گیم آف تھرونز: ایک تعارف ۔۔۔۔ عاطف حسین

1
  • 155
    Shares

گیم آف تھرونز ٹیلی ویژن کی تاریخ کے مقبول ترین سلسلوں میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ سات سال سے دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ اسکی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سال اسکی پہلی قسط کو ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگوں نے براہ راست دیکھا۔ غیرقانونی طریقوں سے دیکھنے والے کروڑوں لوگ اس کے علاوہ ہیں۔

متعدد سربراہان مملکت بھی اس کے مداحوں میں شامل ہیں اور ملکہ برطانیہ بھی اس کے سیٹ کا دورہ کرچکی ہیں۔ گیم آف تھرونز کے مداحوں کو ہیری پورٹر سیریز اور جسٹین بیبر کے مداحوں سے بھی زیادہ وفادار اور جنونی سمجھا جاتا ہے۔

گیم آف تھرونز مافوق الفطرت کرداروں اور بے رحم حقیقت پسندی کا ایک ایسا غیر معمولی امتزاج ہے جس میں حقیقت اور فینٹسی کے درمیان کوئی واضح سرحد قائم نہیں رہتی۔ تمام انسانی و غیر انسانی کردار اور کہانی مکمل فرضی ہونے کے باوجود اس میں حقیقت کا تاثر اتنی شدت سے موجود ہے کہ ہم اس کے اکثر کرداروں اور کہانی کو اپنی تاریخ میں ہی نہیں بلکہ اپنے حال میں بھی زندہ و موجود دیکھ سکتے ہیں۔

گیم آف تھرونز کی کہانی ایک فرضی دنیا کے متعلق ہے۔ شو میں تو جوں جوں شو آگے بڑھتا ہےآپ کو اس دنیا کے متعلق معلومات آہستہ آہستہ ملتی جاتی ہیں۔ تاہم کہانی کی شکل میں بیان کرنے کیلئے پہلے اس کے متعلق کچھ بنیادی معلومات دینا ضروری ہے۔ اس کہانی کی دنیا دو براعظموں “مشرقیہ” (Essos) اور “مغربیہ” (Westros) پر مشتمل ہے جنہیں “بحرضیق” (Narrow Sea) ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ کہانی کا مرکز تو “مغربیہ” میں ہے تاہم اس کے کچھ اہم حصے “مشرقیہ” میں ظہور پاتے ہیں۔

“مغربیہ” (Westeros) کو شمالی حصے میں موجود “دیوار عظیم” (The Wall) دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ دیوار کے ایک طرف سات قلمرووں پر مشتمل مہذب دنیا آباد ہے جبکہ اس کی دوسری جانب غیرمہذب اقوام آباد ہیں جنہیں مہذب دنیا “جانگلوس”  (Wildlings) کے نام سے جانتی ہے۔ اسی حصے میں غیرانسانی مخلوقات بھی آباد ہیں جن میں سے ایک طاقتور مخلوق “وائٹ واکر” اس وقت انسانی زندگی کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ہزاروں سال قبل دیوار عظیم اسی مخلوق سے حفاظت کی غرض سے تعمیر کی گئی تھی تاہم یہ مخلوق چونکہ ہزاروں سال  پہلے مغربیہ کے انتہائی شمال میں واقع برفیلی زمینوں میں جاکر سوگئی تھی اس وجہ سے لوگ اب عموما دیوار کا اصل مقصد بھول چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کا مقصد جانگلوس سے مہذب دنیا کا دفاع ہے۔ دیوار پر “نگہبانانِ شب” (Night’s Watch) نامی ایک حفاظتی سپاہ مامور ہے جس کے ارکان یا تو اپنی مرضی سے اس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یا پھر مختلف مجرموں کو ان کے جرائم کی مقررہ سزاؤں دینے کے بجائے انہیں نگہبانان شب میں شامل کرلیا ہے۔ اس سپاہ میں شامل ہونے والے کبھی بھی اسے چھوڑ نہیں سکتے اور انکی بقیہ زندگی وہیں گزرتی ہے۔ “نگہبانی”چھوڑنے کی سزا موت ہے۔

مغربیہ کی مہذب دنیا سات قلمرووں پر مشتمل ہے۔ یہ قلمروئیں کبھی سات الگ الگ بادشاہتیں ہوا کرتی تھیں تاوقتیکہ گیم آف تھرونز کی کہانی کے آغاز سے کوئی ساڑھے تین سو برس قبل  ٹارگرین خاندان کا بانی ایگون اول اپنے آبائی علاقے سنگِ اژادر (Dragonstone)  سے اپنے اژادر(Dragons) لے کر ان پر حملہ آور ہوا اور ساتوں بادشاہتوں کو مغلوب کرکے ایک ہی سلطنت قائم کی۔ ایگون کی فتح کے بعد کچھ سابق شاہی خاندان تو متحدہ سلطنت کے بادشاہ کے نمائندوں کے طور پر اپنے اپنے علاقوں پر حکومت کرنے لگے جبکہ کچھ خاندان نابود ہوگئے اور ان کی جگہ نئے خاندانوں نے لے لی۔  تاریخی سات قلمروئیں بھی اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں بچیں۔ کہانی کے آغاز کے وقت مندرجہ ذیل خاندان مختلف علاقوں پر بادشاہ کی اجازت سے حکمرانی کررہے تھے:

  • سٹارک خاندان (Stark) شمال کا نگہبان تھا۔ یہ ایک قدیم خاندان ہے جو ایگون کی فتح سے پہلے مملکتِ شمال (Kingdom of North) پر بادشاہت کیا کرتا تھا۔ ان کا دارلحکومت ونٹرفیل کہلاتا ہے۔
  • ایرن خاندان (Arryn) مملکتِ کوہ و واد (Kingdom of the mountain and vale) پر حکمران تھا۔ یہ خاندان بھی قدیم زمانے سے اس علاقے پر حکمران چلا آرہا ہے۔
  • لینسٹر خاندان (Lannister) سابق مملکت صخرہ (Kingdom of the Rock) میں شامل علاقوں کا حکمران تھا۔ یہ خاندان بھی قدیم زمانے سے ان علاقوں پر حکمران چلا آرہا ہے۔
  • مارٹل خاندان (Martell) سلطنت کے انتہائی جنوب میں واقع ڈورن (Dorne) کا حکمران تھا۔ سات مملکتوں میں سے یہ وہ واحد مملکت تھی جسے ایگون اول فتح کرنے میں ناکام رہا۔ بعد میں مارٹل خاندان نے اپنی مرضی سے سلطنت کے ساتھ الحاق کیا۔
  • گریجوائے خاندان (Grejoy) جزائرِ آہن (Iron Islands) پر حکمران تھا۔ یہ خاندان اس علاقے پر ایگون اول کی فتح کے بعد حکمران ہوا۔
  • ٹلی خاندان (Tulley) سرزمینانِ رود (Riverlands) پر حکمران تھا۔ یہ خاندان بھی ایگون کی فتح کے بعد اس علاقے پر حکمران ہوا۔
  • ٹائریل خاندان (Tyrell) بلندباغ (Highgarden) کے علاقے پر حکمران تھا۔ یہ خاندان بھی ایگون کی فتح کے بعد حکمران ہوا۔
  • سرزمینان طوفان (Stormlands) براتھین (Baratheon) خاندان کے قبضے میں تھیں۔ کہانی کے آغاز کے وقت اسی خاندان کا بادشاہ رابرٹ براتھین متحدہ سلطنت کا بادشاہ تھا۔

مغربیہ میں مردانِ اول (First Men) اور اندل (Andals) دو الگ الگ نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ اول الذکر نسل کے لوگ سب سے پہلے مغربیہ میں وارد ہوئے اور اسی نسبت سے مردانِ اول کہلائے۔ ان کی آمد کے وقت مغربیہ میں ایک غیرانسانی مخلوق کودکانِ جنگل (Children of Forest) آباد تھے جن سے مردان اول کی جنگیں ہوئیں اور یہ مخلوق تقریبا معدوم ہوگئی۔ تاہم مردان اول نے کودکان جنگل سے خاصا اثر قبول کیا۔ وہ انہی کی طرح جنگل کی روحوں کی پوجا کرتے ہیں۔

اندل بعد میں مغربیہ میں وارد ہوئے اور انہوں نے جلد ہی برتری حاصل کرلی۔ مردان اول اب صرف شمال میں پائے جاتے ہیں جبکہ باقی تمام علاقوں میں اندل نسل کے لوگ آباد ہیں۔ اندل اپنے ساتھ  نیا مذہب بھی لے کر آئے جو عقیدہ ہفت خدایان (Faith of the Seven) کہلاتا ہے۔ اسی لیے ان سات خداوں کو نئے خدا اور مردان اول کے دیوتاوں کو پرانے خدا کہا جاتا ہے۔ مختلف عہد لیتے وقت لوگ عموما نئے اور پرانے دونوں خداؤں کی قسم کھاتے ہیں۔

مشرقیہ مغربیہ کی نسبت خاصا بڑا ہے۔ اس کے مغربی حصے میں نو آزاد شہری ریاستیں ہیں جن میں سے براووس(Bravos)، پینٹوس(Pentos)، مائر(Myr)، ٹائروش (Tyrosh) اور لیس (Lys) بحیرہ ضیق کے ساحلوں پر آباد ہیں، لوراتھ (Lorath) شمال مغرب میں بحیرہ لرزاں  (Shivering Sea)  کے ساحل پر آباد ہے۔ صرف دو ریاستیں نارووس(Norvos) اور قوہور (Qohor) غیر ساحلی ریاستیں ہیں جو مشرقیہ کے اندرونی حصے میں واقع ہیں۔ قوہور سے مزید مشرق کی جانب “علف زار عظیم” (Great Grass Sea) پھیلا ہوا ہے جو دوتھراکیوں (Dothrakis) کا مسکن ہے۔ یہ ایک نیم وحشی، سخت جان اور جنگجو قوم ہے جو تہذیب سے بڑی حد تک ناواقف ہے۔

نویں آزاد شہری ریاست وولانٹس (Volantis) قوہور کے جنوب میں بحرگرما (Summer Sea) کے ساحل پر واقع ہے۔ وولانٹس سے مزید مشرق کی طرف جائیں تو جزیرہ نمائے ویلیریا (Valryian Peninsula) جو کبھی عظیم ویلیریائی سلطنت کا گڑھ ہوتا تھا۔ کہانی کے آغاز سے چار سو برس قبل ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں ویلیریائی سلطنت کا یہ گڑھ اس بری طرح تباہ ہوا کہ اس کا جغرافیہ تک بدل کر رہ گیا۔ جزیرہ نمائے ویلیریا سے مزید مشرق کی طرف “خلیج اژادر” (Bay of Dragons) جو کہانی کے آغاز سے قبل “خلیجِ غلام فروشاں” (Slaver’s Bay) کہلاتی تھی۔ اس کے کنارے تین مزید شہری ریاستیں استاپور (Astapor)، یکنائی (Yunkai) اور میرین (Mereen) واقع ہیں۔ جبکہ اس سے مزید مشرق میں معلوم دنیا کے آخری حد کے قریب تجارتی شہر قارتھ (Qarth) واقع ہے۔ اس سے آگے کی دنیا کے بارے میں کچھ خاص معلوم نہیں ہے۔

کہانی کے آغاز کے تخت آہن (Iron Throne) پر رابرٹ براتھین متمکن ہے یعنی وہ مغربیہ کی متحدہ سلطنت کا حکمران ہے۔ دس برس قبل اس نے ٹارگیرین خاندان کے آخری بادشاہ ایرس دوئم (Aerys II) کے خلاف کامیاب بغاوت کے ذریعے تختِ آہن پر قبضہ کیا تھا۔ ایرس دوئم ذہنی طور پر غیر متوازن بادشاہ تھا جو خواہ مخواہ لوگوں کے متعلق شک میں مبتلا ہوجاتا اور انہیں قتل کروا دیتا۔ اسی لیے لوگ اسے “شاہِ مجنوں” (Mad King) کے نام سے یاد کرنے لگے۔ وہ اپنے داست راست اور لینسٹر خاندان کے سربراہ ٹائیون لینسٹر کی طاقت سے بھی خائف رہنے لگا اور اسے ذلیل کرنے کے مواقع کی تلاش میں رہتا۔ صورتِ حال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب اس کے بیٹے ریہگار (Rhaegar) نے شمال کے نگہبان (Warden of North) اور سٹارک خاندان کے سربراہ ریکرڈ (Rickard) سٹارک کی بیٹی لیانا (Lyanna) کو اغوا لیا۔ لیانا براتھین خاندان کے چشم و چراغ رابرٹ کی منگیتر تھی۔ جب لیانا کا بھائی برینڈن بادشاہ سے انصاف کا مطالبہ کرنے دارلحکومت “مہبطِ شاہ” (King’s Landing) تو ایرس نے اسے بغاوت کے الزام میں قید کروادیا۔ جب اس کا والد ریکرڈ سٹارک اپنے بیٹے کو لینے مہبط شاہ پہنچا تو ایرس نے اسے بھی قید کرلیا اور پھر دونوں باپ بیٹے کو قتل کروادیا۔ اس سے سلطنت کے طول و عرض میں بغاوت پھوٹ پڑی جو بالاخر ٹارگیرین خاندان کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ خود ایریس اپنے شاہی محافظ اور ٹائیون لینسٹر کے بیٹے جیمی لینسٹر کے ہاتھوں قتل ہوا۔ رابرٹ بادشاہ بن گیا اور ٹائیون لینسٹر کی بیٹی سے شادی کرلی۔

ٹارگیرین خاندان میں سے صرف ایرس کی حاملہ بیوی اور چھوٹا بیٹا ایک وفادار محافظ کی مدد سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اس کی بی وی نے بعد میں ایک بیٹی کو جنم دیا جس کا نام ڈینیریس رکھا گیا۔ بیٹی کو جنم دینے کے بعد ایرس کی بیوی بھی وفات پاگئی اور یوں صرف دو بچے باقی بچے جنہیں لے کر ان کا محافظ پینٹوس پہنچا جہاں ان کا بچپن گزرا۔

شمال میں باپ اور بڑے بھائی کے قتل کے بعد ایڈرڈ سٹارک (Eddard Stark) جو بغاوت کے دوران اپنے دوست رابرٹ کے ساتھ پیش پیش تھا نگہبان شمال مقرر ہوا۔

(جاری ہے)

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. سر بہترین اردو میں پہلی مفصل تحریر یہ شو جتنا مشہور ہوا ہر زبان میں بیان ہوا اردو میں بھی ہونا چاہیے آپ کی شکل میں ہمیں ایک بہترین رائٹر مل گیا لکھتے رہیں سلامت رہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: