بھولا ——— ادریس آزاد

0
  • 119
    Shares

بھولا میرا یار، نام اور شکل سے کلیۃً بھولا تھا۔ اُسے سب بهولا ہی کہتے تهے، واحد میں تها جو اسے بهولا نہیں سمجهتا تها، کیوں کہ باتیں وہ سیانوں جیسی کرتا تها۔ لڑکیوں کے ہاسٹل میں درجہ چہارم کا ملازم تھا اور کام کاج کےمعاملے میں غیر معمولی حد تک پھرتیلا ۔ اکثر کہتا،

’’ادریس بھائی! میں شکل صورت سے اچھا نہیں ہوں نا تو لڑکیاں مجھے جلد ہی بھائی بنا لیتی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مجھے اُن کے آس پاس رہنے اور بھائی بن کر اُن کے کام وام کرنے کا موقع ملتارہتاہے۔ ادریس بھائی! لڑکیوں سے بہت پیاری خوشبُو آتی ہے۔ جن لڑکوں کو وہ بھائی نہیں بناتیں وہ اُس خوشبُو سے واقف ہی نہیں ہوتے۔ وہ مجھے کام بتاتی ہیں تو اپنے پاس بلاتی ہیں۔ وہ میرے سامنے اپنے بوائے فرینڈز کی باتیں کرتی ہیں۔ مجھ سے مشورے لیتی ہیں۔ مجھ سے پوچھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔’بھولے! ذرا دیکھ کر بتانا، میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘۔۔۔۔۔۔۔۔
ادریس بھائی! وہ لڑکے جن کو یہ بھائی نہیں بناتیں، اُن پر مجھے ترس آتاہے۔ وہ بیچارے بننے ٹھننے میں اتنا پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں۔ سٹائل بھی بہت مارتے ہیں۔ ہیروگیری کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی لڑکیاں انہیں دور دور سے دیکھتی اور اگر کسی کی کوئی دوستی ہے بھی تو چھپ چھپ کر ملتی ہیں۔ انہی لڑکیوں کے بیچوں بیچ، مَیں رہتاہوں ۔ وہ میرے ساتھ اپنا ہر راز شیئر کرتی ہیں۔ مجھے اتنی باتوں کا پتہ ہے ادریس بھائی! کہ آپ کو بتاؤں تو آپ کا دماغ خراب ہوجائے۔ قسم سے‘‘

وہ ہر ملاقات پر یہ بات ایک بار ضرور کرتا تھا اور پوری تفصیل کے ساتھ ۔ آخر ایک دن نہ جانے کس خیال کے تحت میں نے اُس سے کہا،

’’بھولے! وہ جو تمہیں بھائی بنالیتی ہیں تو تم بھی انہیں بہن بناتے ہو یا نہیں؟‘‘

کہنے لگا،

’’میں کیوں بناؤں بہن! اور ایسی لڑکیوں کو؟ جن کے اتنے غلط غلط کام ہیں۔ وہ مجھے سچ مچ بھائی سمجھتیں تو اُن کی آنکھوں میں میرے لیے حیا بھی ہوتی. ‘‘

میں نے حیرت سے بھولے کی طرف دیکھا، وہ ابھی بول رہا تھا،

’’ہاں لیکن ایک لڑکی ہے۔ وہ مجھے بہن لگتی ہے۔ بالکل سگی بہن‘‘

میں نے پھر حیرت سے کہا،

’’اچھا؟۔۔۔۔۔۔ واہ۔ بھولے! تم نے کبھی بتایا نہیں۔ اور وہ کیون بہن لگتی ہے بھلا؟‘‘

’’ادریس بھائی! میں جب کمرے میں داخل ہوتاہوں نا۔ تو وہ سر پر دوپٹہ اوڑھ لیتی ہے۔ وہ میری آنکھوں میں آنکھیں نہیں ڈالتی۔ بلکہ نظریں جھکا لیتی ہے۔ باقی لڑکیوں کو میری صحت کی فکر نہیں ہوتی، وہ ہر وقت میری صحت کی فکر کرتی ہے۔ میرے کھانے پینے کا پوچھتی ہے۔ مجھے گرمی میں بازار کے کام نہیں بتاتی۔ اُس کی آنکھوں میں ممتا ہے میرے لئے جیسی بہنوں کی آنکھوں میں ہوتی ہے‘‘۔

میں ہکّا بکّا بھولے کے منہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے پُوچھا،

’’ایک بات تو بتاؤ بھولے! ۔۔۔ ساری لڑکیاں تمہیں بھولے بھیّا کہہ کر پکارتی ہیں۔ وہ جسے تم بہن سمجھتے ہو، وہ کیا کہہ کر پکارتی ہے؟‘‘

اُس کی آنکھوں میں عجب سی چمک نمودار ہوئی۔ اور اس نے قدرے حیران لہجے میں کہا،

’’نہیں ادریس بھائی! سب بھیا کہتی ہیں۔ لیکن وہ ’’اسلم‘‘ کہہ کر پکارتی ہے۔ حالانکہ مجھے میرے نام سے میرے گھر والے بھی نہیں پکارتے۔ ہے نا حیرانی کی بات؟‘‘

آج اتنے سالوں بعد سوچتاہوں۔ بھولا سچ مچ بھولا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: