قیامت کا دن اور سیاسی اعمال نامے: مسعود کتابدار

1

سُخن ہائے گفتنی: 

وہ مالکِ یوم الدین ہے۔ حساب کے دن کا مالک۔ احتساب کے دن کا محتسب۔ اور دنیا میں ہر شخص کا اعمالنامہ اُس کے گلے میں لٹک رہا ہے۔ کسی کے اعمالنامے کا عنوان مارشل لاء ہے، کسی کے اعمالنامے پر سرے محل لکھا ہے، کسی پر عرب شیوخ کا عطیہ رقم ہے، کوئی اعمالنامہ پانامہ بردار ہے اور کوئی اقامہ آثار جن کے پس منظر میں سوئس بنکوں کے کھاتے ہیں جن میں کھربوں روپے پڑے، پاکستانی قوم کی تیرہ بختی پر نوحہ کُناں ہیں اور اس صورتِ حال میں اکثر یہ سوال اُٹھتا ہے کہ قیامت کیا ہے اور قیامت کب آئے گی۔ ہم سب کی طرح یہ سوال علامہ اقبال کو بھی درپیش تھا اور اُنہوں نے ایوانِ تصور میں اس سوال کو حضرت مولانا جلال الدین رومی کی خدمتِ عالیہ میں پیش کر کے جواب چاہا۔ یہ سوال اقبال کی نظم پیرِ رومی و مریدِ ہندی میں مکالمات کی صورت درج ہے۔ اقبال نے مولانا سے عرض کزاری:

کس طرح آئے قیامت کا یقیں
سرِ دیں ادراک میں آتا نہیں

تو پیرِ رومی نے مثنوی کے حوالے سے یہ جواب مرحمت فرمایا:

پس قیامت شو، قیامت را ببیں
دیدنِ ہر چیز را شرط است ایں

(ترجمہ: تو خود قیامت بن جا اور قیامت کو دیکھ لے، کیونکہ ہر چیز کو دیکھنے کی یہی شرط ہوا کرتی ہے)

تو قیامت کیسے بنا جاتا ہے ؟

ہر گھڑی، ہر آن، اور ہر پل اپنے عمل کا حساب خود کرتے رہنا قیامت ہے۔ اقبال کے ہاں اسی مفہوم میں قیامت کا ایک اور بیان بھی موجود ہے :

صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

چنانچہ اگر ہم من حیث القوم اپنے عملوں کا حساب مسلسل جاری رکھتے اور ہمارے عدل و انصاف کے اداروں پر عدل کا حقیقی مفہوم آشکار ہوتا تو وہ کروڑوں کے قرضے معاف کروانے والوں، سوئس بنکوں کے پاکستانی کھاتہ داروں اور ملک سے باہر لمبی چوڑی جائدادیں، کمپنیاں اور اثاثے رکھنے والوں سے باقاعدہ ماہانہ حساب طلب کرتے کہ اس مال کے جائز اور حلال ہونے کے ثبوت فراہم کرو۔ لیکن بد قسمتی سے ہر مالدار ہر عہدیدار اور منصبدار دوسرے ہم منصب کا ” پیٹی بھائی” ہوتا ہے، اس لیے وہ ایک دوسرے کے پردے رکھنے کو اپنا فرضِ منصبی سمجھتا ہے۔ چنانچہ جس ملک کی لوٹی ہوئی دولت دوسرے ممالک کے بنکوں میں پڑی ہو اور ملک کے عوام کی اکثریت خطِ غُربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہو، وہاں انصاف کے اعلیٰ اداروں کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا، وہاں عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اادارے ہاتھی کے دکھانے کے دانت بن کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے ملک میں ایک ہی قانون باقی رہ جاتا ہے اور وہ ہے جس کی لاٹھی اُسی کی بھینس۔

لاٹھی کون ؟ حکمران طبقہ
بھینس کون؟ عوام۔ چنانچہ لاٹھی اور بھینس کا باہمی رشتہ ہی وہ قانون جس میں پسماندہ معاشرے بندھے ہیں۔ لگے ہاتھوں یہ بھی یاد رکھ لیں کہ پسماندہ معاشرے وہ ہوتے ہیں جو قانون کی پابندی اور قانون پر عملدرامد کی صلاحیتوں سے محروم ہوتے ہیں اور اس کی ذمہ دار عدلیہ اور انتظامیہ ہوتی ہے۔ ایسے معاشرے میں طاقت ور افراد اور ادارے کمزوروں پر ہر روز ظُلم ڈھاتے ہیں اور بیچاروں، مجبوروں اور بے کسوں پر ہر روز قیامت ٹوٹتی ہے جس طرح اُس غریب لومڑی پر ٹوٹی تھی جو ایک روز خوراک کی تلاش میں جنگل میں گھات لگائے ہوئے تھی کہ اُسے اچانک ایک شیر نے گھیر لیا اور لگا اپنے دانت تیز کرنے۔ لومڑی نے شیر کے دہشت گردانہ تیور دیکھے تو بولیِ سر! مجھے مت کھائیے ورنہ قیامت آ جائے گی۔ اس پر شیر نے لومڑی کو گردن سے دبوچا اور بولا، “اے کذاب! کہاں ہے قیامت ؟”

تو لومڑی نے روتے ہوئے کہا،: “مائی لارڈ ! میرے لیے تو آ گئی ہے قیامت۔ میں تو گئی نا جان سے”۔

سو ایک قوم لومڑی کی طرح شیر کے نرغے میں ہے اور کوئی اُس کو پنجہ استبداد سے چھڑانے والا نہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت عمدہ ! مائی لارڈ۔! میرے لیے تو آگئی کمال کا بیاں کیا ہے ۔ مضمون میں اسلوب انتہائی اچھا استعمال کی ہے۔ لاشک ایک منفرد طرز کا اور سبق آموز مضمون ہے۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: