تخلیق پاکستان کے بعد دو قومی نظریئے کی ضرورت: محمد دین جوہر

0

دو قومی نظریے کے حوالے سے ایک سوال بہت دلچسپ اور اہم ہے کہ تخلیق پاکستان کے بعد دو قومی نظریے کی ضرورت باقی ہے یا ختم ہو گئی ہے؟ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان میں قوم سازی کے لیے مسلمانوں کو کسی سیاسی نظریے کی ضرورت تھی اور اس وقت موجود سیاسی اور نطریاتی “حل” مسلمانوں کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے تھے۔ ایک طرح سے یہ “مجبوری” اور “فوری ضرورت” کی صورت حال تھی جسے دو قومی نظریے نے پورا کر دیا۔ پاکستان بننے کے بعد چونکہ یہ صورت حال ہی ختم ہو گئی اس لیے دو قومی نظریہ اب غیر ضروری ہو گیا ہے۔

اس سوال کو دیکھنے کے کئی انداز ہیں جن میں سے تین اہم ہیں۔ اول سوال یہ ہے کہ قیام پاکستان سے قبل ”فوری ضرورت کی صورت حال“ صرف سیاسی نہیں تھی، تاریخی بھی تھی۔ اس صورت حال کے کئی پہلو عارضی تھے، جنہیں سیاسی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ اس صورت حال کا جزو اعظم تھی، اور مسلمانوں کی سیاسی ضروریات اسی تاریخ سے پیدا ہو رہی تھیں۔ سیاسی صورت حال تو یقیناً تبدیل ہوئی ہے، لیکن کیا اس تاریخ کو فراموش کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہم نے قومی طور پر اس تاریخ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو پھر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ دو قومی نظریہ بھی اس تاریخ کے ساتھ کوڑا دان میں چلا جائے گا۔ جو پاکستانی برصغیر میں اپنی تاریخ پر شرمندہ ہیں، یا اسے disown کرتے ہیں، دو قومی نظریہ بھی ایسے ہی لوگوں کا بڑا مسئلہ ہے۔


سوال یہ ہے کہ کیا قومی شناخت کا مسئلہ عارضی ہوتا ہے یا مستقل؟


دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا قومی شناخت کا مسئلہ عارضی ہوتا ہے یا مستقل؟ قوموں کی شناخت کے دو پہلو ہیں۔ ایک تقدیری اور دوسرا تاریخی۔ تقدیری شناخت تو تبدیل نہیں ہوتی، لیکن تاریخی شناخت چونکہ ارادی ہوتی ہے، اس لیے تاریخی عمل سے اس میں تبدیلی آتی بھی ہے اور لائی بھی جا سکتی ہے۔ مثلاً جاپانی ہونا تقدیری امر ہے، ارادی نہیں ہے، جبکہ مسلمان ہونا ارادی ہے۔ تقدیری شناخت نسلی اور کسی حد تک لسانی وغیرہ ہے۔ نظریاتی شناخت اردای اور تاریخی ہے۔ جدید عہد میں قوموں نے اپنی سیاسی شناخت کی بنیاد زیادہ تر تقدیری عوامل اور دیومالائی تاریخی کو بنایا ہے۔ بیسویں صدی میں دنیا بھر کے مسلم معاشروں نے اپنی شناخت کو تقدیری عوامل پر منتقل کرنے کی کوشش کی، تاکہ آزادی، خوشحالی اور ترقی کی منزل سر کی جا سکے۔ لیکن کسی مسلم ملک کو بھی اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ پاکستان ایک استثنا ہے، کیونکہ ہند مسلم معاشرے نے اپنی آزادی اور تاریخی شناخت کو ہی اپنی سیاسی شناخت قراد دیا، اور تقدیری عوامل کو رد کر دیا۔ یہ ایک بہت ہی بڑا فیصلہ تھا اور اپنے اندر غیر معمولی مضمرات رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت اور معاش کے عالمی نظام میں آج بھی یہ شدید علمی بے چینی اور ثقافتی سرگرانی کا باعث ہے۔ امریکہ، یورپ اور بھارت میں دو قومی نظریے پر کافی “تحقیق” ہوتی رہتی ہے اور اس نظریے کو “سمجھنے” کے لیے بھی اب تک کئی نظریے سامنے آ چکے ہیں۔

محمد دین جوہر

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ کسی قوم کی شناخت لمحاتی، عارضی یا وقتی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ دو قومی نظریہ ایک ارادی سیاسی شناخت کا نام ہے، اس لیے اس کو تبدیل کرنے کے مطالبات بھی ادھر ادھر سے آتے رہتے ہیں۔ لیکن پاکستانی مسلمانوں کی سیاسی شناخت ایک مستقل امر ہے جب تک پوری قوم شناخت کی کسی تبدیلی پر نئے سرے سے متفق نہ ہو۔ قوموں کی شناخت ارادی فیصلے سے یا تاریخی عمل سے تبدیل ہوتی ہے اور اسے کسی چور دروازے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔
اس سوال کا تیسرا پہلو زیادہ اہم ہے۔ متحدہ ہندوستان میں ہندو مسلم مسئلہ اخلاقی یا معاشرتی نہیں تھا، بلکہ سیاسی تھا۔ جب ہم سیاسی کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو سخت مخالفانہ ماحول میں ایسی سیاسی جدوجہد درپیش تھی جس کا مقصد اقتدار تک رسائی تھی۔ سیاسی جدوجہد میں نظریے کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو چلنے میں راستے کی ہوتی ہے۔ سیاسی جدوجہد میں شریک ہر فریق اپنے اپنے سیاسی اقدامات کو نظریے ہی سے جواز دیتا ہے۔ دنیا کے کسی معاشرے میں سیاسی طاقت نظریات کے بغیر حرکت میں نہیں آ سکتی اور نہ کوئی عملی اقدام کر سکتی ہے۔

عالمی سطح پر قومیں اپنے مفادات کو بھی نظریے کی آڑ میں لے کر چلتی ہیں۔ جس طرح امن میں نظریہ اہم ہوتا ہے، اس طرح نظریے کے بغیر کوئی جنگ بھی نہیں لڑی جا سکتی۔ مسلمان اپنی روایتی سیاسی اقدار کو براہ راست اپنی سیاسی جدوجہد کی بنیاد نہیں بنا سکتے تھے، کیونکہ برصغیر کی سیاسی ساختیں بالکل ہی بدل چکی تھیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی کے ہندوستان میں کسی مذہبی جماعت کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ خلافت یا حکومت الٰہیہ کے قیام کو اپنی سیاسی جدوجہد کا مقصد قرار دے۔ اس صورت حال میں اپنے سیاسی مقاصد کو نئی سیاسی زبان میں بیان کرنا پڑا۔

قوموں کی سیاسی جدوجہد کا ایک پہلو خارجی ہوتا ہے اور دوسرا پہلو داخلی ہوتا ہے۔ قوموں کے اندر بھی سیاسی جدوجہد ہر وقت جاری رہتی ہے۔ برصغیر میں مسلمانوں کی داخلی اور خارجی سیاسی جدوجہد کو سمجھنے میں دوقومی نظریہ مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ دو قومی نظریے نے نہ صرف برصغیر کی سیاسی تقدیر کو تبدیل کر دیا بلکہ پاکستان کی داخلی سیاسی جدوجہد پر بھی بہت دور رس اثرات مرتب کیے۔ قیام پاکستان کے بعد ”شناخت“ پر حد درجہ اور غیر فطری اصرار کی وجہ سے قومی ہم آہنگی کے مسائل پیدا ہوئے اور سیاسی عمل متوازن نہ ہو سکا۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ عادلانہ معاشی نظام کی طرف پیش رفت کی جاتی۔

قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگ کی سیاسی قیادت نے دو قومی نظریے سے مذہبی جماعتوں کی سیاست کو مکمل طور پر پسپا کر دیا۔ اور پاکستان بننے کے بعد مذہبی جماعتوں نے یہی عمل جدید اور نیم سیکولر سیاسی جماعتوں کے ساتھ کیا۔ دونوں صورتوں میں دو قومی نظریے کی حیثیت مرکزی ہے۔ سادہ لفظوں میں قیام پاکستان سے قبل دو قومی نظریہ ہماری سیاست کے خارجی پہلو میں اہم تھا اور داخلی طور پر متبادل مسلم سیاست کو ختم کرنے میں بہت مؤثر رہا۔ اور پاکستان بننے کے بعد ہماری داخلی سیاست میں اس کی حیثیت مرکزی ہو گئی، یہاں تک کہ مذہبی جماعتوں نے سیکولر سیاست کے خلاف اسے بہت مؤثر طریقے پر استعمال کیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: