غیر حاضر رہنے لگا۔ گھر پر نغمہ ریز ریڈیو بھی مجھے ورغلانے لگا۔ قصہ مختصر۔ میں فیل ہوگیا حالانکہ میں نے تو امتحان ہی نہیں دیا تھا۔ میں فیسیں کھا گیا تھا اور کالج سے میرا نام کٹے بھی زمانہ ہوگیا تھا۔ افشائے راز کا وقت آیا تو میں گھر سے بھاگ گیا۔ پکڑ کر واپس لایا گیا۔ اب سنجیدگی سے مسئلہ پر غور ہوا۔ اس وقت میں نے ایک دعویٰ کیا کہ مرضی کے مضامین کے ساتھ میں تین ماہ میں ایف اے کر کے دکھا سکتا ہوں اور میں نے دکھادیا۔ میرے مضامین تھے اکنومکس، سوکس، ہسٹری۔ میری تھرڈ دویژن آئی لیکن میری زندگی کا رخ بدلنے والی یہی تھرڈ ڈویژن تھی۔ پشاور کے ایڈورڈز کالج سے میں نے بی اے میں ٹاپ کیا تو میرے مضامین تھے، سائیکولوجی، معاشیات اور ایڈوانس اردو، بعد میں ایم اے کے لیے میں نے معاشیات کا انتخاب کیا تھا۔

پنڈی والے کوارٹر کے سامنے کی چھوٹی سی سڑک گورا قبرستان کو چھوتی ہارلے اسٹریٹ جاتی تھی، اس 400 سال پرانے تاریخی قبرستان میں وہ گورے بھی لیٹے ہیں جن کے آبا و اجداد ہی شاید جہانگیر کے زمانے میں سونے کی چڑیا تلاش کرتے سورت کے ساحل پر اترے تھے۔ کچھ کے سرہانے صلیبوں کے درمیان کنواری مریم اور فرشتوں کے مرمریں مجسمے ہنوز استادہ ہیں۔ اس سے آسیب کی متعدد کہانیاں وابستہ ہیں مثلاً ایک گورا اپنا کٹا ہوا سر ہاتھوں میں اٹھائے پھرتا ہے اور اکا دکا راہگیروں سے سوال کرتا ہے ’’یہ آپ کا سر تو نہیں ہے؟‘‘ میں اور ایک پیدائشی دوست اختر اکثر آدھی رات کے بعد پھرتے سر کٹے گورے سے ملنے کے شوق میں قبرستان کی دیوار پر بیٹھ جاتے تھے۔ بارہا ہم اتر کے اندر بھی پھرتے رہے حالانکہ تاریکی میں سفید مجسمے بھی بھوت نظر آتے تھے۔ مجھے ہمیشہ شوق تھا کہ جن بھوت چڑیل جیسی مخلوق سے ملوں اور اس شوق میں رات کو میں اکیلا آسیب زدہ مشہور گھروں میں رکا لیکن یہ خواہش آج بھی ہے، جتنے قصے میں نے سنے دوسروں کےسنے سنائے۔ ذاتی تجربہ کسی کا نہیں۔

قبرستان کے سامنے سے گذرنے والی سڑک آگے سے گھوم کے ہارلے اسٹریٹ جاتی تھی۔ یہ نام لندن میں ڈاکٹرز سے منسوب ہے۔ اس ویرانے میں بھی پہلے ڈاکٹر ہی آباد ہوئے۔ ایک نمبر کوٹھی سی ایم ایچ کے کمانڈنٹ جنرل میاں کی تھی جو گورنر جنرل کا آفیشل سرجن تھا، مشہور کیا گیا تھا کہ لیاقت علی خاں کو گولی لگنے کے بعد سی ایم ایچ میں آپریشن کے لیے لایا گیا تو ان کو جنرل میاں نے ماردیا لیکن یہ غلط ہے۔ اس وقت مجھے نام یاد نہیں، لیکن اس ڈاکٹر کے بیٹے ہی نے گولی لگنے کے بعد بے نظیر کا آپریشن کیا تھا، دوسری کوٹھی آفیشل فزیشن جنرل سرور نے بنائی اس کی دوسری بیوی شمس سرور روز ریڈیو پاکستان سے شام 20-5 پر دس منٹ کی مقامی خبریں پڑھتی تھی۔ میں، میرا ایک دوست انور 6 نمبر کے کرنل شیر محمد کا لڑکا انور اور جنرل میاں کا بیٹا حامد تینوں دوست تھے اور اتفاق رائے سے شمس سرور کو دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی قرار دیتے تھے لیکن اس کا حوالہ 5952 کہہ کر دیتے تھے جو اس کی کار کا نمبر تھا۔ اس سے پہلے کے انگریزی حروف یاد نہیں کیونکہ استعمال ہی نہیں کرتے تھے۔

گورنر جنرل غلام محمد ذاتی طور پر جنرل میان کا دوست تھا اور ہمارے کوارٹر کے سامنے والی سڑک سے گذر کے میاں کے گھر جاتا تھا۔ حامد کی مدد سے ہم ڈرائنگ روم کے باہر والے کسی دروازے سے لگے اندر جھانکتے رہتے تھے اور باتیں سنتے تھے۔ غلام محمد ایک شراب کے نشے میں دھت رہنے والا عیاش آدمی تھا اور کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا۔ ایک بار اس نے کرنل شیر محمد کا اس بات پر بڑا تمسخر اُڑایا کہ وہ صرف ایک بیوی سے گزارا کر رہا ہے۔ ایک بار ہم چوری چوری باتیں سنتے پکڑے گئے اور گورنر جنرل کے سامنے پیشی ہوئی تو وہ بہت ہنسا اور اس نے کہا ’’میں تو رات کو اپنےممی ڈیڈی کو چھپ چھپ کے دیکھتا تھا، تم نے کبھی دیکھا؟‘‘ اس اچانک سوال پر حامد اور انور کی اور ان سے زیادہ ان کے والدین کی حالت غیر ہو گئی۔

مقامی سیروز سینیما میں لگی اس کا ایک نیم عریاں پوسٹر Little Hut انہی دنوں میں ہالی وڈ کی ساحرہ ایواگارڈنر کی باہر لگایا گیا کہ لگتا تھا جیتی جاگتی ایوا گارڈنر سامنے موجود ہے، حامد نے اس کو چوری کر کے لانے کا پروگرام بنالیا۔ حامد کے ساتھ میں تھا اور انور۔ ہم نے رات دو بجے بڑی احتیاط سے پوسٹر کو جنرل میں کی نیلی بیوک میں رکھا ہی تھا کہ چوکیدار جاگ اُٹھا، اس نے بیوک پہچان لی جو پنڈی میں ایک ہی تھی۔ اگلے دن میاں کو رپورٹ ہوئی۔ اس روز پھر غلام محمد موجود تھا۔ میں نے اس سے شکایت کی مگر وہ نشے میں دھت تھا۔ ہنستے ہنستے اس کا حال خراب ہو گیا۔ وہ سانس بھی مشکل سے لے سکتا تھا۔ اس کے حکم پر مجرم پیش کیے گئے۔ وہ بڑی مشکل سے اُٹھا اور اس نے رعشہ والے ہاتھوں سے ہم سب کی پیٹھ ٹھونکی اور شیروانی کی جیب میں کچھ نہ ملا تو پی اے پر چلانے لگا کہ سور کے بچے میں ان شاہین بچوں کو انعام دینا چاہتا ہوں۔ ستاروں پر نہیں یہ ہالی وڈ کے فلمی ستاروں پر کمند ڈالیں گے اور میرے پاس پیسے نہیں۔ پاکستان کے گورنر جنرل کے پاس پیسے نہیں ’’پی اے نے فوراً ایک پلیٹ میں ڈال کے نوٹ پیش کیے تو وہ پلٹ گیا، اس کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی‘‘ یہ آپس میں بانٹ لینا۔ معلوم نہیں وہ کتنی رقم تھی کیونکہ وہ ہمیں نہیں ملی۔ جنرل میاں نے ہمیں بھیجا کہ ابھی جائو اور وہ پوسٹر اسی جگہ رکھو اور سیروز سینیما کے مینیجر سے معافی مانگو۔ ہم گئے تو دوسرا شو چل رہا تھا مگر کافی لوگ باہر موجود تھے۔ ان سب نے یہ تماشا دیکھا۔ رہی سہی کسر مینیجر کے کمرے میں جاکے پوری ہو گئی۔ وہاں نہ جانے کون کالی سی شوخ لڑکی بیٹھی تھی۔ اس نے کہا کہ بیوک لے کر تم آدھی رات کو میرے پاس آتے تو میں چلی جاتی تمہارے ساتھ اور پھر بے تحاشا ہنسنے لگا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

مضمون کا پچھلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: